 |
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی
|
وزیرِ
اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان بڑے معاشی اور اقتصادی بحرانوں کا
شکار ہے، جن کا منتخب مخلوط حکومت کو نہ صرف ادراک رکھتی ہے بلکہ ملک کو اِس
دلدل سے نکالنے کے لیے پُر عزم ہے اور ضروری اقدامات لےرہی ہے۔
ریڈیو اور ٹیلی ویژن سےقوم کے نام اپنے پہلے خطاب میں وزیرِ اعظم گیلانی نے ملک کو درپیش متعدد
مسائل اور بحرانوں کا تفصیلی ذکر کیا اور اِن سے نبرد آزما ہونے کے لیے کئی
اصلاحات اور اقدامات کا اعلان کیا۔
اُنہوں نے الزام لگایا کہ یہ مسائل پچھلے آٹھ سالہ آمریت کے
دور کا ثمرہیں ’اوراِن کی جڑیں ماضی میں
ہیں۔‘ اِس ضمن میں اُنہوں نے ملک میں
قرضے پر موٹر گاڑیاں خریدنے اور موبائل فون کی سہولتوں ذکر کیا اور کہا کہ ملک
میں صنعتیں لگانے کے بجائے درآمدات میں اضافہ کیا گیا، جب کہ پاکستان کی معیشت اِن
غیر ضروری آسائشوں کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی۔
بحرانوں کے حوالے سے،جناب گیلانی نےجِن باتوں کا ذکر کیا
اُن میں آٹے کی قلت، لوڈشیڈنگ، مہنگائی، بیروزگاری، افراطِ زر، دہشت گردی اور
انتہا پسندی، ججوں کی معزولی، غربت میں اضافہ اور آئے دِن کی خودکشیاں شامل ہیں۔
پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے، اُنہوں نے
کہا کہ بین الاقوامی منڈی میں پیٹرول کی قیمتیں 70 ڈالر سے بڑھ کر 140 ڈالر فی
بیرل ہوگئی ہیں جِس کی وجہ سے ترقی یافتہ
اور تر قی پذیر ملکوں کے لیے یکساں طور
پر معاشی مسائل بڑھے ہیں۔
اُنہوں
نے اعلان کیا کہ معزول ججوں کے بارے میں جلد قوم کو خوش
خبری دی جائے گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بلوچستان میں ماضی میں پیدا
ہونے والی تلخیوں کا ازالہ کرنے کی سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔
وزیرِ اعظم گیلانی نے 18 فروری کے انتخابات کو ملک کے لیے
امید کی ایک کرن سے تعبیر کیا، جس کے بعد ایک مخلوط جمہوری حکومت وجود میں
آئی، اور کہا کہ، ’ اس وقت تمام ادارے
آیئن کے مطابق کام کر رہے ہیں اور آئین کی بالا دستی قائم کی جاچکی ہے۔
اُنہوں نے ملک کے غریب طبقے ،خواتین، اقلیتوں، مزدوروں،
کسانوں اور سرکاری ملازمین کے حوالے سے بہتر
اجرتوں، قرضوں اور متعدد اقدامات کا
اعلان کیا، جن میں بچوں کی تعلیم اور صحت کا بہتر انتظام شامل ہے۔
وزیر اعظم نے اپنی نشری تقریر میں حکومت کے چیدہ چیدہ کارناموں اور اقدامات کو گنوایا۔
اِن اقدامات میں 34لاکھ نادار خاندانوں کو ایک ہزار روپے ماہوار امداد،14اگست سے غریبوں کے لیے بچت
کارڈ کے اجرا، ملک میں 1600نئے یوٹلٹی
اسٹور قائم کرنے کا اعلان، ریٹائرڈ حکومتی ملازمین کی ماہوار تنخواہ میں 20 فی صد
اضافہ، پاکستان کے دس بڑے شہروں میں 40ارب روپے کی لاگت سے 8000سی این جی بسیں چلانا، ملک میں 20 ارب
روپے کی لاگت سے20000لیڈی ہیلتھ ورکرز کا منصوبے کو مزید فعال بنانا، 25 لاکھ ٹن
گندم کی درآمد، سیلز ٹیکس کا خاتمہ، چھوٹے کاشتکاروں کے لیے پریمیم کی حکومت کی
طرف سے ادائگی، لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے بجلی کی پیداوار بڑھانے کے لیے چار ارب
روپے کی سرمایہ کاری شامل ہیں۔
اُنہوں نے اعلان کیا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے
کے لیے ایک وسیع قومی حکمتِ عملی مرتب کی
جارہی ہے، جس ضمن میں مخلوط جماعتوں کا ایک مشترکہ اجلاس 23جولائی کو اسلام آباد
میں منتخب ہوگا۔
اِسی طرح، بجلی کی پیداوار بڑھانے کے سلسلے میں عالمی
اداروں سے مدد لینے کے لیے 29جولائی کو واشنگٹن میں اُن کی صدارت میں ایک گول میز
کانفرنس ہوگی۔
اُنہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی اور انتہا پسندی سے جنگ
کو اپنی لڑائی سمجھتا ہے، ساتھ ہی ملک کی سرحدوں کے اندر دہشت گردی اور انتہا
پسندی سے لڑنا حکومتِ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، جس میں کسی طرح کی دخل اندازی
برداشت نہیں کی جائے گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ: ’پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں
ہے، ایٹمی اثاثے محفوظ ہیں، اور ملک کی دفاعی ضروریات پوری کی جائیں گی۔‘
پچھلے تین ماہ میں حکومتی کامیابیوں کے حوالے سے، اُنہوں نے
دفاعی بجٹ کو ایوان میں پیش کرنے، پارلیمان کے اجلاسوں کا براہِ راست
نشر کیا جانا،سیاسی کارکنوں، وکلا اور قید ججوں کی رہائی کا ذکر کیا۔
جناب گیلانی نے کہا کہ منتخب حکومت نے جس سفر کا آغاز کیا
ہے وہ رکاوٹوں اور خطرات سے خالی نہیں ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ وقت الزام تراشی
کا نہیں بلک ملک بچانے کامرحلہ ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ اس مخلوط جمہوری حکومت کو بحرانوں سے
نمٹنے کا موقع دیا جائے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ملک کو داخلی اور خارجی خطرات سے
بچانے کے لیے اور پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے متحد ہو کر کام کیا جائے۔