حکام کا کہنا ہے کہ یہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب عسکریت پسندوں نے سیکیورٹی فورسز کے ایک کیمپ پر راکٹ سے حملہ
کر کے ایک اہل کار کو ہلاک کر دیا۔
ان کے مطابق فرنیئٹر کور کے اہل کار جب حملہ آوروں کے تعاقب
میں گئے تو فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک
ہو گئے، جن میں تین سیکیورٹی اہل کار اور فوجی تعمیراتی ادارے کا ایک انجینئر بھی
شامل ہے۔
حکام نے اس واقعے میں آٹھ عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کی
تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جھڑپوں کے دوران سیکیورٹی فورسز کے 13 اہل کار زخمی ہوئے
ہیں، جن میں سے تین شدید زخمیوں کو فوجی ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔
صوبائی محکمہٴ داخلہ کے ایک افسر نے بتایا کہ یہ تازہ
جھڑپیں ڈیرہ بگٹی کے پہاڑی علاقوں میں ہوئی ہیں، جہاں ان کے بقول شدت پسندوں کی
تلاش کے لیے آپریشن شروع ہے۔
یاد
رہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے برسرِ اقتدار آتےہی بلوچی عسکریت پسندوں کو
مذاکرات کی پیش کش کی تھی اور فوجی آپریشن بند کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم زیادہ
تر سیاسی جماعتوں اور مسلح تنظیموں نے اسے مسترد کر دیا تھا۔