آج اتوار کی سہ پہر کو کشمیر کے مشہور تفریحی مقام گلمرگ میں مبینہ عسکریت پسندوں کی طرف سے کیے گئے دستی بم کے ایک حملے میں نو افراد زخمی ہوگئے، ان میں سے ایک بھاری سیاح اشوک کمار زخموں کی تاب نہ لاکر ہسپتال میں چل بسا۔ جس وقت یہ بم دھماکا ہوا، اس وقت خاصی بڑی تعداد میں مقامی اور غیر کشمیری سیاح موجود تھے۔ دھماکے کے بعد علاقے میں افراتفری پھیل گئی اور پولیس اور سیکیورٹی حکام نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ دوسری طرف ایک سرحدی ضلعے راجوری کے تھانہ منڈی علاقے میں مبینہ عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر فوجی دستوں نے اس علاقے کی طرف پیش قدمی کی، مگر ابھی وہ ہدف تک نہیں پہنچے تھے کہ عسکریت پسندوں نے گھات لگا کر ان پر حملہ کردیا۔ فائرنگ اور دستی بموں کے حملے میں ایک میجر اور پولیس کا ایک اہل کار ہلاک ہو گیا۔ جبکہ کم از کم دو فوجی شدید زخمی ہو گئے۔ اس سے پیشتر کہ عسکریت پسندوں کے خلاف جوابی کارروائی کی جاتی، وہ وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ تاہم جموں میں فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ میجر اور پولیس کا اہل کار جھڑپ کے دوران ہلاک ہوئے ہیں اور یہ جھڑپ ابھی جاری ہے ۔ علاقے میں فوج کی کمک پنچا دی گئی ہے۔ اور عسکریت پسندوں کو پکڑنے کے لیے آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔