کہا جاتا ہے کہ سیکھنے کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہے۔ لیکن اس بات کو کینیا کے ایک شخص نے سچ کر دکھایا، جو 88 سال کی عمر میں پرائمری سکول میں پڑھ رہے ہیں۔ گنییز بک آف ریکارڈز کے مطابق 88 سالہ کیمانی اینگ آنگا ماروگے دنیا کے سب سے معمر طالب علم ہیں۔ ماروگے ڈاکٹر بننے کے خواہش مند ہیں۔ لیکن جب کینیا میں ہماری نامہ نگار کیتھی میج تینائی ماروگے کے سکول گئیں وہاں دیکھا کہ فی الحال ماروگے مثلثیں بنانا سیکھ رہے ہیں۔ انھوں نے سکول میں داخلہ لینے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا: ’پادری ہمیں گم راہ کرتے ہیں۔میں نے اس لیے سکول میں داخلہ لیا ہے تاکہ خود بائیبل پڑھ سکوں۔‘ وہ کہتے ہیں کہ مجھے خدا نے سکول جانے کا راستا دکھایا ہے۔ ماروگے مغربی کینیا کے شہر ایل ڈوریٹ میں پڑھتے ہیں، جہاں کچھ عرصہ قبل پھوٹ پڑنے والے تشدد سے ان کی تعلیم متاثر ہوئی تھی۔ تین سال پہلے ماروگے نیویارک بھی گئے تھے، جہاں انھوں نے اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں مفت تعلیم کی اہمیت کے بارے میں تقریر کی تھی۔ ماروگے کہتے ہیں کہ سکول کے طلبا ان کے بچوں کی مانند ہیں۔ وہ وقفے کے دوران بچوں کو کینیا میں1950ء میں ہونے والی جنگ کے واقعات سناتے ہیں جس میں انھوں نے حصہ لیا تھا۔
ماروگے اپنے ہم جماعتوں کے درمیان
ماروگے کو ریاضی پڑھانے والی استاد جولیا وین یوئیکے کا کہنا ہے کہ ماروگے اچھے طالبِ علم ہیں اور سب کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ’جب میں ان کو دیکھ کر اپنے آپ کو دیکھتی ہوں، تو مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ مجھے اپنی تعلیم پر مطمئن ہو کر بیٹھ نہیں جانا چاہیئے۔ مجھے اور زیادہ پڑھنے اور سیکھنے کی ضرورت ہے۔‘
اب سکول میں چھٹی ہو گئی ہے۔ بچے گھر جا رہے ہیں، اور ماروگے راستے میں
ہوم ورک اور اپنے مستقبل کے سہانے خواب سجائے گھر کی سمت رواں دواں ہیں۔