ہیروئن کا بین الاقوامی کاروبار دنیا میں لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو بری طرح متاثر کررہا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں 80 لاکھ سے زیادہ افراد ہیروئن کا نشہ کرتے ہیں جو ان کی زندگی کو گھن کی طرح کھا رہا ہے۔ سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کی سرتوڑ کوششوں کے باوجود ہیروئن کانشہ کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ امریکہ میں بھی لاکھوں ایسے افراد ہیں جنہیں نشے کی لت لگی ہوئی ہے۔ سینڈرا ان میں سے ایک ہیں۔
مشرقی ساحلی شہر بالٹی مور کی6 لاکھ کی آبادی میں ہر دسواں فرد ہیروئن کا نشہ کرتا ہے۔ ان میں 34 سالہ سینڈرا بھی شامل ہے۔ وہ شہر کے مغربی حصے میں ایک قطار میں بنے ہوئے ٹوٹے پھوٹے مکانوں میں سے ایک ایک الگ تھلگ اور خستہ حال مکان میں رہتی ہیں۔
سینڈرا نے 6 سال قبل پہلی بار ہیروئن چکھی تھی۔ اور پھر اس کے بعد اب ان کی زندگی کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے اپنا نشہ پورا کرنا۔
افغانستان ، برما اور کولمبیا دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہیروئن پیدا کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ دنیا بھر میں ہیروئن کی لت میں مبتلا افراد کی تعداد 80 لاکھ ہے۔
بالٹی مور اپنے قطاروں میں بنے ہوئے خوبصورت مکانوں کے اپنے مضافاتی علاقوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ لیکن واشنگٹن ڈی سی کے شمال میں واقع یہ ساحلی شہر امریکہ میں ہیروئن کے ایک مرکز کی وجہ سے بھی جانا جاتا ہے۔ بالٹی مور میں منشیات کے انسداد سے متعلق امریکی انتظامیہ یا ڈی ای اے کے ایک عہدے دار کارل کوٹو سکی کا کہنا ہے۔ بالٹی مور شہر میں ہیروئن کے عادی افراد کی تعداد اس لیے زیاد ہ ہے کیونکہ یہاں جو ہیروئن تقسیم کی جاتی ہے وہ کوئی بہت زیادہ مہنگی نہیں ہے۔ اس لیے نشہ کرنے والے باآسانی اسے خرید سکتے ہیں۔
بالٹی مور میں زیادہ تر ہیروئن جنوبی امریکہ او روسطی ایشیا سے آتی ہے۔
سینڈرا کا کہنا ہے کہ اسے یہ پروا نہیں ہے کہ ہیروئن کہاں سے آتی ہے۔ وہ کہتی ہیں اب انہیں اس نشے میں زیادہ لطف نہیں آتا۔ انہیں سب سے زیادہ پریشانی اس وقت ہوتی ہے جب نشہ ٹوٹنے سے جسم میں اینٹھن ہوتی ہے اور انہیں ہیروئن کی شدید طلب ہوتی ہے۔
وہ تین بار گرفتار ہوچکی ہیں اور چھ ماہ قید کا ٹ چکی ہیں۔ بالٹی مور کے قریب میری لینڈ کی کیرول کاؤنٹی میں منشیات کے عادی افراد کے لیے کونسلر سو ڈوئل کہتی ہیں کہ یہ ہیروئن کا نشہ کرنے والوں کے معاملے میں یہ ایک عام بات ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ایک بار جب انہیں نشہ لگ جاتا ہے تو انہیں ہیروئن کے پیچھے بھاگنا پڑتا ہے۔ لیکن اب یہ کوئی لطف اٹھانے کی بات نہیں رہتی کیونکہ اب وہ اس کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں اور وہ مسلسل ہیروئن کی تلاش میں رہتے ہیں اور اسے حاصل کرنے کے لیے پیسے کی تلاش میں رہتے ہیں اور وہ ایسے کام کرنا شروع کردیتے ہیں جو وہ اس پہلے کبھی نہ کرتے۔ وہ اپنے والدین کی چیزیں چرانے لگتے ہیں۔ وہ اپنے پڑوسیوں کے ہاں چوری کرنے لگتے ہیں وہ جسم فروشی کرنے لگتے ہیں۔
سینڈرا جسم فروشی کرکے گذارا کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انہیں اپنی ہیروئن اور خوراک کے خرچے کے لیے روزانہ تین مردوں کے پاس خود کو بیچنا پڑتا ہے۔
سینڈرا کو نشے کی وجہ سے کئی بیماریاں لاحق ہو چکی ہیں۔ انہیں دل کا مرض ہے، ہیپاٹائٹس سی ہے جس سے ان کے جگر کو نقصان ہوسکتا ہے۔ ان کے دانت گل چکے ہیں اور یہ سب کچھ ہیروئن کے نشیئوں میں ایک عام بات ہے۔
سوڈوئل کہتی ہیں کہ ہیروئن کے عادی افراد کے پاس صرف چار راستے ہوتے ہیں۔ موت، جیل ، اسپتال یا دوبارہ بحالی۔ وہ کہتی ہیں کہ سب سے زیادہ مشکل کام غالباً بحالی کا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ہمارے بہت سے کلانٹس پہلی کوشش میں نشہ نہیں چھوڑتے۔ یہ ایک طویل دورانیے کی شدید بیماری ہے۔ ہم اس کا موازنہ ذیابیطس یا ہائی بلڈ پریشر سے کرسکتے ہیں۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ صرف ایک علاج سے فائدہ ہوجائے۔
سینڈرا نے حال ہی میں ایک بحالی کے مرکز میں داخلے کی کوشش کی تھی مگر ناکام رہیں۔ بالٹی مور میں اس کے لیے ایک مہینہ انتظار کرنا پڑتا ہے۔ آج کل سینڈرا سڑکوں پر زندگی گذاررہی ہیں اور جس قدر ممکن ہو نشے میں رہتی ہیں۔