کشمیر اور پورے بھارت میں مظاہرے اور پہیہ جام ہڑتالیں
سہیل انجم، یوسف جمیل نئی دہلی، سری نگر August 13, 2008
سری نگرمیں لوگ ایک جلی ہوئی گاڑی کو دیکھ رہے ہیں
وادیِ کشمیر کی اقتصادی ناکہ بندی کے خلاف کشمیر کی وادی میں مظاہرے آج بدھ کے روز بھی جاری رہے، جب کہ یہ سلسلہ دوسرے علاقوں تک بھی پھیل گیا ہے۔
لدّاخ کے کرگل شہر اور اس کے مضافات میں بھی لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا اور وادی کے مسلمانوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا۔ کرگل میں اکثریت شیعہ فرقے کی ہے، جسے عمومی طور سے بھارت نواز سمجھا جاتا ہے، مگر اس احتجاج میں وہ بھی شامل ہو گئے۔
جموں کے شمال میں واقع راجوڑی شہر اور قریبی دیہاتوں میں اسی طرح کے مظاہرے کیے گئے۔ راجوڑی شہر میں تقریباً دس ہزار مسلمانوں نے مظاہرہ کیا، جس کا اختتام ایک جلسے پر ہوا۔ مقررین نے انتہا پسند ہندوؤں کو خبردار کیا کہ وہ ہندو مسلم بھائی چارے کی فضا کو مکدر نہ کریں۔
سری نگر میں کرفیو کے باوجود مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا، پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس کے گولے پھینکے اور ہوائی فائرنگ کی۔ سری نگر میں آج چند گھنٹوں کے لیے کرفیو میں نرمی کی گئی، جس دوران لوگوں نے کھانے پینے کی اشیا خریدیں۔ اسی دوران اس اطلاع نے بھی مظاہرین کو مشتعل کر دیا کہ کل زخمی ہونے والوں میں سے دو افراد فوت ہو گئے ہیں۔ مشتعل ہجوم نے سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچایا اور ایک پولیس تھانے میں آگ لگانے کی بھی کوشش کی۔ اس کے علاوہ بھارت کی مرکزی ریزرو پولیس فورس کی تین چوکیوں کو بھی مسمار کردیا۔
دریں اثنا امرناتھ ٹرسٹ کے لیے زمین وقف نہ کرنے کے فیصلے کے خلاف احتجاجی کمیٹی نے جمّوں بند احتجاج میں اس ماہ کی 21 تاریخ تک کی توسیع کر دی ہے۔
دوسری طرف آج بھارت کی اکثر ریاستوں میں امرناتھ شرائن بورڈ کو زمین دینے کے فیصلے کی واپسی کے خلاف آر۔ایس۔ایس، ویشو ہندو پریشد، اور بی۔جے۔پی نے ملک گیر احتجاج کیا۔ اس کے نتیجے میں پورے ملک میں سڑک اور ریلوے ٹریفک بری طرح متاثر ہوئی۔
پورے بھارت میں پہیہ جام کا سلسلہ صبح سے شروع ہوا اور بعد دوپہر تک جاری رہا۔ پولیس نے مظاہرین کو کئی شہروں سے گرفتار کیا اور بعد میں ان کو رہا کر دیا گیا۔