ڈاکٹری ادویات کے رنگا رنگ ناموں سے ہر شخص کو تقریباً
روزانہ واسطہ پڑتا رہتا ہے۔ کون ہے جو بروفین، ویلیم، فلیجل، زینٹیک، زوکور، پروزیک
وغیرہ جیسے ناموں سے واقف نہیں ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ نام کون رکھتا
ہے اور ان ناموں کا انتخاب کیسے ہوتا ہے؟
اور اگر ہم آپ کو بتائیں کہ آج کل ایک دوا کے نام کے
انتخاب پر ڈھائی لاکھ سے لے کر 25 لاکھ ڈالر
خرچہ آتا ہے تو شاید آپ کو یقین نہیں آئے گا۔
پہلے یہ ہوا کرتا تھا کہ کمپنیاں دوا بناتے ہوئے اپنے
ملازمین سے کہتی تھیں کہ وہ اپنے پسندیدہ ناموں کی فہرست پیش کریں، جن میں سے ایک
نام منتخب کر لیا جاتا تھا۔ لیکن آج کل فارماسیوٹیکل کمپنیاں ادویات کے
نام رکھنے کے لیے دو تین برس قبل ہی مخصوص کمپنیوں کی خدمات حاصل کرتی ہیں،
جہاں تربیت یافتہ ماہرین مہینوں سر جوڑ کر بیٹھنے کے بعدکسی نام پر متفق
ہوتے ہیں۔
جب ماہرین کسی نام کا انتخاب کر لیتے ہیں تو مارکیٹنگ کے ماہرین
اس نام کو لے کر لوگوں تک پہنچ جاتے ہیں اور نام کے بارے میں ان کی آرا معلوم کرتے
ہیں کہ نام سن کر ان پر کیا اثر مرتب ہوتا ہے۔ پھر یہی نام متعلقہ ڈاکٹروں کی خدمت
میں پیش کیا جاتا ہے، کہ آخر کسی دوا کی کامیابی یا ناکامی کا دارومدار ڈاکٹروں ہی
پر ہوتا ہے۔
اس کے بعد اس نام کو فرضی ڈاکٹری نسخوں میں استعمال کرکے دیکھا
جاتا ہے کہ کہیں اس دوا کا نام کسی اور دوا سے خلط ملط تو نہیں ہو رہا۔ کیوں کہ اس
طرح کی غلطیوں کے نتائج جان لیوا بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر پاکستان میں ایک درد کش دوا Ansaid کے نام سے
دستیاب ہے۔ چوں کہ دوسرے سرکاری محکموں کی طرح پاکستانی محکمہٴ صحت کی کارکردگی بھی
قابلِ رشک نہیں ہے، اس لیے اس نے ایک اور کمپنی کو Encid نامی دوا رجسٹر کروانے کی
اجازت دے دی جو معدے کی تیزابیت کم کرنے کے کام آتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ہجے تو مختلف
ہیں لیکن بولنے میں دونوں نام بالکل ایک جیسے ہیں جس سے غلطی کے امکانات بہت بڑھ
جاتے ہیں۔
لیکن اس معاملے میں امریکہ میں بہت احتیاط برتی جاتی ہےاور وہاں
چھان بین کے بعد نام منظور کیا جاتا ہے۔
دواؤں کے نام رکھنے والے ماہرین کئی طریقوں سے کام لیتے ہیں۔ عام
طور پر وہ بالکل نیا نام گھڑ لیتے ہیں جسے سن کر مریضوں کے ذہن میں اس کے علاج کے
بارے میں مثبت تاثر قائم ہو۔ مثال کے طور پر Seroquel ڈپریشن کے علاج کے لیے
استعمال ہوتی ہے۔ اگرچہ اس لفظ کا کوئی مطلب نہیں لیکن اس کے نام سے serenity(سکون)
اور quell (آگ بجھانا) جیسے الفاظ کا تاثر ذہن میں ابھرتا ہے۔
اس کے علاوہ ماہرین چاہتے ہیں کہ نام ڈاکٹروں اور مریضوں کو جلد
ازبر ہو جائے۔ اس مقصد کی خاطرانگریزی میں کم استعمال ہونے والے حروف X,Z جیسے حروف
کا بے دریغ استعمال کیا جاتاہے تاکہ نام غیر معمولی ہونے کی وجہ سے توجہ اپنی طرف
کھینچ لے۔ Xanax، Zocor، Zyrtecاسی کی مثالیں ہیں۔
Xanax کا نام مجھے اس لیے بھی پسند ہے کہ اسے چاہے الٹا پڑھیں یا
سیدھا، دونوں طرح سے ایک ہی لفظ بنتا ہے۔
نام کے انتخاب میں اُس کے استعمال کرنے والے طبقے کو مدِ نظر
رکھنا انتہائی اہم ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ڈپریشن کی دوا Prozacبے حد مقبول تھی۔
لیکن جب اسے عورتوں میں خاص طور پر استعمال کے لیے مارکیٹ میں لایا گیا تو پروزیک
نام کچھ زیادہ ہی مردانہ معلوم ہوا۔ چناں چہ کمپنی نے دوا کا خواتین میں استعمال کے
لیے نسبتاً ’زنانہ‘سا نام منتخب کیا، Sarafem، جس میں لڑکیوں کا نام سارہ بھی شامل
ہے اور fem بھی، جس سے صنفِ نازک کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔
لیکن نام رکھنے والے ماہرین کے مسائل یہیں ختم نہیں ہو جاتے۔چوں
کہ دواساز ادارے تمام دنیا میں سرگرم ہیں، اس لیے دوا کے نام نے بھی ساری دنیا میں
سفر کرنا ہوتا ہے۔ چناں چہ ماہرین دیکھتے ہیں کہ کہیں ان کے منتخب شدہ نام کا دنیا
کی کسی اور زبان میں کوئی غلط مطلب تو برآمد نہیں ہوتا۔
چناں چہ آپ نے دیکھا کہ ادویات کا نام بچوں
کے نام رکھنے سے کہیں مشکل اور مہنگا کام ہے۔