خوفناک فلم کا آخری شو اکیلے دیکھیئے، پانچ لاکھ روپے پائیے
ہما ہارون ممبئی August 14, 2008
بھارتی فلم ساز رام گوپال ورما نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر کوئی جیالا ان کی فلم ’پھونک‘کو سینما گھر میں اکیلے بیٹھ کر دیکھ لے تو وہ اسے پانچ لاکھ روپے انعام دیں گے۔
زیرِ زمین دنیا کی فلمی پردے پر بہترین عکاسی کے لیے مشہور رام گوپال ورما کی آخری فلم ’کانٹریکٹ ‘ بُری طرح فلاپ ہو گئی تھی، لیکن وہ اس سے بالکل مایوس نہیں ہوئے اور اپنی نئی دہشت ناک فلم’پھونک‘ کی ریلیز کے لیے تیار ہیں، جو 22 اگست کو بھارت بھر میں ریلیز ہو رہی ہے۔
اس فلم کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے ورما اور ان کی ٹیم نے فلم کی مشہوری کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ اسے اکیلا دیکھنے کے خواہش مندوں سے کہا گیا ہے وہ ایک نمبر پر ایس ایم ایس بھیجیں۔ ان میں سے پانچ سورماؤں کا انتخاب کیا جائے گا، جنھیں ممبئی کے ایک سینما میں مکمل تاریکی اور تنہائی میں ’پھونک‘ دکھائی جائے گی، اور کوئی شخص بغیر وقفے کے پوری فلم دیکھنے میں کامیاب ہو گیا تو پانچ لاکھ روپے پائے گا۔
لیکن ورما کا یہ مارکٹنگ سٹنٹ انوکھا نہیں ہے، اس سے پہلے کئی خوفناک فلموں کے سلسلے میں یہ اشتہاری کرتب آزمایا جا چکا ہے۔ جب ہالی وڈ کی فلم ’اکزارسسٹ‘ریلیز کی گئی تھی تو اخباروں میں خبر آئی تھی کہ فلم کی نمائش کے دوران ساز کی طرف سے سینما گھر کے ایک مفت ایمبولنس کا اہتمام کیا گیا ہے۔ لیکن بعد میں یہ بات سچ ثابت نہیں ہو سکی۔
پاکستان میں بھی کئی ہارر فلموں کا آخری شو اکیلا دیکھنے کے اسی قسم کے انعامات کی پیش کش ہوتی رہی ہے، تاہم آج تک کسی کو اس قسم کا انعام نہیں ملا۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ ورما اس پیش کش میں سنجیدہ ہیں۔ اور اس طرح ان کی فلم کو جو شہرت ملے گی، اس کا فائدہ بالاآخر انھی کو ہو گا۔
یہ پہلی بار نہیں جب ورما نے خوفناک فلم بنائی ہے۔اِس سے قبل ورما کی ہارر فلم ’بھوت‘ کوبھی فلم بینوں نے کافی سراہا تھا۔ تاہم ورما کا دعویٰ ہے کی اُن کی نئی فلم ’پھونک ‘ اب تک کی سب سے خوفناک اور ڈراؤنی فلم ہے۔
اس کے علاوہ پھونک کے لیے ایک اور انعامی مقابلے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔لوگوں سے کہا گیا ہے کہ اگر ان کے ساتھ کالے جادو کا کوئی واقعہ پیش آیا ہے تو وہ اسے فلم سازوں کو بھیج دیں۔ دس بہترین واقعات بھیجنے والوں کو 25 ہزار روپے فی کس دیے جائیں گے، اور اگر ان میں سے کوئی واقعہ اس قابل ہوا کہ اسے ورما کی اگلی فلم کے لیے استعمال کیا جا سکے تو اس کے بھیجنے والے کو دس لاکھ روپیا ملے گا۔
بالی وڈ میں 18سال قبل تلیگو فلم ’شِوا‘ کو ہندی میں بنا کر رام گوپال ورما نےدھوم مچا دی تھی۔ اُس کے بعد اُن کی فلم’ رنگیلا ‘ نے بھی کامیابی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور اِس طرح ورما نے ہندی فلم اِنڈسٹری میں اپنا ایک منفرد مقام بنا لیا۔ ’ستیہ‘، ’کمپنی‘ اور ’سرکار راج ‘ جیسی فلمیں بنا کر اِس ذہین فلم ساز نے ثابت کیا کہ گھسے پٹے پرانے فارمولے سے ہٹ کر بھی اگرمعیاری فلمیں بنائی جائیں تو وہ ہٹ ہوتی ہے۔تاہم ورما کو فلم نقادوں کی تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ 70 کی دہائی کی سُپرہٹ فلم ’شعلے‘ کی ری میک فلم ’رام گوپال ورما کی آگ‘ اور ’نی شبد ‘جیسی فلموں کو عوام نے سرے سے مسترد کر دیا۔