بھارتی کشمیر میں لاکھوں کا اجتماع، علاحدگی پسند قیادت نے فوجی انخلا کا مطالبہ کر دیا
یوسف جمیل سری نگر August 16, 2008
آج ہفتہ کے دِن بھارتی زیرِ انتظام وادیِ کشمیر کے طول و ارض میں کئی ہزار لوگوں نے اِس بات کا اظہار کیا کہ وہ، اُن کے الفاظ میں، آزادی کی تحریک کو منطقی انجام تک پہنچا کر ہی دم لیں گے۔
سب سے بڑا مظاہرہ پامپور شہر میں ہوا جو سری نگر کے جنوب میں واقع ہے۔ یہاں حال ہی میں ہلاک ہونے والے کشمیری رہنما شیخ عبد العزیز کا آبائی گھر ہے۔
وہ گذشتہ پیر کو مظفر آباد کی طرف مارچ کرنے والے کشمیریوں پر بھارتی حفاظتی دستوں کی طرف سے کی گئی فائرنگ میں جاں بحق ہونے والوں میں شامل تھے۔
آج اُن کی رسمِ قل منائی گئی جہاں پہنچنے والے مرد و زن اور بچے آزادی کے مطالبے اور پاکستان کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ اُن کے ہاتھوں میں اوراُن کی گاڑیوں یا سواریوں پر سیاہ یا سبز رنگ کے جھنڈے لگے ہوئے تھے۔
پامپور اور یہاں پہنچنے والی ہر سڑک اور راستے پر مقامی آبادیوں نے لوگوں کے لیے مفت کھانے پینے کا انتظام کیا تھا۔
جلسہ پامپور کی عیدگاہ میں منعقد ہوا جِس میں سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بھی شرکت کی۔ کہیں بھی پولیس اور حفاظتی دستے نظر نہیں آ رہے تھے۔ غالباً اِس لیے کہ حکومت نہیں چاہتی تھی کہ اُن کے اور لوگوں کے درمیان پھر تصادم ہو۔ شاید اسِی وجہ سے پامپور سڑک کا وہ حصہ جو بادامی باغ جاتا ہے سیل کردیا گیا تھا جہاں بھارتی فوج کے دفاتر واقع ہیں۔
مجموعی طور پر جلسے اور جلوس کا سلسلہ پُر امن رہا، جب کہ توڑ پھوڑ اور ہنگامے کے اکّا دُکّا واقعات ہوئے۔
پامپور کے جلسے سے خطاب میں، کشمیری قائدین سید علی شاہ گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق نے صوبے سے فوری انخلا اور اُن قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جِن کے تحت فوج اور دوسرے حفاظتی دستوں کو شورش سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی اختیارات حاصل ہیں۔
اِس ہفتے علاحدگی پسندوں اور بھارتی فوج کے درمیان ہونے والےتصادم میں کم از کم 500لوگ زخمی ہو چکے ہیں۔
ہنگامے گذشتہ جون میں اُس وقت شروع ہوئے جب بھارتی زیرِ انتظام کشمیری ریاست نے ایک ہندو مندر کے لیے زمیں مختص کرنے کا اعلان کیا۔ مسلمانوں نے شدید ردِ عمل دکھایا، جس کے بعد حکومت نے زمیں کی الاٹمنٹ روک دی گئی۔ نتیجے میں ناراض ہندوؤں نے جلسوس نکالے اور روڈ پر رکاوٹیں قائم کیں۔
ساتھ ہی، نئی دہلی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے جمعے کے روز مظاہروں کو روکنے کا مطالبہ کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ تفرقہ پرستی کی سیاست ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔
اُنہوں نے اِس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام تنازعات بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے طے ہو سکتے ہیں۔