عراقی پولیس نے کہا ہے کہ کربلا جانے والے شیعہ زائرین کو نشانہ بنا کر کیے جانے والے تازہ ترین بم دھماکے میں چھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز ہونے والےاس کار بم دھماکے میں 9 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
زائرین کربلا جارہے تھے جہاں ہزاروں لوگ اپنے بارہویں اور آخری امام کی ولادت کی تقریب میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔
جمعرات سے اب تک تقریباً 30 شیعہ زائرین ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔
عراقی حکام نے کربلا اور اس کے گرد سیکیورٹی سخت کردی ہے اور اس مذہی تقریب کے موقع پر 40 ہزار سے زیادہ پولیس اور فوجی اہل کار متعین کیے ہیں۔
ادھر کرد حکام نے کہا ہے کہ وہ دیالہ صوبے سے اپنی افواج واپس بلا کر شہر کی سیکورٹی اور انتظام عراق کی مرکزی حکومت کے حوالے کر دیں گے۔
ایک اور خبر کے مطابق ایک امریکی فوجی عہدے دار نے کہا ہے کہ ایران میں ایرانی انقلابی گارڈز ، قدس فورس کی ایک شاخ اور لبنان میں قائم عسکریت پسند گروپ حزب اللہ ،عراق میں قاتلانہ حملوں کے لیے تربیت دے رہے ہیں۔
عہدے دار نے بتایا کہ ان کا منصوبہ امریکی اور عراقی فوجیوں کے ساتھ ساتھ عراقی عہدے داروں کو بھی نشانہ بنانے کا ہے۔
امریکی عہدے دار نے، جس نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، مغربی خبرساں اداروں کو بتایا کہ شیعوں کے خصوصی گروپس کو ایران کے شہروں قم ، تہران ، مشہد اور اہواز میں تربیت دی جارہی ہے۔
امریکی اور عراقی عہدے داروں نے ایران پر عراق میں شیعہ ملیشیاؤں کو مسلح کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ایران شورش پسندوں کی مدد کی تردید کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ عراق میں تشدد کی وجہ وہاں امریکی فوج کی موجود گی ہے۔