تیل کی قیمتوں میں اضافے نے دنیا کے بہت سے ملکوں کو ایندھن کے متبادل ذرائع کی جانب متوجہ کیا ہے۔ ان میں ایک بڑا متبادل ذریعہ ایتھنول ہے۔ ایتھنول زیادہ تر مکئی سے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ماہرین دنیا میں خوراک کی بڑھتی ہوئی قمیتوں کی ایک وجہ فصلوں سے ایندھن کی تیاری کو قرار دے رہے ہیں۔
امریکہ میں استعمال کیا جانے والا ایتھنول زیادہ تر برازیل سے درآمد کیا جاتا ہے۔ امریکہ میں پٹرول پموں پر جو پٹرول ملتا ہے ، اس میں دس فی صد ایتھنول شامل ہوتا ہے۔
برازیل دنیا کو سب سے زیادہ ایتھنول فراہم کرتا ہے اور اس کی زیادہ تر گاڑیاں اس متبادل ایندھن پر چلتی ہیں کیونکہ یہ تقریباً ہر پٹرول پمپ پر دستیاب ہے اور اس کی قیمت پٹرول سے آدھی ہے۔
برازیل میں ایتھنول کو الکوول کہتے ہیں۔ جس کا مطلب ہے فصلوں سے حاصل ہونے والا ایندھن۔
برازیل میں فروخت ہونے والی نوے فی صد نئی گاڑیاں ایتھنول پر چل سکتی ہیں۔ ایتھنول کی تیاری میں برازیل کا شمار امریکہ کے بعد دنیا میں دوسرے نمبر پر کیا جاتا ہے۔
ساؤ پالو میں قائم ایک کمپنی ڈیڈینی ایتھنول کی تیاری میں استعمال ہونے والے آلات تیار کرتی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں امریکہ میں ایتھنول کی کھپت میں اضافہ ہوگا۔
برازیل میں تیار ہونے والے ایتھنول کا زیادہ تر حصہ ملک میں ہی استعمال کرلیا جاتا ہے جبکہ وہ سالانہ ایک ارب لٹر ایتھنول برآمد بھی کرتا ہے۔
برازیل میں ایتھنول گنے سے تیار کیا جاتا ہے جبکہ امریکہ میں اسے زیادہ تر مکئی کی فصل سے بنایا جاتا ہے کیونکہ امریکہ میں گنے سے ایتھنول کی تیاری پر مکئی سے دوگنی لاگت آتی ہے۔
ماحولیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ برازیل میں بڑے پیمانے پر ایتھنول میں استعمال ہونے والی فصلیں پیدا کرنے سے ماحول کے لیے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔