زیمبیا کے صدر لیوی موانا واسا ایک فرانسیسی اسپتال میں انتقال کرگئے ہیں جہاں وہ گذشتہ جون سے بعد اسٹروک کے حملے کے بعد زیر علاج تھے۔زیمبیا کے نائب صدر روپیا باندا اور مواناواسا کے خاندان نے کہا ہے کہ ان کا انتقال منگل کی صبح ہوا۔
نائب صدر باندا نے آنجہانی صدر کے لیے فوری طورپر سات روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
زیمبیا کے 59 سالہ صدر کو 29 جون کو افریقی یونین کے سربراہی اجلاس کے موقع پر مصر میں اسٹروک ہوا تھا۔ انہیں جولائی کے شروع میں پیرس کے ایک فوجی اسپتال میں لے جایا گیاتھا۔
موانا واسا جنوری 2002ءسے جنوبی افریقہ کے اس ملک کے صدر کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ انہیں 2006ءمیں دوبارہ منتخب ہونے سے قبل ایک معمولی اسٹروک ہواتھا۔
مواناواسا کو بدعنوانی کے سدباب اور زیمبیا کی معیشت کو جدید تر بنانے کی کوششوں پر مغرب کی جانب سے سراہا گیا تھا۔ تاہم زیمبیا کے ایک کروڑ پندرہ لاکھ افراد غربت کی زندگی گذار رہے ہیں۔