سینیٹر اوباما نے فلوریڈا میں سابق فوجیوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور وہ عراق جنگ کی شروع ہی سے مخالفت کرنے میں حق بجانب تھے۔
اوباما نے اپنے حریف جان میک کین سے کہا کہ وہ ان کی حب الوطنی سے مزید حملے کرنے سے باز آ جائیں:
’میں نے یہ کبھی نہیں کہا اور نہ کبھی کہوں گا کہ سینیٹر میک کین قومی سلامتی کے معاملات میں سیاست اور ذاتی مقصد کو ترجیح دیتے ہیں۔ میں نے ایسا نہیں کہا کیوں کہ میں سمجھتا ہوں کہ وہ امریکی مفادات کی خلوص سے پیروی کرنا چاہتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اس بات کو تسلیم کریں کہ میں بھی ایسا ہی چاہتا ہوں۔ ‘ اوباما نے کہا کہ ’میں یہ بات صاف صاف کہہ دینا چاہتا ہوں کہ میں کسی کو اپنے وطن کے لیے محبت پر سوال اٹھانے کی اجازت نہیں دوں گا۔‘
اس سے ایک روز قبل جان میک کین نے کہا تھا کہ سینیٹر اوباما اپنے سیاسی مقاصد کو قومی مفاد سے بالاتر رکھتے ہیں، کیوں کہ بقول میک کین، وہ عراق جنگ کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔
میک کین اوباما کی طرف سے عراق سے فوجوں کے انخلا کے ٹائم ٹیبل کی مخالفت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اوباما بش انتظامیہ کی طرف سے عراق میں فوجوں میں یک لخت اضافے کی کامیابی کو تسلیم نہیں کرتے۔ ’گذشتہ واقعات کا جائزہ لیتے ہوئے بھی وہ امریکہ کے لیے کامیابی اور جیت کی بجائے ناکامی کا راستا چنتے ہیں۔ مختصر یہ کہ دونوں صدارتی حریفوں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ جنگ ختم کر کے عراق سے فوجوں نکال لیں گے، بڑا فرق یہ ہے کہ میں پہلے اس جنگ کو جیتنے کا ارادہ رکھتا ہوں،‘میک کین نے کہا۔
عراق پر بحث و تمحیص کے علاوہ دونوں صدارتی امیدواروں اپنا اپنا نائب صدارتی امیدوار چننے پر بھی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
جان میک کین
توقع ہے کہ اوباما پہلے اپنا ساتھی منتخب کریں گے، کیوں کہ ان کا ڈیموکریٹک کنونشن پیر کو امریکی ریاست کولاراڈو کے شہر ڈینور میں شروع ہو رہا ہے۔ ذرائعِ ابلاغ کے مطابق ڈیلاویر کے جو بائڈن، انڈیانا کے ایوان بے اور ورجنینیا کے گورنر ٹم کین اس دوڑ میں پیش پیش ہیں۔
جان میک کین اپنے امیدوار کا نام یکم ستمبر کو منی سوٹا میں ری پبلکن پارٹی کے کنونشن کے موقعے پر کریں گے۔ زیادہ تر لوگ اس سلسلے میں منی سوٹا کے گورنر ٹم پالنٹی، میسا چیوسٹس کے سابق گورنر مٹ رامنی اور پینسلوینیا کے سابق گورنر ٹام رج کے نام لے رہے ہیں۔