ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے صدرات کے عہدے سے مستعفیٰ ہونے پر امریکہ میں آباد پاکستانی کمیونٹی نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا۔
کچھ پاکستانیوں کا کہنا تھا کہ مشرف کے دور اقتدار میں ملک میں معاشی شعبے میں نمایاں ترقی ہوئی۔ زر مبادلہ کے ذخائر بڑھے، فی کس آمدنی میں اضافہ ہوا۔ ٹیلی کمیونیکشن کے شعبے میں انقلاب آیا اور الیکٹرانک میڈیا نے بے مثال ترقی کی۔
ان کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دنیا میں پاکستان کی عزت ا ور قدر و منزلت میں اضافہ ہوا اور انہوں نے ایک روشن خیال پاکستان کا تصور بڑی کامیابی سے پیش کیا۔
دوسری جانب امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کے ایک طبقے کا کہنا تھا کہ صدر مشرف نے اپنے اقتدار کو تقویت دینے کے لیے اقدامات کیے۔ انہوں نے ان ججز کو نکال باہر کیا جنہیں وہ اپنے اقتدار کے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔ انہوں نے میڈیا اور سول سوسائٹی پر مظالم کیے۔ ان کے دور میں پاکستان میں طالبان اور بلوچستان میں شورش کا مسئلہ پیدا ہوا۔ لال مسجد کا سانحہ ہوا۔ ان کے عہد میں ایک بھی نیا پاور پلانٹ نہیں لگایا گیا جس سے بجلی کا سنگین بحران پیدا ہوا۔
امریکیوں نے مشرف کے استعفے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ کے بہترین دوست تھے اور اسی وجہ سے انہیں ایوان صدر سے نکلنا پڑا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف امریکہ کے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور القاعدہ کا زور توڑنے میں اہم ترین خدمات سرانجام دیں۔ ان کی رائے تھی کہ مشرف کے منظر سے ہٹنے کے بعد پاکستان میں جمہوریت مضبوط ہونے کا امکان ہے۔