 |
| مولانا فضل الرحمن اور اسفند یار ولی |
معزول ججوں کی بحالی سمیت آئندہ صدر ات کے امیدوار پر حکمران اتحاد کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کے خاتمے کی ذمہ داری اتحاد میں شامل جمعیت علماء اسلام(ف) اور عوامی نیشنل پارٹی کو سونپی گئی ہے اور اسی سلسلے میں بد ھ کو ان جماعتوں کے رہنماؤں مولانا فضل الرحمن اور اسفند یار ولی کے درمیان مذاکرات ہوئے ۔ جس کے بعد مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس ثاثر کو رد کیا کہ حکمران اتحاد میں شامل جماعتیں کسی معاملے پر جمود کا شکا ر ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے ان اطلاعات کی بھی نفی کی ہے کہ آصف علی زرداری معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بحال نہیں کرنا چاہتے۔
اسفند یار ولی نے اس موقع پر کہا کہ حکمران اتحاد نے جو بھی وعدے کئے ہیں وہ پورے ہو جائیں گے۔عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ نے وکلاء کی جانب سے ان کی جماعت پر عدلیہ کی بحالی میں رکاوٹ کے الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نے ججوں کی بحالی کی تحریک میں بھرپور حصہ لیا ۔
واضح رہے منگل کو حکمران اتحاد کے اجلاس کے اختتام پر مولانا فضل الرحمن اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے ججوں کی بحالی کے حوالے سے حکمران اتحاد کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مابین پائے جانے والے اختلافات کے خاتمے اور اس سلسلے میں اپنی جماعتوں سے مشاورت کے لیے 72 گھنٹوں کا وقت مانگا گیا تھا جو جمعے کو ختم ہو رہا ہے۔
ادھر حکمران اتحاد کے مستقبل کے حوالے سابق سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر ججوں کی بحالی اور آئندہ صدر کے انتخاب کے حوالے سے اتحاد میں معاملات اتفاق رائے سے طے پا جاتے ہیں تو موجودہ اتحاد نہ صرف قائم رہ سکتا ہے بلکہ ان کے بقول قانون کی عمل داری اور معاشی استحکام ایسے بڑے چیلنجوں سے نمٹے میں بھی مدد ملے گی۔