Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

فراق گورکھپوری کی یاد میں


August 27, 2008

Firaq Gorakhpuri
فراق گورکھپوری
فراق کو اپنی شعری عظمت کا احساس تھا۔ اسی لیے اکثر مشاعروں میں وہ یہ شعر پڑھتے تھے۔

آنے والی نسلیں تم پر رشک کریں گی ہم عصر و
جب بھی ان کو خیال آئے گا تم نے فراق کو دیکھا تھا

لیکن ابھی فراق کے انتقال کو ربع صدی سے زائد ہی عرصہ گزرا ہے اور ان کے اشعار کی چمک ماند ہو نے لگی ہے۔ اس کا سبب جو بھی ہو مگر ربع صدی میں صرف 1996ء میں ہی فراق کا کچھ ذکر آیا۔ جو ان کی پیدائش کا صدی سال تھا۔ اس موقع پر ہی سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر دو چار سیمنار ہو ئے۔مگر ان کی شاعری پر سنجیدگی سے اظہا رخیال نہیں ہوا۔

اس کے علاوہ 2003ء میں کراچی میں ایک تین روزہ سیمینار بھی منعقد کیا گیا تھا جس میں فراق کی زندگی اور فن پر مقالے پڑھے گئے تھے۔

اردو شاعری کی ایک تثلیث تھی، جو جو ش ،فراق اور مجاز پر مشتمل تھی۔ مجاز کا جوانی میں ہی انتقال ہو گیا تھا، مگر اپنی رومان پرور شاعری کے سبب ان کا نام اب بھی زندہ ہے۔ جو ش کو شاعر انقلاب کا خطاب ملا اور وہ اپنے الفاظ کی گھن گرج کے سبب علاحدہ شناخت کے حامل ہیں اور فراق کو اساطیر اور ہندو دیو مالا کے استعمال کے سبب منفرد مقام حاصل ہے۔ مگر اس کے باوجد ان کی شاعری کے اوصاف کو اجاگر کرنے پر ناقدین نے زیادہ توجہ نہیں دی۔

رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری 28اگست 1896ءکو گورکھپور کے ایک معزز کائستھ خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ فراق کا آبائی گاوں بنوار پار تحصیل بانس گاوں، گورکھپور، اترپردیش میں واقع ہے۔ ان کے آباءکو شیر شاہ سوری کے دور حکومت میں یہ علاقہ جاگیر کے طور پر ملا تھا اور تبھی سے خاندان ’پانچ گاوں کے کائستھ ‘کے نام سے مشہور ہے۔ ان کے والد بابو گورکھناتھ پرساد شہر کے نامور وکیل تھے۔ وہ اردو کے شاعر تھے اور عبرت تخلص کرتے تھے۔ اس لحاظ سے شاعری فراق کو ورثہ میں ملی تھی۔

فراق کی ابتدائی تعلیم گورکھپور میں ہوئی تھی۔اس کے بعد اعلی تعلیم کے لئے وہ الہ آباد چلے گئے اور پھر ہمیشہ وہیں کے ہو رہے۔ الہ آباد یونیورسٹی میں 1930ءمیں انگریزی کے استاد ہوئے اور پھر پوری زندگی الہ آباد میں ہی گزاری۔

فراق کی زندگی کا سب سے کربناک پہلو ان کی خانگی زندگی ہے۔ ان کی شادی 18سال کی عمر میں کشوری دیوی سے ہوئی تھی۔ فراق اس المیہ کا ذکر نقوش لاہور کے شخصیات نمبر میں یوں کرتے ہیں۔

’اندازاً 18سال کی عمر میں میری شادی کر دی گئی۔ میری شادی نے میری زندگی کو ایک زندہ موت بنا کر رکھ دیا۔ زندگی کے عذاب ہو جانے کے باوجود میں نے خودکشی نہیں کی ، نہ پاگل ہوا ، نہ جرائم پیشہ بنا زندگی کی شرافت کی جو قدریں مان چکا تھا ان کا میں نے سہارا لیا۔‘

ان کی زندگی کے اس کربناک پہلو کا ذکر فراق کے جگری دوست جوش ملیح آبادی اپنی سر گذشت ’یادوں کی برات ‘ میں یوں کرتے ہیں ’کہ ان کا جو اپنی رفیقہ ٴحیات سے برتاؤ تھا وہ سینہٴ انسانیت کا ہولناک گھاؤ ہے اور شدائد سے تنگ آکر ان کا بیٹا خود کشی کر چکا ہے۔‘

فراق صاحب کا یہ کرب انہیں شاعری کی جانب لے گیا۔ انہوں نے 1922ء سے شاعری شروع کی تھی اور ابتدائی دور میں وسیم خیر آبادی سے اصلاح لی تھی، جو امیر مینائی کے شاگرد تھے۔ فراق نے شعوری طور پر کوشش کی ہے کہ وہ اسلوبِ میر کو برتیں:

فراق شعر وہ پڑھنا اثر میں ڈوبے ہوئے
کہ یاد میر کے انداز کی دلا دینا

تمام شبنم و گل ہے وہ سر سے تابہ قدم
رکے رکے سے کچھ آنسو، رکی رکی سی ہنسی

اب اکثر چپ چپ ہی رہے ہیں، یوں ہی کبھی لب کھولیں ہیں
پہلے فراق کو دیکھا ہوتا، اب تو بہت کم بولیں ہیں

میر اور فراق بنیادی طور پر غزل کے عشقیہ شاعر ہیں۔ مگر دونوں کے عشق میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ میر کا عشق ان کے رگ و پے میں پیوست ہے۔ ان کو ذرے ذرے میں عشق نظر آتا ہے، یہاں تک کہ خود محبوب کی ذات اور اس کا حسن و جمال پس منظر میں چلا جاتا ہے اوراگر کچھ ان کے سامنے ہو تا ہے تو خود ان کا عشق۔ مگر فراق کا عشق موجودہ دور کا عشق ہے جو سر تا سر مجازی ہے:

وہ کوئی یوں ہی تھا جس نے مجھے مٹا ڈالا
نہ کوئی نور کا پتلا، نہ کوئی ماہ جبیں

وہ بے قراریِ دل و فضائے تنہائی
وہ سرزمینِ محبت، وہ آسمانِ فراق

رات بھی نیند بھی کہانی بھی
ہائے کیا چیز ہے جوانی بھی

اگرچہ فراق نے رباعیاں اور نظمیں بھی لکھی ہیں، لیکن بنیادی طور پر وہ غزل کے شاعر تھے۔ ان کے کئی شعری مجموعے شائع ہوئے ہیں جن میں شعلہٴ ساز (1945)، روحِ کائنات (1945ء) رمز و کنایت (1947ء)، شبنمشتان (1947ء) وغیرہ شامل ہیں۔ تاہم افسوس کی بات ہے کہ یہ تمام مجموعے بازار میں دستیاب نہیں ہیں۔

فراق نے تنقید بھی لکھی۔ ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ’اندازے‘کے نام سے شائع ہوا، جسے تاثراتی تنقید کا عمدہ نمونہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے ’اردو کی عشقیہ شاعری‘اور ’اردو غزل گوئی‘ کے نام سے بھی کتابیں لکھیں۔

1961ء میں فراق کو بھارت کی ساہتیہ اکیڈمی کی جانب سے اعلیٰ ترین ادبی اعزاز سے نوازا گیا۔

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
لاہور میں عالمی پرفارمنگ آرٹس میلے کے قریب بم دھماکے

  مزید خبریں
القاعدہ عالمی مالیاتی بحران سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں
اوباما سے مشرق وسطیٰ کی توقعات
ایلوس پریسلی مرنے کے 30 سال بعد بھی رائلٹی میں پہلے نمبر پر
آسٹریلیا  میں  امام  خواتین کے حقوق  کونظر انداز کر رہے ہیں: رپورٹ
کرکٹ کے معیار میں زوال آیا ہے: باسط علی
امراؤجان ادا کے خالق مرزا محمد ہادی رسوا، ہر فن مولا شخصیت
میڈونا اور رچی میں طلاق
گیس کے نرخوں میں  اضافے کی منظوری
2011ءتک روز گار کے 25لاکھ نئے مواقع: اوباما کا منصوبہ
ایران میں اسرائیل کے جاسوس کو پھانسی کی سزا
سماٹرا کے قریب سمندر کی تہہ میں طاقتور زلزلہ
زمبابوے پر مگابے راج ختم ہونا چاہیے : بُش
چین کی جانب سے امریکی رپورٹ کی مذمّت
جرمنی میں حزب اللہ کے ٹیلی ویژن پر پابندی
پاکستان کے سرحدی علاقے بدستور چیلنج ہیں: نیٹو اجلاس
کوئٹہ میں شیعہ عالم ہلاک
آزاد منڈیاں اقتصادی ترقی کے عظیم محرکات ہیں: بُش
لیبیا میں 36 سال بعد پہلے امریکی سفیر کی تعیناتی
جلا وطن تبتّی چین کے ساتھ مفاہمت کے خواہاں
عرا قی پارلیمنٹ  میں امریکی سیکیورٹی سمجھوتے پر رائے شماری
نیند کا مقصد کیا ہے؟
افغان مارکیٹ میں بم کا دھماکا
صومالی بحری قزاقوں نے یونان کے جہاز کو چھوڑدیا
امریکی شہریوں کو پاکستان کا سفر نہ کرنے کی تلقین
ق مکمل طور پر متحد ہے: چودھری شجاعت
اسلحے کو جدید بناؤ: چلٹن
شمالی وزیرستان میزائل حملہ، راشد رؤف ہلاک
”پاکستان جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہیں کرے گا“
اگلی دو دہائیوں میں امریکی رسوخ کم ہو جائے گا: انٹیلی جنس رپورٹ
کرکٹ ٹیم پاکستان بھیجنا دانش مندی نہیں ہو گی: بھارت
اونی ہاتھی کا ڈی این اے پڑھ لیا گیا
’تارے زمین پر‘ کی کہانی معموں کی کتاب سے چرائی گئی ہے؟