Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

آدھی رات کا سورج ۔۔۔ پانچویں قسط: قریش کا پردیسی عقاب


August 27, 2008

Abd ar Rahman
عبدالرحمٰن اول کا مجسمہ سپین کے ساحلی شہر المونیکار میں نصب کیا گیا ہے۔ وہ یہیں سے اندلس میں داخل ہوا تھا۔
سارہ قوطیہ کو دیکھتے ہی میری تمام پرانی یادیں تازہ ہو گئیں۔ سترہ برس قبل وہ رصافہ میں میرے دادا خلیفہ المومنین ہشام عبدالملک کے دربار میں پیش ہوئی تھی تو خلد آشیانی نے اس کے ساتھ شفقت و ہم دردی کا برتاؤ کیا تھا۔ میں اس وقت بہت چھوٹا تھا لیکن مجھے خاص طور پر اس کی شادی کی تقریبات یاد ہیں جو بڑی دھوم دھام سے منائی گئی تھیں اور ان میں تمام اموی خانوادے نے حصہ لیا تھا۔

میرے صحرانورد اموی اجداد کو دمشق کے قدیمی شہر کی بھیڑ بھاڑ پسند نہیں تھی اس لیے انھوں نے صحرا میں رصافہ کے مقام پر ٹھکانا بنا لیا تھا جہاں ہمارے خاندان کے تمام افراد اکٹھے رہتے تھے۔ صحرا کے بیچوں بیچ بلند دیواروں کی پناہ میں گھرا ہوا یہ نخلستان ہماری چھوٹی سی دنیا تھی۔

یہاں ویسے تو دنیا جہان کی آسائشیں مہیا تھیں لیکن میری عمر کے سبھی اموی شہزادوں کو سخت محنت و مشقت بھی کرنا پڑتی تھی۔ ہماری تعلیم کے لیے سلطنت کے اعلیٰ ترین اتالیق مقرر کیے گئے تھے، جو ہمیں صرف و نحو سے لے کر جغرافیہ اور ریاضی اور امورِ سیاست اور کاروبارِ ریاست جیسے مضامین پڑھاتے تھے۔ سہ پہر کے بعد تیراندازی، شمشیر زنی اور گھڑسواری کی تربیت دی جاتی تھی۔ دادا محترم اگرچہ مذہب کے بڑے پابند اور سخت گیر مشہور تھے، لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ علوم و فنون میں بھی دل چسپی رکھتے تھے۔ دوسری زبانوں سے علمی کتابوں کو عربی میں منتقل کرنے کا سلسلہ انھی کے دور میں شروع ہوا تھا۔  وہ ہفتے میں ایک دو بار خود آ کر ہماری تعلیم و تربیت کا جائزہ لیا کرتے تھے اور اچھی کارکردگی دکھانے والے بچوں میں تحائف بانٹا کرتے تھے۔

لیکن اسی دوران اس وسیع مملکت کے کئی حصوں میں بدامنی پھیلنا شروع ہو گئی تھی۔ ایرانیوں کی سازشیں، علویوں کا فتنہ، بربروں کی شورش اورسب سےبڑھ کرعباسیوں کی ریشہ دوانیوں نے خلافت کی بنیادیں کھوکھلی کرنی شروع کر دی تھیں۔ جنت مکانی ہشام بن عبدالملک کے دور کے بعد تو جیسے فتنوں کے کواڑ کھل گئے۔ یکے بعد دیگرے میرے کئی چچا اقتدار میں آئے لیکن ان میں سے بعض تو صرف چند ماہ ہی مسندِ خلافت پر فائز رہ پائے۔ بالآخر میرے عم زاد اور دمشق کے آخری اموی خلیفہ مروان ثانی نے یوں تو کئی برس حکومت کی لیکن ان کے عہد میں عباسیوں نے خلافت کے مشرقی صوبے ہتھیانا شروع کر دیے تھے۔

اور پھر وہ دن آ گیا جو میری یادداشت میں پتھر کی لکیر کی طرح نقش ہو کر رہ گیا ہے۔ مجھے آج بھی ایسے لگتا ہے جیسے کل کی بات ہو۔ میں اس وقت انیس برس کا تھا اوراس دن رصافہ میں خیمے میں بیٹھا ہوا اپنے بیٹے کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ ہلکی ہلکی بارش کا سلسلہ جاری تھا۔ اچانک باہر سے شور و غل سنائی دیا۔ میں نے خیمے سے باہر نکل کر دیکھا کہ تمام شاہی گاؤں میں زبردست کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ کچھ آگے گیا تو مجھے دشمن دستوں کے لہراتے ہوئے سیاہ پھریرے نظر آگئے۔ اس اثنا میں میرا تیرہ سالہ بھائی یحییٰ دوڑتا ہوا میری طرف آیا، ’بھائی، بھاگو، یہ سیاہ پرچم بنو عباس کے ہیں۔‘اگرچہ مجھے معلوم تھا کہ اقتدار کی ریت ہمارے خانوادے کے ہاتھوں سے پھسلتی چلی جا رہی ہے لیکن اختتام یوں یک لخت سر پر آ جائے گا، اس کا مجھے اندازہ نہیں تھا۔

Umayyad Empire
عبدالرحمٰن کے دادا خلیفہ ہشام کے زمانے میں اموی سلطنت آبادی کے لحاظ سے دنیا کی تاریخ کی تیسری سب سے بڑی سلطنت تھی۔ اس وقت دنیا کی کل آبادی کا ایک تہائی حصہ اموی خلافت کے زیرِ نگیں تھا
سوچنے سمجھنے کا وقت نہیں تھا، میں فوراً خیمے کے اندر گیا، کچھ جواہر اور دینار لے کر پٹکے میں اڑسے، اپنے بیٹے کو اٹھا کر کندھے پر ڈالا اور بھائی کے ساتھ بھاگتا ہوا وہاں سے نکل گیا۔ میری بہنیں اوپر مکان میں موجود تھیں، جاتے جاتے میں ان کو بتاتا گیا کہ میں مشرق کا رخ کر رہا ہوں اور مصر پہنچ کر انھیں اپنی خیریت کی اطلاع دوں گا۔ وہ چیختی چلاتی رہ گئیں۔

اس محشر کے عالم میں میرے ذہن میں یہی آیا کہ کسی طرح افریقیہ کا رخ کیا جائے۔ بیچ میں ہزاروں میل کا فاصلہ حائل تھا اور میں جانتا تھا کہ اس سفر میں مجھے خون کے دریا عبور کرنا پڑیں گے، کیوں کہ آج کے واقعات سے ظاہر تھا کہ خلافتِ بنو امیہ کا چراغ گل ہو چکا ہے۔ ایسے میں وفادار صوبے دار اور عمال یوں وفاداریاں تبدیل کرتے ہیں جیسے صحرا کے ریتلے ٹیلے ہوا سے جگہ بدلتے رہتے ہیں۔

دور سے زخمیوں کی فریادیں سنائی دے رہی تھیں، جلتے ہوئے مکانوں اور خیموں سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ عباسی خاص طور پر میری تلاش میں ہوں گے، کیوں کہ میں خلافت کے متوقع ولی عہدوں میں سے ایک تھا۔ ہم دیوار سے کود کر رصافہ کے عقب میں پہنچ گئے۔ شاہی اصطبل کی طرف جانے کا موقع نہیں تھا۔ ہم دیواروں اور درختوں کی اوٹ لیتے، لوگوں سے بچتے بچاتے رصافہ کی حدود سے نکل گئے۔

اسی دوران میرا وفادار ملازم بدر بھی ہمارے ساتھ ہو لیا۔ اس نے بتایا کہ اموی خاندان کے تمام مردوں اور لڑکوں کو چن چن کر موت کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے، اور عباسی شکاری کتوں کی طرح میری تلاش میں ہیں۔ صورتِ حال کی سنگینی اب کھل کر سامنے آ گئی تھی۔ کہاں چند لمحے قبل میں شاہی احاطے میں خوابوں خیالوں جیسی حسین زندگی بسر کر رہا تھا، اور اب یکا یک بنو امیہ کا واحد بالغ فرزند بچ جانے کے ناطے مجھے نہ صرف  اپنی جان بچانی تھی، بلکہ ساتھ ہی ساتھ اپنے تیرہ سالہ بھائی اور کم سن بیٹے کی زندگیوں کی بھاری ذمے بھی مجھ پر عائد ہو گئی تھی۔  

ہم بھاگتے بھاگتے فرات کے کنارے ایک مکان کے قریب پہنچے۔ گھر کا مالک مجھے جانتا تھا کیوں کہ میں اور میرے عم زاد اکثر شام کے وقت گھڑ سواری کرتے ہوئے اس علاقے سے گزرا کرتے تھے۔ اس نے ہمیں یوں بے بدحواسی کی حالت میں دیکھا تو بڑا حیران ہوا۔ میں نے اس سے درخواست کی کہ وہ دینار لے کر ہمیں تین گھوڑے اور اشیائے خوردونوش دے دے تاکہ ہم اپنا طویل سفر جاری رکھ سکیں۔ اس نے کہا کہ آپ بالکل فکر نہ کریں، میں بنو امیہ کا نمک خوار ہوں، میرے بس میں جو بھی ہو گا، آپ کی خاطر کروں گا۔

اس نے ہمیں اپنے گھر کے ایک کمرے میں بٹھا دیا اور خود اندر چلا گیا۔ اب اسے چھٹی حس کہیں یا کچھ اور کہ مجھے اس کا خلوص مصنوعی معلوم ہوا۔ میں نے دروازے کی درز سے آنکھ لگا کر دیکھا کہ وہ بیرونی دروازے پر کھڑا اپنے غلام کو کچھ ہدایات دے رہا ہے۔ غلام فوراً گھوڑے کو سرپٹ بھگا کر وہاں سے ہوا ہو گیا۔ میرا ماتھا ٹھنکا، میں نے بدر سے کہا کہ یہ شخص ناقابلِ اعتبار ہے اور اس نے انعام کے لالچ میں اپنے غلام کو مخبری کے لیے عباسیوں کے پاس بھیج دیا ہے۔

ہم فوراً اس غدار کے مکان سے نکل بھاگے، وہ بھی گھر سے باہر آ گیا اور ہمارے پیچھے پیچھے بھاگتے ہوئے مکارانہ لجاجت سے ہمیں رکنے کی صدائیں لگانے لگا۔ لیکن میں نے افق پر عباسی گھوڑوں کے سموں سے اٹھتی ہوئے گرد کے بادل دیکھ لیے تھے، اس لیے اپنے بیٹے کواٹھائے اٹھائے، بھائی اور نوکر کے ساتھ درختوں کے ایک جھنڈ میں گھس گیا۔ اسی دوران ہمارے خون کا پیاسا عباسی دستہ اس شخص کے مکان تک پہنچ گیا۔ درختوں کے جھنڈ کے دوسری طرف دریائے فرات تھا، کل اور آج کی بارش کی وجہ سے دریا طغیانی پر آیا ہوا تھا اور اس کا مٹیالا پانی شراٹے لیتا ہوا بہہ رہا تھا۔

Euphrates
دریائے فرات کا ایک منظر

کوئی اور صورت نہیں تھی، میں نے بیٹے کو بازوؤں میں اٹھایا اور خدا کا نام لے کر پانی میں چھلانگ لگا دی۔ بیٹا ڈر کے مارے میری گردن سے چمٹ گیا اور زور زور سے چلانے لگا۔ بدر نے یحییٰ کو سنبھالا لیکن پانی بہت جوش میں تھا، ان دونوں کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ غوطے کھانے لگے۔ اسی دوران عباسی دستہ دریا کے کنارے پر پہنچ گیا تھا۔ ان کے سردار نے آوازیں دینا شروع کر دیں، ’واپس آ جاؤ، ہم تمہیں کچھ نہیں کہیں گے، دریا طغیانی میں ہے، تم ڈوب جاؤ گے۔‘

صاف ظاہر تھا کہ یہ عباسیوں کی چال ہے لیکن یحییٰ میرے اور بدر کے چیخنے چلانے کے باوجود غوطے کھاتے کھاتے کنارے پر آ گیا۔ میں نے اور بدر نے دوسرے کنارے پر پہنچ کر دیکھا، درندوں نے میرے معصوم بھائی کی گردن اڑا کر اس کا سر تھیلے میں ڈال لیا تھا تاکہ عباسیوں کے سرغنہ عبداللہ سفاح کو پیش کر کے بھاری انعام و اکرام حاصل کیا جا سکے۔ میں اور بدر قریبی کھیتوں میں گھس گئے اور اس وقت تک بھاگتے رہے جب تک تھکن سے نڈھال ہو کرڈھے نہیں گئے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جاری ہے۔ ۔ ۔

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
سابق صدر مشرف لندن کے نجی دورے پر روانہ

  مزید خبریں
کلنک کا ٹیکہ ہٹانے کی قیمت
بنگلا دیش میں انتخابات کی نئی تارخ کا اعلان
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا دورہ بھارت
لاہور میں عالمی پرفارمنگ آرٹس میلے کے قریب بم دھماکے
القاعدہ عالمی مالیاتی بحران سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں
اوباما سے مشرق وسطیٰ کی توقعات
ایلوس پریسلی مرنے کے 30 سال بعد بھی رائلٹی میں پہلے نمبر پر
آسٹریلیا  میں  امام  خواتین کے حقوق  کونظر انداز کر رہے ہیں: رپورٹ
کرکٹ کے معیار میں زوال آیا ہے: باسط علی
امراؤجان ادا کے خالق مرزا محمد ہادی رسوا، ہر فن مولا شخصیت
میڈونا اور رچی میں طلاق
گیس کے نرخوں میں  اضافے کی منظوری
2011ءتک روز گار کے 25لاکھ نئے مواقع: اوباما کا منصوبہ
ایران میں اسرائیل کے جاسوس کو پھانسی کی سزا
سماٹرا کے قریب سمندر کی تہہ میں طاقتور زلزلہ
زمبابوے پر مگابے راج ختم ہونا چاہیے : بُش
چین کی جانب سے امریکی رپورٹ کی مذمّت
جرمنی میں حزب اللہ کے ٹیلی ویژن پر پابندی
پاکستان کے سرحدی علاقے بدستور چیلنج ہیں: نیٹو اجلاس
کوئٹہ میں شیعہ عالم ہلاک
آزاد منڈیاں اقتصادی ترقی کے عظیم محرکات ہیں: بُش
لیبیا میں 36 سال بعد پہلے امریکی سفیر کی تعیناتی
جلا وطن تبتّی چین کے ساتھ مفاہمت کے خواہاں
عرا قی پارلیمنٹ  میں امریکی سیکیورٹی سمجھوتے پر رائے شماری
نیند کا مقصد کیا ہے؟
افغان مارکیٹ میں بم کا دھماکا
صومالی بحری قزاقوں نے یونان کے جہاز کو چھوڑدیا
امریکی شہریوں کو پاکستان کا سفر نہ کرنے کی تلقین
ق مکمل طور پر متحد ہے: چودھری شجاعت
اسلحے کو جدید بناؤ: چلٹن
شمالی وزیرستان میزائل حملہ، راشد رؤف ہلاک
”پاکستان جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہیں کرے گا“
اگلی دو دہائیوں میں امریکی رسوخ کم ہو جائے گا: انٹیلی جنس رپورٹ
کرکٹ ٹیم پاکستان بھیجنا دانش مندی نہیں ہو گی: بھارت
اونی ہاتھی کا ڈی این اے پڑھ لیا گیا
’تارے زمین پر‘ کی کہانی معموں کی کتاب سے چرائی گئی ہے؟