امریکہ کے جائنٹ چیف آف سٹاف کے چیئرمین ایڈمرل مائیک ملن نے کہا ہے کہ انھوں نے پاکستان سرحد کے دونوں اطراف پر جاری طالبان کے حملوں کے بارے میں زیادہ بہتر طور پر جاننے کے اپنے پاکستانی ہم منصب جنرل اشفاق کیانی سے ملاقات کی ہے، تاکہ اس سلسلے میں ان کے نقطہٴ نظر سے آگاہی حاصل کی جا سکے:
’وہ استقامت سے کام کررہے ہیں اور انھوں نے اس پر مکمل غور و فکر کیا ہے۔ اور وہ اس میدان میں آگے بڑھنا جاری رکھیں گے، جس کا تعلق پاکستانی فوج اور فرنٹیر کور پر ان کے اختیار سے ہے۔ میں سمجھتا ہوں کی فوری نتائج کے بارے میں توقعات ضرورت سے زیادہ ہیں۔‘
ملن اور کیانی کے درمیان بدھ کے روز بحیرِ ہند میں ایک امریکی طیارہ بردار جہاز پر ملاقات عراق میں امریکہ کے چوٹی کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریئس اور اس کے علاوہ دوسرے امریکی اور پاکستانی افسر بھی شریک تھے۔
جمعرات کے روز نامہ نگاروں کو بریفنگ دیتے ہوئے ایڈمرل ملن نے کہا کہ پاکستان کی ان کارروائیوں سے ان کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے جن میں سرحد پار سے ہونے والے حملوں کو روکنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اس سے قبل پاکستان فوج کی طرف سے خبر آئی تھی کہ انھوں نے بدھ کو حملہ کر کے کم از کم 44 جنگ جوؤں کو ہلاک کر دیا ہے۔
ایڈمرل ملن نے کہا کہ یہ ملاقات اس لیے نہیں تھی کہ امریکی کمانڈر اپنے پاکستان رفقائے کار سے زیادہ بڑی کارروائیوں کا مطالبہ کریں بلکہ یہ اس بارے میں بات چیت کے لیے تھی کہ دونوں ملک مشترکہ طور پر کتنے بہتر طریقے سے اس مسئلے سے عہدہ برا ہو سکتے ہیں:
’اس میں کوئی الٹی میٹم نہیں تھا۔ میرے خیال سے یہ چیز اس نوعیت کے تعلقات میں کارگر ثابت نہیں ہوتی۔ میرے خیال میں اس میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ ہم نے واضح طور پر اس بات کا جائزہ لیا کہ ہمیں جو چیلنجز اور خطرات درپیش ہیں ان کی نشان دہی کی جا سکے، تاکہ ان کا سدِّباب کرنے میں مدد مل سکے۔ ‘
گذشتہ ہفتے افغانستان میں امریکہ کے سب سے بڑے فوجی اڈوں میں سے ایک پر حملے اور دس فرانسیسی فوجیوں کو گھات لگا کر ہلاک کیے جانے کے بعد طالبان کی طرف سے لاحق خطرے کے بارے میں تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ طالبان افغانستان کے اندر حملوں کے لیے پاکستانی سرزمین استعمال کرتے ہیں۔
صدر پرویز مشرف کے استعفے کے بعد پاکستان میں پیدا ہونے والے سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے سرحدی علاقوں پر فوجی وسائل کو مرکوز رکھنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔
ایڈمرل ملن نے کہا کہ واضح طور پر اس بات کو تسلیم کیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں سیاسی عمل خاصا ’چیلنجنگ‘ہے۔