Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

امریکی ایڈمرل پاکستانی تعاون سے خوش


August 28, 2008

Navy Adm. Michael Mullen, Chairman of the Joint Chiefs of Staff, gestures during a news conference, Thursday, 28 Aug. 2008, at the Pentagon in Washington
ایڈمرل ملن اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے
امریکہ کے جائنٹ چیف آف سٹاف کے چیئرمین ایڈمرل مائیک ملن نے کہا ہے کہ انھوں نے پاکستان سرحد کے دونوں اطراف پر جاری طالبان کے حملوں کے بارے میں زیادہ بہتر طور پر جاننے کے اپنے پاکستانی ہم منصب جنرل اشفاق کیانی سے ملاقات کی ہے، تاکہ اس سلسلے میں ان کے نقطہٴ نظر سے آگاہی حاصل کی جا سکے:

’وہ استقامت سے کام کررہے ہیں اور انھوں نے اس پر مکمل غور و فکر کیا ہے۔ اور وہ اس میدان میں آگے بڑھنا جاری رکھیں گے، جس کا تعلق پاکستانی فوج اور فرنٹیر کور پر ان کے اختیار سے ہے۔ میں سمجھتا ہوں کی فوری نتائج کے بارے میں توقعات ضرورت سے زیادہ ہیں۔‘

ملن اور کیانی کے درمیان بدھ کے روز بحیرِ ہند میں ایک امریکی طیارہ بردار جہاز پر ملاقات عراق میں امریکہ کے چوٹی کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریئس اور اس کے علاوہ دوسرے امریکی اور پاکستانی افسر بھی شریک تھے۔

جمعرات کے روز نامہ نگاروں کو بریفنگ دیتے ہوئے ایڈمرل ملن نے کہا کہ پاکستان کی ان کارروائیوں سے ان کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے جن میں سرحد پار سے ہونے والے حملوں کو روکنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس سے قبل پاکستان فوج کی طرف سے خبر آئی تھی کہ  انھوں نے بدھ کو حملہ کر کے کم از کم 44 جنگ جوؤں کو ہلاک کر دیا ہے۔

ایڈمرل ملن نے کہا کہ یہ ملاقات اس لیے نہیں تھی کہ امریکی کمانڈر اپنے پاکستان رفقائے کار سے  زیادہ بڑی کارروائیوں کا مطالبہ کریں بلکہ یہ اس بارے میں بات چیت کے لیے تھی کہ دونوں ملک مشترکہ طور پر کتنے بہتر طریقے سے اس مسئلے سے عہدہ برا ہو سکتے ہیں:

’اس میں کوئی الٹی میٹم نہیں تھا۔ میرے خیال سے یہ چیز اس نوعیت کے تعلقات میں کارگر ثابت نہیں ہوتی۔ میرے خیال میں اس میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ ہم نے واضح طور پر اس بات کا جائزہ لیا کہ ہمیں جو چیلنجز اور خطرات درپیش  ہیں ان کی نشان دہی کی جا سکے، تاکہ ان کا سدِّباب کرنے میں مدد مل سکے۔ ‘

گذشتہ ہفتے افغانستان میں امریکہ کے سب سے بڑے فوجی اڈوں میں سے ایک پر حملے اور  دس فرانسیسی فوجیوں کو گھات لگا کر ہلاک کیے جانے کے بعد طالبان کی طرف سے لاحق خطرے کے بارے میں تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ طالبان افغانستان کے اندر حملوں کے لیے پاکستانی سرزمین استعمال کرتے ہیں۔

صدر پرویز مشرف کے استعفے کے بعد پاکستان میں پیدا ہونے والے سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے سرحدی علاقوں پر فوجی وسائل کو مرکوز رکھنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔

ایڈمرل ملن نے کہا کہ واضح طور پر اس بات کو تسلیم کیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں سیاسی عمل خاصا ’چیلنجنگ‘ہے۔
 

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
سابق صدر مشرف لندن کے نجی دورے پر روانہ

  مزید خبریں
کلنک کا ٹیکہ ہٹانے کی قیمت
بنگلا دیش میں انتخابات کی نئی تارخ کا اعلان
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا دورہ بھارت
لاہور میں عالمی پرفارمنگ آرٹس میلے کے قریب بم دھماکے
القاعدہ عالمی مالیاتی بحران سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں
اوباما سے مشرق وسطیٰ کی توقعات
ایلوس پریسلی مرنے کے 30 سال بعد بھی رائلٹی میں پہلے نمبر پر
آسٹریلیا  میں  امام  خواتین کے حقوق  کونظر انداز کر رہے ہیں: رپورٹ
کرکٹ کے معیار میں زوال آیا ہے: باسط علی
امراؤجان ادا کے خالق مرزا محمد ہادی رسوا، ہر فن مولا شخصیت
میڈونا اور رچی میں طلاق
گیس کے نرخوں میں  اضافے کی منظوری
2011ءتک روز گار کے 25لاکھ نئے مواقع: اوباما کا منصوبہ
ایران میں اسرائیل کے جاسوس کو پھانسی کی سزا
سماٹرا کے قریب سمندر کی تہہ میں طاقتور زلزلہ
زمبابوے پر مگابے راج ختم ہونا چاہیے : بُش
چین کی جانب سے امریکی رپورٹ کی مذمّت
جرمنی میں حزب اللہ کے ٹیلی ویژن پر پابندی
پاکستان کے سرحدی علاقے بدستور چیلنج ہیں: نیٹو اجلاس
کوئٹہ میں شیعہ عالم ہلاک
آزاد منڈیاں اقتصادی ترقی کے عظیم محرکات ہیں: بُش
لیبیا میں 36 سال بعد پہلے امریکی سفیر کی تعیناتی
جلا وطن تبتّی چین کے ساتھ مفاہمت کے خواہاں
عرا قی پارلیمنٹ  میں امریکی سیکیورٹی سمجھوتے پر رائے شماری
نیند کا مقصد کیا ہے؟
افغان مارکیٹ میں بم کا دھماکا
صومالی بحری قزاقوں نے یونان کے جہاز کو چھوڑدیا
امریکی شہریوں کو پاکستان کا سفر نہ کرنے کی تلقین
ق مکمل طور پر متحد ہے: چودھری شجاعت
اسلحے کو جدید بناؤ: چلٹن
شمالی وزیرستان میزائل حملہ، راشد رؤف ہلاک
”پاکستان جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہیں کرے گا“
اگلی دو دہائیوں میں امریکی رسوخ کم ہو جائے گا: انٹیلی جنس رپورٹ
کرکٹ ٹیم پاکستان بھیجنا دانش مندی نہیں ہو گی: بھارت
اونی ہاتھی کا ڈی این اے پڑھ لیا گیا
’تارے زمین پر‘ کی کہانی معموں کی کتاب سے چرائی گئی ہے؟