سابق بوسنیائی سرب لیڈر راڈووین کراجیچ اقوامِ متحدہ کی جنگی جرائم کے ٹریبونل کے سامنے پیش ہوئے اور انہوں نے ایک بار پھر قتل عام اور جنگی جرائم کے الزامات کے خلاف اپیل دائر کرنے سے انکار کردیا۔
اس کے جواب میں ہیگ کی عدالت نے ان کی جانب سے مجرم نہ ہونے کی اپیل دائر کی۔
کراجیچ کو 1990ءکی دہائی میں بوزسنیا ہر زگووینا کی لڑائی کے دوران عام شہریوں پر حملوں میں ان کے کردار کی بنا پر قتل عام، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے 11 مقدمات کا سامنا ہے۔ اس میں 1995ء کا وہ قتلِ عام بھی شامل ہے جس میں آٹھ ہزار مسلمان مرد اور لڑکے ماردیے گئے تھے۔
بوزسنیا کے سابق سرب لیڈر نے جولائی میں عدالت میں اپنی پہلی پیشی کے موقع پر اپیل دائر کرنے سے انکار کردیاتھااور انہوں نے عدالت کی جانب سے وکیل مقرر کرنے کے اپنے حق سے انکار کرتے ہوئے کہاتھا کہ اس کی بجائے وہ اپنا دفاع خود کریں گے۔
سربیا کی پولیس نے کراجیچ کو جولائی میں بلغراد میں گرفتار کیا تھا۔ وہ 12 برس سے دنیا انتہائی مطلوب مفرور کے طورپر روپوش تھے۔