جمعرات کی شب باراک اوباما نے ڈیموکریٹک جماعت کی جانب سے صدارتی نامزدگی باقاعدہ طور پر قبول کر لی۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ صدر بش کے آٹھ سالہ دور کی غلطیوں سے جان چھڑانے کے لیے تبدیلیاں لانا بہت ضروری ہے۔
اوباما کسی اہم جماعت سے صدارتی نام زدگی حاصل کرنے والے اولین سیاہ فام ہیں۔
سینٹر اوباما اور ان کے ساتھ نائب صدارت کے امیدوار جو بائڈن بس میں جمعے کے روز ریاست پنسلوانیا کا دورہ کریں گے جو ان کی مہم میں میدانِ جنگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ جمعرات کی شب اوباما نے تقریباً 80 ہزار افراد کے پر جوش ہجوم سے خطاب کیا اور ایسی تبدیلیاں لانے کا وعدہ کیا جو ان کے مد مقابل جان میک کین کے ارادوں کے برعکس تھیں۔
براک اوباما نے اپنی تقریر میں اپنی پالیسیوں کی وضاحت کی اور کہا کہ ان کے حریف میک کین جارج بش کی ناکام پالیسوں ہی پر عمل پیرا رہیں گے۔
اوباما نے وعدہ کیا کہ وہ عراق جنگ اور القاعدہ اور طالبان کے خلاف محاذ آرائی کو ختم کریں گے۔انہوں نے محنت کشوں کے ٹیکسوں میں کمی کا وعدہ بھی کیا اور کہا کہ بڑی کمپنیوں کو ٹیکسوں میں چھوٹ نہیں دی جائے گی اور غیر ملکی تیل پر امریکی انحصار ختم کیا جائیگا۔
ادھر جان میک کین کے ذرائع نے اوباما کی تقریر کو گمراہ کن قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اوباما کی نا تجربہ کاری کے سامنے ان کے وعدے بے معنی ہیں۔
ری پبلکن پارٹی کا کنونشن آئندہ ہفتے ریاست منی سوٹا میں ہوگا اور اس میں میک کین کو صدارتی امیدوار نامزد کیا جائے گا۔