امریكہ كی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں كے امیدوار ہر چار سال بعداپنی پارٹی كی جانب سے صدارت كے انتخاب كے لیے نامزدگی قبول كرتے ہیں اس لیے عام طور پر اسے سیاسی عمل كا ایك حصہ سمجھا جاتا ہے۔ لیكن جمعرات كو براك اوباما نے جب ڈیموكریٹك پارٹی كے صدارتی امیدوار كی حیثیت سے نام زدگی قبول كی تو اسے سیاسی عمل سے زیادہ تاریخ كے حصےكےطور پر دیكھاگیا كیونكہ اس سے پہلے كسی سیاہ فام فرد كے حصے میں یہ اعزاز نہیں آیاتھا۔
امریكی ریاست كولوراڈو كے شہر ڈینور میں ڈیموكریٹك پارٹی كے كنوینشن كےآخری دن براك اوباما نے اپنی جماعت كی نامزدگی قبول كرنے كے بعد كنونشن سے خطاب كرتے ہوءے صدر بش كی پالیسیوں پر سخت تنقید كی اور كہا كہ بش انتظامیہ امریكہ كو درپیش معیشت، تعلیم، صحت اور خارجہ امور كے چیلنجز سے نمٹنے میں ناكام رہی ہے۔
ڈیموكرٹك پارٹی كنوینش كے آخری دن كی كارروائی ایك فٹبال اسٹیدیم میں ہوئی جس كی وجہ زیادہ سے زیادہ لوگوں كو براك اوباما كی تقریر سننے كا موقع فراہم كرنا تھا۔ اوراسٹیڈیم میں موجود ہزاروں افراد نے تقریر كے دوران بار بار تالیاں بجا كر براك اوباما كی حوصلہ افزائی كی۔ براك اوباما نے اپنے ری پبلیكن حریف جان مكین پر بھی تنقید كی اور كہا كہ ان كی قوتِِِ فیصلہ پر بھروسہ نہیں كیا جاسكتا۔
براك اوباما كے فنِ خطابت كے بارے میں تو شاید كی كسی كو شبہ ہو لیكن جس پہلو پر براك اوباما كے حامیوں اور مخالفین دونوں كی نظریں لگی ہوئی تھیں وہ یہ كہ جس تبدیلی كا نعرہ انھوں نے ڈیموكریٹكس كو دیا ہے وہ محض نعرہ ہے یا اس میں كچھ وزن بھی ہے۔
مبصرین كے مطابق امریكہ كےاندرونی معاملات، خارجہ پالیسی اور دہشت گردی كے خلاف جنگ، ہر پہلو كے بارے میں براك اوباما نے قابلِ عمل اقدامات كے بارے میں بتایا۔ مثلاً انہوں نے ٹیكسوں میں كمی، لوگوں كو صحت اور تعلیم كی سہولتیں مہیا كرنے سمیت امریكیوں كو درپیش اہم ترین معاملات پر مختصراً اپنے منصوبوں كے بارے میں بتایا۔ خارجہ پالیسی اور دہشت گردی كے خلاف جنگ كے بارے میں اپنی پالیسی كے حوالے سے براك اوباما نے كہا كہ وہ عراق كی جنگ كو ختم اور افغانستان میں القاعدہ اور طالبان كے خلاف لڑائی كو انجام تك پہنچاءیں گے۔
آءندہ ہفتے ری پبلیكن پارٹی كا كنونشن شروع ہورہا ہے اور اس میں جان میک كین اور ان كے جماعت ڈیموكریٹك پارٹی كی تنقید كا جواب دینے كے ساتھ ساتھ اپنے منصوبوں كے بارے میں بھی بتائیں گے۔
وائٹ ہاوس كے لیے دوڑ كا باقاعدہ آغاز ہوچكا ہے اوراس سال نومبر میں وہی امیدواروائٹ ہاوس تك پہنچ سكے گا جو امریكی عوام كو یہ باور كرانے میں كامیاب ہوجائے كہ اس كی پالیسیاں امریكی عوام كے مفادات كا تحفظ زیادہ بہتر انداز میں كرسكتی ہے۔