Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

روس اور نیٹو کی باہمی رسہ کشی


August 29, 2008

Russian President Dmitry Medvedev (L) speaks at a meeting of the Shanghai Cooperation Organisation (SCO) in Dushanbe, 28 Aug 2008
روس کے صدر میدویدیف دوشنبے میں
روس ہمیشہ سے نیٹو کا مخالف رہا ہے۔ اس کے باوجود اس نے بہت سے فوجی، سیاسی اور انسانی بھلائی کے منصوبوں میں نیٹو کے ساتھ تعاون کیا۔ لیکن روس کا کہنا ہے کہ وہ مشرق کی طرف نیٹو کے پھیلاوٴ کو اور اس میں جارجیا اور یوکرین کی ممکنہ رکنیت کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ روس نے مغربی ملکوں کی طرف سے جارجیا کی حمایت پر احتجاج کرنے کے لیے بہت سے شعبے میں نیٹو کے ساتھ تعلقات ختم کر دیے ہیں۔
 
پیر کے روزروسی صدر دمتری میدویدیف نے کہا کہ ان کے ملک کو نیٹو کے ساتھ کسی خیالی پارٹنرشپ کی ضرورت نہیں ہے اور یہ بات بالکل قدرتی ہے کہ روس کو مشرق کی طرف نیٹو کا پھیلاوٴ پسند نہیں۔ روس اگر نیٹو کے ساتھ تعاون کرتا ہے تو اس کا فائدہ نیٹو کے ملکوں کو ہوتا ہے، روس کو نہیں۔ روس نیٹو کے ساتھ اپنا تعلق مکمل طور سے ختم کرنے کو تیار ہے۔

نیٹو کے لیے روس کے مندوب دمتری روگو زن دمتری  کو صدر میدویدیف سمیت روسی لیڈروں کے ساتھ صلاح و مشورے کے لیے واپس بلا لیا گیا تھا۔ منگل کے روز ایک اخباری کانفرنس میں روگوزن نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ نیٹو سرد جنگ کے پتھر کے زمانے سے نکلنے کو تیار نہیں ہے ۔

انھوں نے روس اور نیٹو کے تعلقات کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور فوجی امور میں اس کے ساتھ ہر قسم کی سرگرمیوں کو ختم کرنے کا اعلان کیا ۔انھوں نے کہا کہ نیٹو کے اعلیٰ عہدے داروں کے روس کے دورے منسوخ کر دیے جائیں گے، نیٹو کے بحری جہازوں کو روسی بندرگاہوں کے دورے کی اجازت نہیں دی جائے گی ، اور مشترکہ فوجی مشقیں ختم کر دی جائیں گی۔

 روگوزن نے یہ بھی کہا کہ نیٹو کے فوجی ماہرین اور انسٹرکٹرز کے دورے عارضی طور پر معطل کر دیے جائیں گے ۔تا ہم روگوزن نے کہا کہ روس نیٹو کے ساتھ سیاسی مکالمہ جاری رکھے گا اور منشیات کا سراغ لگانے، ہوائی اڈوں پر دھماکاخیز مادوں کا پتہ چلانے، دہشت گردی کے خلاف جدو جہد، قدرتی آفت کی صورت میں مدد، اور انسانی بھلائی کے دوسرے منصوبوں پر کام ہوتا رہے گا۔

روس نے بحرِاسود میں نیٹو کے بحری جہازوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دمتری روزوگن نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ جہاز علاقے میں ہتھیار پہنچا رہے ہوں لیکن انھوں نے اِس امکان کو بھی تسلیم کیا کہ یہ جہاز واقعی امدادی سامان لا رہے ہوں۔

Russia Georgia South Ossetia Abkhazia
امریکہ کا بحری جہاز ’ڈیلس‘اور ایک لڑاکا جہاز ’یو ایس ایس میک فال‘منگل کے روز جارجیا کی بندرگاہ باتومی میں لنگر انداز ہوا۔ شروع میں انہیں مزید شمال میں پوتی کی بندرگاہ میں لنگر انداز ہونا تھا لیکن وہاں روس نے اپنی فوج تعینات کر دی ہے ۔

امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ یہ بحری جہاز جنگی کارروائیوں میں بے گھر ہو جانے والے لوگوں کے لیے کمبل، صفائی ستھرائی کا سامان، بچوں کے لیے غذائی اشیا ، اور شیر خوار بچوں کی دیکھ بھال کا سامان لے کر آئے ہیں۔
تجزیہ کار  پیول فیلجن ہاؤر کہتے ہیں کہ نیٹو سے روس کو فوجی اعتبار سے کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن اس کے حکمرانوں کے خوفزہ ہونے کی اپنی وجوہات ہیں۔ ان کے الفاظ ہیں:
’روس کے اعلیٰ حکمران طبقے کے لیے بد ترین بات یہ ہو گی کہ روس میں ذمہ دار حکومت ، منصفانہ انتخابات، اور قانون کی حکمرانی کے مغربی اصول جڑ پکڑ لیں۔ اِس طرح بد عنوان حکمران طبقے کی پوزیشن کمزور ہو جائے گی، اور وہ یہ نہیں چاہتا۔2003ءاور 2004ءمیں جب جارجیا اور یوکرین میں مختلف رنگوں کے جمہوری انقلاب آنا شروع ہوئے تو اِس طبقے میں خوف کی لہر دوڑ گئی تھی۔‘

نیٹو میں روس کے مندوب روزوگن کہتے ہیں کہ جارجیا کے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کے حالات کتنے خطرناک ہیں جب صدر ساکش ولی جیسا ایک فرد اپنی کارروائیوں سے پوری دنیا کے امن کو تہ و بالا کر سکتا ہے۔ روزوگن نے جارجیا کے رہنما پر الزام لگایا کہ انھوں نے اپنے نام و نمود کی خاطر بڑی طاقتوں کو مشتعل کیا اور انہیں لڑائی میں جھونک دیا۔

پیول فیلجن ہاؤر کہتے ہیں کہ روزوگن کے بیان کا مقصد تیسری عالمی جنگ اور ایٹمی ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال کے خطرے کی طرف توجہ دلانا ہے۔ تا ہم فیلجن ہاؤر  کہتے ہیں کہ پہلی عالمی جنگ کے آغاز پر ہر ایک نے سوچا تھا کہ لڑائی مختصر ہو گی اور جلد ہی فتح حاصل ہو جائے گی جب کہ ہر کوئی ایٹمی جنگ سے بچنا چاہتا ہے:

’روسی اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ یہاں جو کچھ کہا جا رہا ہے اس کا مقصد مغربی ملکوں میں رائے عامہ کو خوفزدہ کرنا ہے تا کہ لوگ یہ کہنے لگیں کہ ہمیں جارجیا سے کیا لینا ہے۔ اگر اس طرح عالمی جنگ سے بچا جا سکتا ہے، تو کوئی بات نہیں۔ روسیوں کو جارجیا پر قبضہ کر لینے دو۔ تو میرے خیال میں یہ سب بنیادی طور پر پروپیگنڈہ ہے جس کا ہدف مغربی دنیا کی رائے عامہ ہے۔‘

فیلجن ہاؤرکہتے ہیں کہ روس کی قیادت نیٹو کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ کے لیے تیار ہے۔ اسے امید یہ ہے کہ یورپ کے پرانے ملک، چین، اور ایشیا میں ابھرتی ہوئی طاقتیں، الگ الگ موقف اختیار کریں گی۔ یہ صورتِ حال کریملن کے حق میں جائے گی، اور جارجیا اور یوکرین کے نیٹو کا رکن بننے کے امکانات ختم ہو جائیں گے۔
 

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
لاہور میں عالمی پرفارمنگ آرٹس میلے کے قریب بم دھماکے

  مزید خبریں
القاعدہ عالمی مالیاتی بحران سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں
اوباما سے مشرق وسطیٰ کی توقعات
ایلوس پریسلی مرنے کے 30 سال بعد بھی رائلٹی میں پہلے نمبر پر
آسٹریلیا  میں  امام  خواتین کے حقوق  کونظر انداز کر رہے ہیں: رپورٹ
کرکٹ کے معیار میں زوال آیا ہے: باسط علی
امراؤجان ادا کے خالق مرزا محمد ہادی رسوا، ہر فن مولا شخصیت
میڈونا اور رچی میں طلاق
گیس کے نرخوں میں  اضافے کی منظوری
2011ءتک روز گار کے 25لاکھ نئے مواقع: اوباما کا منصوبہ
ایران میں اسرائیل کے جاسوس کو پھانسی کی سزا
سماٹرا کے قریب سمندر کی تہہ میں طاقتور زلزلہ
زمبابوے پر مگابے راج ختم ہونا چاہیے : بُش
چین کی جانب سے امریکی رپورٹ کی مذمّت
جرمنی میں حزب اللہ کے ٹیلی ویژن پر پابندی
پاکستان کے سرحدی علاقے بدستور چیلنج ہیں: نیٹو اجلاس
کوئٹہ میں شیعہ عالم ہلاک
آزاد منڈیاں اقتصادی ترقی کے عظیم محرکات ہیں: بُش
لیبیا میں 36 سال بعد پہلے امریکی سفیر کی تعیناتی
جلا وطن تبتّی چین کے ساتھ مفاہمت کے خواہاں
عرا قی پارلیمنٹ  میں امریکی سیکیورٹی سمجھوتے پر رائے شماری
نیند کا مقصد کیا ہے؟
افغان مارکیٹ میں بم کا دھماکا
صومالی بحری قزاقوں نے یونان کے جہاز کو چھوڑدیا
امریکی شہریوں کو پاکستان کا سفر نہ کرنے کی تلقین
ق مکمل طور پر متحد ہے: چودھری شجاعت
اسلحے کو جدید بناؤ: چلٹن
شمالی وزیرستان میزائل حملہ، راشد رؤف ہلاک
”پاکستان جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہیں کرے گا“
اگلی دو دہائیوں میں امریکی رسوخ کم ہو جائے گا: انٹیلی جنس رپورٹ
کرکٹ ٹیم پاکستان بھیجنا دانش مندی نہیں ہو گی: بھارت
اونی ہاتھی کا ڈی این اے پڑھ لیا گیا
’تارے زمین پر‘ کی کہانی معموں کی کتاب سے چرائی گئی ہے؟