سرحدی علاقوں کے وفاقی وزیر نجم الدین خان نے کہا ہے کہ پاکستان سے افغان پناہ گزینوں کی رضاکارانہ وطن واپسی کی ڈیڈلائن میں توسیع کے باوجود بھی اِن کی واپسی کا عمل روکا نہیں جائے گا۔
اُنہوں نے جمعرات کے روز بتایا کہ یہ سلسلہ بند نہیں کریں گے۔ ’ہر مہینے واپسی کا شیڈول بنائیں گے جس میں یہ دیکھا جائے گا کہ کس طرح امن ٹھیک ہونے پر اُن (افغان پناہ گزینوں) کو نکالیں گے۔‘
وفاقی وزیر نے کہا کہ متعلقہ لوگوں سے بات کی جائے گی کہ کس طرح کی اور کیسے افغان مہاجرین کو سہولیات فراہم کی جائیں۔’میرے خیال میں اگر ایک دو سال کی توسیع ہوجائے تو یہ زیادہ نہیں ہوگا۔‘
دوسری طرف، پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے نے پاکستان میں افغان مہاجرین کی موجودگی سے معیشت پر پڑنے والے بوجھ کو کم کرنے کے لیے مزید امداد کا اعلان کیا ہے۔
اِس حوالے سے ادارے کے ترجمان بابر بلوچ نے وائس آف امریکہ کو بتایا:کہ ساڑھے 13 کروڑ ڈالر خود یو این ایچ سی آر اور دوسرے اقوامِ متحدہ کے ادارے ساتھ لے کر آ رہے ہیں، تاکہ پاکستان کے اُن علاقوں میں جو بنیادی سہولیات ، جن میں صحت، تعلیم اور روزگار کے مواقع شامل ہیں، اُن کو یقینی بنایا جائے۔‘
یہ درخواست کی گئی ہے کہ اِس ڈیڈلائن تک افغانوں کی رضاکارانہ وطن واپسی کا ٹارگٹ حاصل کرنا ممکن نہیں۔ لہٰذا اِس میں توسیع کی جائے جِس پر پاکستان نے رضامندی ظاہر کی ہے۔