Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

قرة العین حیدر پر خدا بخش لا ئبریری میں سیمنار کا انعقاد


August 30, 2008

Qurratul Ain Hyder
قرہ العین حیدر
خدا بخش لابئریری کی جانب سے قرة العین حیدر کی پہلی برسی پر دو روزہ قومی سیمنار کا انعقاد کیا گیا، جس میں ان کے فن اور شخصیت پر 18مقالے پیش کیے گئے۔ سیمنار کا افتتاح اردو کے نامور ناقد پروفیسر وہاب اشرفی نے کیا۔ انہوں نے اپنے عالمانہ خطاب میں کہا کہ ان کی تمام تحریریں اردو ادب کے لیے بہت بڑا خزانہ ہیں، جن سے مباحث کی بہت سی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔ یوں تو ہمارے یہاں فکشن کا سرمایہ بہت پہلے سے موجود ہے۔ پریم چند اور ان سے پہلے بھی کئی قلم کارنظر آتے ہیں جنہوں نے فکشن کو نیا موڑ دیا تھا، لیکن قرة العین حیدر نے اپنے افسانوں میں جس دانشوری کا مظاہرہ کیا اس میں تہذیب اور ثقافت ، وقت اور حالات سب وابستہ نظر آتے ہیں۔

معروف افسانہ نگار اورناول نگار محترمہ جیلانی بانو نے اپنے کلیدی خطبے میں کہا کہ قرة العین حیدر کا سب سے اہم موضوع وقت ہے۔ گزراہوا وقت ، چاروں طرف پھیلا ہوا وقت ، آنے والا وقت اور پھر ماضی اور حال کی کشمکش اور اس کشمکش میں ان کے افسانوں میں بہت رنگ پیدا کر دیے ہیں۔
 
پروفیسر ابو الکلام قاسمی نے اپنے خطبے میں کہا کہ ان کے ناولوں میں قدیم سے جدید عہد تک کی عورت کے مختلف روپ کو دیکھنے اور دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایک طرح سے اس میں تحریک نسواں کا وہ خام مواد موجود ہے، جس کے شعور کے بغیر یہ تحریک جنسی تفریق اور استحصال کا تاریخی سیاق وسباق حاصل نہیں کر سکتی۔
 
جو قرة العین حیدر کی قریبی ساتھی  محترمہ صغریٰ مہدی نے کہا کہ وہ سب سے الگ تھیں، اسی لیے ان کے بارے میں متضاد خیالات ملتے ہیں۔ وہ موڈی بھی تھیں اورا ن کی شخصیت کے کئی پہلووں میں تضاد تھا۔
 
پروفیسرمحمد زماں آزردہ نے اپنے مقالے میں قرة العین حیدر کے ایک دلچسپ کردار اقبال بخت سکسینہ کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا یہ کردار عینی کے عام کرداروں سے قدرے مختلف ہے اور اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ ظاہری تصادم میں اپنا رد عمل دکھانے کے لئے نہیں ابھرتا۔ بلکہ اپنے اندر کے تناو پر قابو پا کر ایک صورت پا لیتا ہے۔

پروفیسر عتیق اللہ نے قرة العین کے افسانوں میں ’تحیر خیزیاں‘ کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا۔ ان کا خیال تھا کہ عینی کے ناولوں کے کینوس اتنے وسیع ہیں اور ذہنی و جذباتی دنیا اتنی رنگا رنگ ہیں کہ بیانیہ میں پیچیدگیاں اور تہداریاں ہیں اور ہر ناول ایک نئی جستجو کا سر چشمہ بن جاتا ہے۔

ڈاکٹر رضوان احمدنے اپنا مقالہ قرة العین حیدر اور تصوف کے عنوان سے پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے ناول ’گردش رنگ چمن‘ میں ایک پورا باب ’دریائے نور ‘ کے عنوان سے موجود ہے۔ جس میں انہوں نے اسلامی تصو ف سے بحث کی ہے اور وہ پھر اس رنگ میں ڈوبتی چلی گئی ہیں۔
 
 سمینار میں پڑھے گئے مقالات پر تاثرات کا اظہارکرتے ہوئے لائبریری کے ڈائریکٹر اور معروف مورخ ڈاکٹر امتیاز احمد نے کہا کہ ان مقالات کی روشنی میں عینی کے فلسفے کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ ان تمام مقالات کو کتابی شکل میں بھی شائع کیا جائے گا اور یقیناً یہ ان کے فن کی تفہیم میں معاون ثابت ہوں گے۔

قرة العین حیدر کے فن اور شخصیت پر یہ اپنی طرز کا اولین سیمنار تھا۔ ویسے ان کی وفات کے بعد انہیں یاد رکھنے کے لیے جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی نے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ یہ ہر لحاظ سے مناسب بھی ہے ایک تو وہ اس ادارے میں کئی برسوں تک استاد کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیتی رہیں، دوسرے ان کی تدفین یہیں کے قبرستان میں عمل میں آئی۔
جامعہ ملیہ کے کیمپس میں داخل ہونے کے لیے جو پہلا کشادہ دروازہ ہے اسے باب قرةا لعین حیدر کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ ان کی مستقل یادگار کے طور پر ایک میوزیم اور لائبریری قائم کر دی گئی ہے۔ ان کے اپنے مکان اور تصرف میں جو اشیا، کتابوں کا ذخیرہ، ان کے مسودات ، ملبوسات ، خطوط اور دوسری بے شمار چیزیں اور دستاویزات موجود تھیں۔ وہ ان کی وارث اور بھانجی ہما حیدر حسن صاحبہ نے اس میوزیم کے لیے عطا کر دی ہیں اور اس طرح ان کے تحفظ کا مستقل انتظام ہو گیا ہے۔

 اس کتب خانہ میں ادبا اور طالب علم استفادے کے لیے آتے ہیں۔ وہیں جامعہ ملیہ میں قرة العین حید رکے نام سے ایک چیئر کا قیام بھی عمل میں آیا ہے۔ ان کے نام سے ہر سال ایک میموریل لیکچر کا اہتمام کیا جائے گاجو فنون و ادب اور بشری علوم کا کوئی نامور عالم دے گا۔اس کے علاوہ جامعہ ملیہ میں ہر سال ان کے فن اور شخصیت پر سیمنار کا بھی انعقاد کیاجائے گا جس سے ان کی تحریروں کے نئے مفاہیم سامنے آسکیں گے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے علاوہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے ان کی تمام تصنیفات کو کلیات کی صورت میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی چار جلدیں شائع بھی ہو چکی ہیں۔

اس طور پر اس ماور اے عصر مصنفہ کو یاد رکھنے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں اور ان کا سلسلہ جاری ہے۔
 

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
لاہور میں عالمی پرفارمنگ آرٹس میلے کے قریب بم دھماکے

  مزید خبریں
القاعدہ عالمی مالیاتی بحران سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں
اوباما سے مشرق وسطیٰ کی توقعات
ایلوس پریسلی مرنے کے 30 سال بعد بھی رائلٹی میں پہلے نمبر پر
آسٹریلیا  میں  امام  خواتین کے حقوق  کونظر انداز کر رہے ہیں: رپورٹ
کرکٹ کے معیار میں زوال آیا ہے: باسط علی
امراؤجان ادا کے خالق مرزا محمد ہادی رسوا، ہر فن مولا شخصیت
میڈونا اور رچی میں طلاق
گیس کے نرخوں میں  اضافے کی منظوری
2011ءتک روز گار کے 25لاکھ نئے مواقع: اوباما کا منصوبہ
ایران میں اسرائیل کے جاسوس کو پھانسی کی سزا
سماٹرا کے قریب سمندر کی تہہ میں طاقتور زلزلہ
زمبابوے پر مگابے راج ختم ہونا چاہیے : بُش
چین کی جانب سے امریکی رپورٹ کی مذمّت
جرمنی میں حزب اللہ کے ٹیلی ویژن پر پابندی
پاکستان کے سرحدی علاقے بدستور چیلنج ہیں: نیٹو اجلاس
کوئٹہ میں شیعہ عالم ہلاک
آزاد منڈیاں اقتصادی ترقی کے عظیم محرکات ہیں: بُش
لیبیا میں 36 سال بعد پہلے امریکی سفیر کی تعیناتی
جلا وطن تبتّی چین کے ساتھ مفاہمت کے خواہاں
عرا قی پارلیمنٹ  میں امریکی سیکیورٹی سمجھوتے پر رائے شماری
نیند کا مقصد کیا ہے؟
افغان مارکیٹ میں بم کا دھماکا
صومالی بحری قزاقوں نے یونان کے جہاز کو چھوڑدیا
امریکی شہریوں کو پاکستان کا سفر نہ کرنے کی تلقین
ق مکمل طور پر متحد ہے: چودھری شجاعت
اسلحے کو جدید بناؤ: چلٹن
شمالی وزیرستان میزائل حملہ، راشد رؤف ہلاک
”پاکستان جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہیں کرے گا“
اگلی دو دہائیوں میں امریکی رسوخ کم ہو جائے گا: انٹیلی جنس رپورٹ
کرکٹ ٹیم پاکستان بھیجنا دانش مندی نہیں ہو گی: بھارت
اونی ہاتھی کا ڈی این اے پڑھ لیا گیا
’تارے زمین پر‘ کی کہانی معموں کی کتاب سے چرائی گئی ہے؟