دائیں سے بائیں: افتخار نسیم، سردار طاہر اقبال۔ اسد حسن، احمد فراز، افتخار حسین، الطاف مانگٹ، صابر رضا جب کہ ثاقب اکرم بیٹھے ہوئے ہیں
’میں تو کل بھی عاشق تھا، آج بھی عاشق ہوں۔ محبت میری سرشت میں ہے، اس جذبے کو کسی خاص عمر کا خاصہ سمجھتا ہوں نہ اپنی عمر کو اس راہ میں آڑے آنے دیا ہے، یہ الفاظ جناب فراز نے اپنی زندگی کے’آخری دن‘ 27 جون کو واشنگٹن ڈی سی کے نواحی شہر الیگزینڈریا میں مقامی شاعراکرم ثاقب کے گھر ایک طویل نشست کے دوران کہے۔ 27جون احمد فراز کی زندگی کا آخری دن اس لیے بنتا ہے کہ اس سے اگلے دن وہ شکاگو جاتے ہوئے حادثے کا شکار ہوئے اور شکاگو پہنچ کر ہسپتال داخل ہو گئے، جہاں ان کے اعضا نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ اگرچہ اس کے بعد 26 اگست تک انھیں مشینوں کے سہارے زندہ رکھا گیا، لیکن ایک طرح سے ان کی موت اسی دن واقع ہو گئی تھی۔ شعلہ تھا جل بجھا ہوں ہوائیں مجھے نہ دو میں کب کا جا چکا ہوں صدائیں مجھے نہ دو
جو زہر پی چکا ہوں، تمہی نے مجھے دیا اب تم تو زندگی کی دعائیں مجھے نہ دو
ایسا نہ ہو کبھی کہ پلٹ کر نہ آ سکوں ہر بار دور جا کے صدائیں مجھے نہ دو خود کو دنیا کے خوش قسمت ترین انسانوں میں سے خیال کرتا ہوں جب سوچتا ہوں کہ فراز صاحب کی صحت مند زندگی کے آخری دن ان کے ساتھ دوپہر کا کھانا نصیب ہوا، طویل شام ان کے ساتھ گزری اور رات کا کھانا بھی انہی کے ساتھ کھایا۔ وہ 26 جون کو امریکہ میں ڈاکٹروں کی تنظیم ’اپنا‘ کے زیراہتمام واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے مشاعرے میں شریک تھے۔ یہ مشاعرہ ان کی زندگی کا آخری مشاعرہ تھا۔ پاکستان کے ایک مؤقر روزنامے میں ایک کالم نگار نے 20 اور 21 جون کو ہونے والے جس مشاعرے کو فراز کی زندگی کا آخری مشاعرہ قرار دیا ہے وہ پاکستان میں تو ان کا آخری مشاعرہ ہو سکتا ہے، زندگی کا آخری مشاعرہ ہرگز نہیں تھا۔ اگلے دن اکرم ثاقب فراز کی میزبان تھے۔ میں ثاقب کا زندگی بھر احسان مند رہوں گا جنہوں نے فراز صاحب کے ساتھ پہلی اور آخری تفصیلی ملاقات کا موقع فراہم کیا۔ یوں تو اسلام آباد میں کئی ایک مشاعروں اور ادبی تقاریب میں فراز صاحب کو قریب سے دیکھنے اور سننے کا موقع ملا۔ اسلام آباد میں اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اور قائداعظم یونیورسٹی میں 1995ء میں ان کے ساتھ ایک سٹیج پر مشاعرہ پڑھنے کا شرف بھی حاصل ہے اور گذشتہ اپرہل میں علامہ اقبال کی برسی پر ان کا وائس آف امریکہ کے لیے انٹرویو بھی کیا لیکن سپرنگ فیلڈ ورجینیا کے ایک چیینی ریستوران میں لنچ ان کے ساتھ پہلی باضابطہ ملاقات تھی۔ شکاگو میں مقیم شاعر افتخار نسیم افتی اور مانچسٹرانگلینڈ سے آئے ہوئے مہمان شاعر صابر رضا بھی اس موقعے پر موجود تھے۔ ثاقب نے فون کیا اور لنچ کی دعوت دی اوربتایا کہ فراز صاحب کے ساتھ لنچ کر رہا ہوں آپ بھی پہنچ جاؤ تو میرے منہہ سے بے ساختہ نکلا،’ اپنے فرازصاحب؟؟‘ ٹریفک میں پھنس جانے کے سسب کچھ تاخیر سے ریستوران پہنچا تو سب احباب کھانا ختم کرنے والے تھے۔ میزبان نے کہا کہ پہلے کھانا لے آؤ تو کہا یار پہلے فراز صاحب کو’ آنکھ بھر کے دیکھنےدو‘ آپ کیوں چاہتے ہوکہ انہیں پیٹ بھر کے دیکھوں؟ فراز صاحب کے چہرے پر ایک نیم قہقہے کے بعد مسکراہٹ بکھر گئی۔ گھنٹہ بھر کے اس ساتھ کے بعد طے ہوا کہ رات اکرم ثاقب کے گھر نشست ہوگی۔ وائس آف امریکہ کے اردو ٹی وی سے میرے دوست محمد عاطف، پشتو سروس دیوا ریڈیو سے افتخار حسین اورورجینیا میں مقیم میرے ایک اورکشمیری دوست سردار طاہر اقبال بھی اس نشست میں شریک ہوئے۔ اکرم ثاقب نے شکیل آزاد، کرامت گردیزی اور الطاف مانگٹ کو بھی دعوت دے رکھی تھی۔ یہ شام، یہ نشست میں کبھی بھول نہیں پاؤں گا۔ پہلے افتخار نسیم افتی نے اپنی باتوں سے محفل کو گرمائے رکھا۔ پھر راقم نے فراز صاحب سے ادب، سیاست اور یہاں تک کہ ذاتی زندگی کے حوالے سے کئی سوالات کیے جن پر فراز صاحب نے بڑی کھل کر گفتگو کی۔ باقی دوست بھی اس گفتگو میں شریک رہے۔ پتا ہی نہ چلاکئی گھنٹے گزرگئے۔ میرے اس سوال پر کہ بعض اہل قلم رومانوی شاعری میں جواں عمری کا بڑاعمل دخل سمجھتے ہیں، آپ ستر برس میں بھی ایک ایسی رومانوی غزل کیسے کہہ لیتے ہیں جس پر نوجوان سر دھنتے ہیں؟ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ میں سوچتا ہوں کہ لوگ کیوں رومانوی شاعری کو کسی عمر کا محتاج ٹھہراتے ہیں۔ مجھے کبھی اس کا احساس نہں ہوا، میں کل بھی عاشق تھا اور آج بھی عشق کرتا ہوں۔ شاعری اور موسیقی کے تال میل پر بھی انہوں نے اپنی زندگی کے تجربات شیئر کیے۔ غالب، میر، فیض اور اقبال کے ساتھ اپنی عقیدتوں کا اظہار کیا۔ آج اور کل کی شاعری پر گفتگو کی۔ کچھ نئے لکھنے والوں کو سراہا۔ اگرچہ محفل میں موجود ایک شاعر دوست کو نئے نظم گو شاعروں کے ذکر میں انہیں میری طرف سے نصیر احمد ناصراورنوجوان روش ندیم جیسے شاعروں کا حوالہ اچھا نہیں لگا لیکن فراز صاحب نے یہاں بھی فراخ دلی کا ثبوت دیا اورکہا کہ اچھا کلام خود کو منوا لیتا ہے۔انہوں نے نئے لکھنے والوں کی تعریف کی۔ مرحومہ پروین شاکر کے ساتھ ذاتی تعلقات کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ میرے اس سوال پر کہ پروین شاکرصاحبہ کی زندگی میں ان کے نام کے ساتھ ہمیشہ آپ کا نام آتا رہا، بعض لوگ تو یہ بھی کہتے رہے کہ ان کی ابتدائی شاعری پر آپ کی چھاپ ہے۔ اس پر فراز صاحب نے کہا کہ پروین میری بہت اچھی اور قریبی دوست تھی۔ وہ جینوین شاعرہ تھی۔ مجھے نہں یاد پڑتا کہ سوائے چند ایک بار کے میں نے کبھی اس کی شاعری کی تصیح بھی کی ہو۔ وہ بھی برسرِگفتگوہی کی ہو گی۔ سیاستِ دوراں پر بھی بات ہوئی۔ پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات پر وہ دکھ اور کرب میں ضرور تھے لیکن مایوس نہیں تھے۔ جنرل مشرف کی حکومت کو اعزازات واپس کرنے کے بابت سوال پر انہوں نے بتاہا کہ بھائی، انہوں نے تو مجھ سے وہ اعزازات بھی واپس لے لیے جو مجھے سویلین حکومتوں نے دیے تھے۔ اس پر سب نے بیک زبان کہا کہ آپ بھلا کسی سرکاری اعزار کے محتاج ہیں؟ ایک دنیا جو آپ سے محبت کرتی ہے آپ کو عزت و احترام دے سکتی ہے اس سے بڑا اعزاز کیا ہوگا۔ کھانے کے دوران فراز صاحب نے میرا بازو پکڑ کر کہا’بھائی آپ سے گفتگو بہت اچھی لگی۔‘ یہ جملہ میرے لیے ہمیشہ سند رہے گا۔ فراز صاحب نے میزبان اکرم ثاقب کے بنائے کھانے کی ہی نہیں ان کے کلام کی بھی تعریف کی۔ اور ایک بات جو اس شام کے حوالے سے یاد رہے گی۔ اکرم ثاقب نے انہیں بتایا کہ میں نے اشفاق احمد کے فلاں ڈرامے یا افسانےکو پکچرائز کیا اور یہی ان کی زندگی کا آخری کھیل ڈرامہ ثابت ہوا اس پر فراز صاحب نے برجستہ کہا۔۔ یارثاقب، تم مجھے تو ذرا معاف رکھنا۔۔۔۔ میرے کسی کام کو پکچرائز نہیں کرنا۔ ہم میں سے بھلا کون سوچ سکتاتھا کہ لائٹ کیمل کلر کے سوٹ میں ملبوس،زندگی سے بھرپور فراز صاحب کی صحت مند زندگی کی یہ آخری شام ان کی آخری نشست ثابت ہو گی۔ اس محفل کا زیادہ تر حصہ کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہے، کہ اکرم ثاقب واقعی اس کو فلم بند کر رہے تھے:
کسی اور دیس کی اور کو سنا ہے فراز چلا گیا سبھی دکھ سمیٹ کے شہر کے سبھی قرض
اتار کے شہرکا