امریکہ میں متعین پاکستان کے سفیر حسین حقانی نے وائس آف امریکہ کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین پر کسی غیرملکی فوج کو کارروائی کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہناتھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کاایک اہم اتحادی ہے اور اس نے اس جنگ میں کسی بھی ملک سے زیادہ جانی اور مالی قربانیاں دی ہیں۔
حسین حقانی کا کہناتھا کہ پاکستان افغانستان سے اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور اپنے اس ہمسایہ ملک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کام کررہا ہے۔ صدر آصف زرداری کی حلف برداری کی تقریب میں افغان صدر کی شرکت اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ نئی جمہوری حکومت اپنے ہمسایہ ممالک سے تعلقات میں بہتری کے لیے سنجیدہ ہے۔
پاکستانی سفیر نے وائس آف امریکہ کو ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ دہشت گردی کا مؤثر طورپر مقابلہ کرنے کے لیے ہر فریق کو اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ ، نیٹو اور افغانستان پر بھی اس سلسلے میں ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ دہشت گردوں سے نمٹنا صرف تنہا پاکستان کا ہی ذمہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے پر اعتماد اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کے نظام میں بہتری لاکر اس مسئلے سے مؤثر طور نمٹا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے علاقے میں طالبان اور القاعدہ کے خلاف کارروائی خود کرے گا اور امریکہ ، نیٹو اور افغانستان کو چاہیے کہ اپنی سرحد کی جانب دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو وہ خود کنٹرول کریں۔