وائس آف امریکہ کے اردو ٹیلی وژن شو خبروں سے آگے میں تجزیہ کار صادقین مرزا اور فل برائٹ سکالر عمران علی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی نئی حکمت عملی سے دہشت گردی کے خاتمے میں مدد نہیں ملے گی بلکہ اس سے خطے میں امریکہ کے خلاف جذبات مزید بھڑکیں گے اور مسائل میں اضافہ ہوگا۔
عمران علی کا کہناتھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نئی حکمت عملی اصل میں بش انتظامیہ کی جانب سے اپنی پارٹی کے صدارتی امیدوار جان مک کین کو کامیابی دلانے کی ایک کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی حال ہی میں جان مک کین یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ پاکستان کے اندر امریکہ کی جانب سے کسی فوجی کارروائی کے حق میں نہیں ہیں۔ مگر بش انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں میزائل حملے اور ہیلی کاپٹر سے فوجی اتار کر کارروائی کے نتیجے میں سینٹر مک کین کے لیے بھی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ عمران علی کا کہنا تھا کہ بش انتظامیہ کو ، جن کا اقتدار ختم ہونے میں اب بہت ہی کم وقت رہ گیا ہے، نئی آنےوالی انتظامیہ کے لیے ایسے مسائل چھوڑ کر نہیں جانے چاہیں جن کے سلجھانے میں انہیں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے۔
صادقین مرزا کا کہناتھا کہ افغانستان سے ملحق قبائلی علاقوں میں امریکہ کی جانب سے از خود فوجی کارروائیوں سے دہشت گردی کے خاتمے میں مدد نہیں ملے گی۔ ایسے اقدامات سے ایسے فوری فوائد حاصل ہونے کی بھی کوئی توقع نہیں ہے جو امریکی صدارتی انتخابات میں موجودہ انتظامیہ کی مدد کرسکیں۔ ان کا کہناتھا کہ کوئی ملک بھی تنہا اپنے طور پر اس مسئلے سے نہیں نمٹ سکتا۔ سب فریقوں کو ایک طویل مدتی منصوبے کو آگے بڑھنا ہوگا اور علاقے کی ثقافت، روایات اور تاریخ کو سامنے ر کھ کر منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔