ٹیکساس میں امدادی کارکنوں نے سمندری طوفان آئیک میں گھرے ہوئے تقریبا ً دوہزار لوگوں کو بحفاظت نکال لیا ہے۔ ان لوگوں نے حکام کی جانب سے علاقہ خالی کرنے کے احکامات کو نظر انداز کر دیا تھا۔ اگرچہ طوفان سے اتنے بڑے پیمانے پر جانی نقصان نہیں ہوا جس کاوفاقی اور سٹیٹ اتھارٹیز کو خدشہ تھا تاہم پراپرٹی کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔
حکام نے ٹیکساس کے ساحلی علاقوں کے ان رہائشیوں کے اپنے گھروں کو واپس لوٹنے کی سختی سے حوصلہ شکنی کر رہے ہیں جو کہ علاقہ خالی کر گئے تھے۔ ان کے مطابق کئی سڑکیں گرے ہوئے درختوں ،کھڑے ہوئے پانی اور طوفان کے ملبے کے باعث سفر کے قابل نہیں رہیں۔ ٹیکساس کے ساحلی علاقے کے بڑے حصوں میں بجلی اور گیس کی سپلائی منطقع ہے اور عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اس کی بحالی میں ہفتوں بلکہ مہینوں لگ سکتے ہیں۔ امدادی کارکن طوفان سے بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے ہیلی کاپٹرز ، کشتیاں اور ٹرکز استعمال کر رہے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس وقت تک ٹیکساس ، لوئی زیانا اور دوسری ریاستوں میں اس طوفان سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد اکیس ہو چکی ہے۔
آئیک ٹیکساس کے پورے جنوب مشرقی ساحل اور ریاست لوئی زیانا کے کچھ علاقوں میں ایک بہت اونچے درجے کے طوفان کا باعث بنا لیکن اس سے وہ چھ میٹر اونچی لہریں پیدا نہیں ہوئیں جن کی پیشین گوئی ساحلی قصبے گیلوسٹون کے لیے کچھ موسمیات دانوں نے کی تھی گیلوسٹون کی فضا سے لی جانے والی تصاویر سے ساحلی علاقے کے گھروں کو ہونے والے بڑے پیمانے کے نقصان کا پتہ چلتا ہے۔ کمیونیٹیز کے ابتدائی سرویز سیلاب اور ہوا سے بڑے پیمانے پر گھروں ، کشتیوں ، گاڑیوں اور دوسری جائیداد کو ہونے والے نقصان کی نشاند ہی بھی کرتے ہیں۔
فیڈرل ایمرجنسی منیجمنٹ ایجنسی کے ڈائریکٹر ڈیوڈ پالی سن کہتے ہیں کہ اس وقت ہماری پہلی ترجیح زندگیاں بچانے کے لیے کوششیں کرنا ہے اور ہم سرچ اور ریسکیو آپریشن کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔ اور ٕمختلف ایجینسیز بہت سا اور کام بھی کر رہی ہیں۔
ریاستی اور وفاقی عہدے داروں کے مطابق طوفان کے دوران اپنے گھروں میں پناہ لینے والوں کی مدد کے لیے اب متاثرہ علاقوں میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہ لوگ اب بجلی اور دوسری ضروریات زندگی کی سپلائی کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں۔ صدر بش نے ٹیکساس کے کئی علاقوں کو آفت زدہ قرار دے دیا ہے۔
ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مائیکل شیرٹوف کہتے ہیں کہ صدر نے ٹیکساس میں 29 کاونٹیز کو آفت زدہ قرار دے دیا ہے۔ اس سے مقامی کمیونٹیز اور افراد کی بحالی کی کوششوں کے لیے فیڈرل فنڈنگ کا راستہ ہموار ہوگا۔ اس کے علاوہ ملبے کی صفائی کے لیے بھی جو کہ ٹیکساس اور لوئی زیانا کی ریاستوں کے لیے ایک بڑا بوجھ ہوگا۔
ٹیکساس کے عہدے داروں کے مطابق تقریباً بائیس لاکھ افراد نے علاقے کو خالی کیا۔ جبکہ لوئی زیانا کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ساحلی کمیونیٹیز سے ایک لاکھ تیس ہزار لوگ منتقل ہوئے۔ حکام کے مطابق اس وقت گھروں کو ہونے والے نقصان کا اندازہ لگانا قبل از وقت ہے۔