امریکی سینٹ کی فارن افیئرز کی ایک سب کمیٹی میں پاکستان کے لیے 23 کروڑ ڈالر کی امریکی امداد کی فراہمی کے حوالے سے ایک سماعت ہوئی جس میں ایف سولہ لڑاکا جیٹ طیاروں کی اپ گریڈیشن کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ یہ رقم پچھلے سال امریکی کانگریس نےدہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے پاکستان کے لیے منظور کی تھی۔
اس جنگ میں کامیابی کے لیے ابتدائی طورپر اس امداد کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سیکیورٹی میں اضافے اور ان کی اقتصادی ترقی کے لیے استعمال کیے جانے کا منصوبہ تھا۔لیکن امریکی انتظامیہ کی جانب سے منصوبے میں تبدیلی کا اعلا ن سامنے آتے ہی بعض حلقوں کی جانب سے اس پر اعتراضات اٹھائے گئے۔
امریکی عوامی نمائندوں کے اعتراضات اور سوالات کو سننے اور ان کے جوابات کے لیے ایوان نمائندگان کی فارن افئیرز کمیٹی کی جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی سب کمیٹی کے سامنے ایک سماعت ہوئی جس میں اس حوالے سے مختلف خدشات اور سوالات انتظامیہ کے مختلف اداروں کے سامنے رکھے گئے ۔
کمیٹی کے چیئر مین گیری ایکر مین نے کہا کہ جہاں تک میں سمجھ پایا ہوں وہ یہ ہے کہ انتظامیہ نئے مالی سال میں اس مقصد کے لیے مزید گیارہ کروڑ ڈالرز خرچ کرنا چاہتی ہے اور یہ سب اس یقین دہانی کے باوجود کیا جا رہا ہے کہ دس کروڑ نوے لاکھ ڈالرز کی امداد کے علاوہ اس پروگرام کا خرچ حکومت پاکستان خود اٹھائے گی نہ کہ امریکی ٹیکس دہندگان ۔ لیکن اب معلوم ہو ا کہ ٹیکس دینے والے اس پروگرام کا نصف بوجھ برداشت کریں گے ۔ یہ بھی حال ہی میں پتہ چلا کہ حکومت پاکستان کو کانگریس کی لاعلمی میں یہ تاثر دیا گیا یا شروع سے ہی یہ یقین دہانی کروائی گئ کہ اس پروگرام کا نصف بل امریکہ ادا کرے گا ۔
اس کے علاوہ اور بھی بہت سے خدشات اورتحفظات کا اظہار کیا گیا جیسا کہ کیا اس وقت پاکستان کے زیر استعمال ایف سولہ طیارے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکی مقاصد پورے کرنے کے لیے ایک مناسب اور موثر ہتھیا ر ہیں ؟
اس سماعت میں یہ بھی کہا گیا کہ ایسے میں جبکہ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد اس جنگ کو اپنی نہیں بلکہ امریکہ کی جنگ سمجھتی ہے تو اان کی صلاحیت بڑھانے میں تو یہ امداد کام آسکتی ہے ان اس کی مدد سے لوگوں کی رائے اور خواہش کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔
بیورو آف ساؤتھ اینڈ سنٹرل ایشن افیئرز کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈونلڈ کیمپ نے کہا کہ ایف سولہ پاکستان کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے بہت اہم ہیں ۔ پاکستانی فضائیہ وادی سوات ،باجوڑ اور فاٹا کے علاقوں میں اپنے آپریشنز کے لیے ایف سولہ کے بیڑے سے بہت کام لے رہی ہے تاہم یہ طیارے اس قسم کی کارروائیوں کے لیے صرف دن کی روشنی میں استعما ل کیے جاسکتے ہیں ۔ مڈلائیف صلاحیت سے لیس ایف سولہ رات کے اندھیرے میں اور کسی بھی موسم میں اپنے اہداف کو اسی طرح سے ٹھیک نشانہ بنا سکیں گے جیسے ہم عراق میں کررہے ہیں ۔