کینیڈا کے شہر ٹورانٹو میں 33 واں بین ا لاقوامی فلمی میلہ دس دنوں تک اپنا فلمی رنگ بکھیر نے کے بعد 14 ستمبرکو اپنے اختتام کو پہنچا۔ میلے میں اس سال بھارتی فلموں کی دھوم رہی۔ بھارتی فلمیں گذشتہ کچھ سالوں سے عالمی سطح پر سنیما بینوں کے دل و دماغ پر منفرد چھاپ چھوڑنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ آج بالی وڈ کے فلم سازوں اور اداکاروں کے کام کو اِنٹر نیشنل فلم فیسٹیول میں نوٹس کیا جارہا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ٹورانٹو بین ا لاقوامی فلمی میلے میں بالی وڈ فلم ’سلم ڈاگ ملینئر‘ کو پیپلز چائس ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ ایوارڈ بالی وڈ فلم انڈسٹری کے لیے بھی بہت فخر کی بات ہے۔
ممبئی کی جھوپڑپٹی میں رہنے والے ایک غریب لڑکے کی زندگی پر مبنی برطانوی فلمساز ڈینی بوئیل کی فلم ’سلم ڈاگ ملینئیر‘ شروع سے ہی ٹورانٹو فلمی میلے کے جیوری اراکین اور فلمی نقادوں کی پسندیدہ فلم رہی۔ فلم کی کہانی 18 سالہ مسلم لڑکے کی ہے جو اپنی پسماندہ زندگی سے نجات حاصل کرنے کے لیے کوئز گیم شو میں حصہ لیتا ہے۔
سلم ڈاگ ملینیئر ۔۔۔ چھونپڑ پٹی کا لکھ پتی
’سلم ڈاگ ملینئر‘ میں اداکار انل کپور، عرفان خان، مدھرمتل، فریڈہ پنٹو اوربھارتی نژاد کے برطانوی اداکار دیو پٹیل بھی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ اپنے رول کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے 17 سالہ دیو پٹیل نے دو ماہ سے ذیادہ کا وقت ممبئی کی دھاراوی جھوپڑپٹی کے لڑکوں کے ساتھ گذارا۔ یہ فلم 28 نومبر کو امریکہ میں ریلیز کی جائے گی۔ خبر یہ بھی ہے کہ انل کپور نے فلم ’سلم ڈاگ ملینئیر‘کے ہدایت کار ڈینی بوئیل کو اپنی ہوم پروڈکشن فلم میں ہدایت دینے کے لیے منا لیا ہے۔
اس سال فلمی میلے میں بالی وڈ کی چوٹی کی فلمی ہستیاں اپنی فلموں کی تشہیر کرتی نظر آئیں۔ بالی وڈ کے شہنشاہ امیتابھ بچن، پریتی زینٹا، اکشے کمار، کترینہ کیف، راہول بوس، مشہور فلم ساز دیپا مہتا، نندیتاداس، سنتوش سیوان، ستیش کوشیک، شیکھر کپور، انیس بزمی اور ریتو پارنو گھوش جیسی معروف فلمی شخصیتوں کی ٹورانٹو فلمی میلے میں شرکت اِس بات کا ثبوت ہے کہ بھارتی فلموں کو دیکھنےمیں بین ا لاقوامی فلم بین دلچسپی دِکھا رہے ہیں۔
اِس سال ٹورانٹو بین الاقوامی فلمی میلے میں64 ملکوں کی 300 سے زائد فلمیں نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ بھارت سے اس سال نو بالی وڈ فلموں کو نمائش کے لیے بھیجا گیا تھا۔ کینیڈا میں مقیم بھارتی نژاد کی نامور فلمساز دیپا مہتا کی پنجابی انگریزی فلم ’ہیون آن ارتھ‘ کو فلم نقادوں نے فلمی میلے میں بے انتہا سراہا۔
دیپا نے اپنی اس فلم کے ذریعے کینیڈا میں مقیم بھارتی عوام میں عورتوں پر گھریلو تشدد کے بڑھتے رجحان کو فلمی پردے پر پیش کیا ہے۔ فلم میں پریتی زینٹا نے مرکزی کردار نبھایا ہے۔ واضح رہے کہ کینیڈا میں بڑی تعداد میں بھارتی نژاد کے پنجابی قوم کے لوگ بسے ہوئے ہیں۔ ایسے میں سنیما بینوں کے لیے کامیاب بالی وڈ ہدایت کار انیس بزمی کی سپر ہٹ فلم ’سنگھ از کنگ‘ کی نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا۔
نام ور بنگالی ہدایت کار ریتو پارنو گھوش کی فلم ’دی لاسٹ لیئر‘ کے شو کے بعد تو لوگوں نے امیتابھ بچن کے لیے کھڑے ہوکر تالیاں بجائی۔ اِس کے علاوہ 2002ء گجرات مسلم کُش فسادات پر مبنی ندیتاداس کی فلم ’فراق ‘ کو بھی کافی پذیرائی حاصل ہوئی۔’ فراق‘ نندیتا کی بطور ہدایت کار پہلی فلم ہے۔
میلے میں شامل ایک ا ہم اور خاص فلم آسٹریلوی فلمساز میگن ڈون کی ’یس میڈم سر‘ نامی دستاویزی سنیما ہے۔ اِس فلم کی کہانی بھارت کی پہلی آئی پی ایس خاتون پولیس آفیسر کرن بیدی کی زندگی پر مبنی ہے۔
فلم ساز سنتوش سیوان کی فلم ’بی فور دی رینس ’ کے ہیرو راہول بوس نے کینیڈامیں اپنی فلم کی نمائش کے بعد ملنے والی تعریف کو زندگی کا خوبصورت لمحہ بتایا ہے۔ جب کہ ہدایت کارشری نیواش کرشنا کی فلم ’جب خدا زمین پر اترے‘ ایک مذہبی کہانی ہے۔
ٹورانٹو انٹر نیشنل فلم فیسٹیول کو دنیا کا سب سے بڑا فلمی میلہ قرار دیا جارہا ہے۔ میلے میں دکھائی گئی فلموں کو ہالی وڈ کے نمائندوں کے علاوہ روزانہ 50 ہزار سے زائد فلم بینوں نے دیکھا۔