Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

امریکی مالیاتی  بحران مزید بڑھ گیا


September 17, 2008
اس رپورٹ کی ویڈیو - ڈاؤن لوڈ کیجیئے (Real) video clip
اس رپورٹ کی ویڈیو - Watch (Real) video clip

Housing

گزشتہ چند دہائیوں کے املاک کے  سب سے بڑے بحران نے  پیر کے روز دو بڑے امریکی مالیاتی اداروں کو نگل لیا جس سے امریکی اسٹاک مارکیٹ ایک دم گر گئی ۔  لیہمن برادرزنے ، جو امریکہ کا چوتھا سب سے بڑا مالیاتی ادارہ تھا ، پیر کے روز اپنے دیوالیے کا اعلان کردیا اور بروکیج کی دنیا میں اہم ترین  کمپنی میرل لینچ اپنے اثاثے فروخت کرنے پر مجبور ہوگئی۔  کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ماضی کے بدترین معاشی بحران کے بعد مالیاتی اداروں کو لگنے والا سب سے بڑا جھٹکا ہے۔

وال سٹریٹ پر ڈو جانز کا انڈکس پیر کے روز ایک دم ا 500 پوانٹس نیچھے آگیا۔ ستمبر 2001 کے بعد ایک دن میں اتنی کمی پہلی مرتبہ ہوئی ہے۔ دنیا بھر کی مارکیٹس میں بروکرز نے اس جھٹکے کو برداشت کرنے کی کوشش تو کی مگر لیہمن برادرز کا دیوالیہ اور بروکیج فرم میرل لینچ کو بنک آف امریکہ کی طرف سے خریدے جانے کی خبر نے سٹاکس کو کافی نقصان پہنچایا۔معاشی تجزیہ کار  ہُو جانسن کہتے ہیں کہ اس کا اثر بہت دور تک جا سکتا ہے۔

چند اندازوں کے مطابق ہاوسنگ کراسس کے آغاز سے اب تک نقصانات 500 ارب ڈالرز سے زیادہ ہیں سے زیادہ ہیں۔ کچھ ماہر معاشیات کو ڈر ہے کہ ان دو بڑے مالیاتی اداروں کا دیوالیہ ہونا کہیں مارکیٹ ڈوبنے کا کا آغاز نہ بن جائے۔ نیو یارک یونورسٹی کے ڈین اور ماہر معاشیات ٹامس کولی کہتے ہیں کہ کچھ اور مالیاتی ادارے بھی مشکل میں پھنس سکتے ہیں۔ ان کاکہنا ہے کہ AIG کو دیکھ لیں جو کہ انشورنس جائنٹ ہے اورانشورنس ایک منافع بخش بزنس ہے۔ مگر اس کو بھی مشکلات کا سامنا ہے اور کچھ بینکوں کے حالات بھی مخدوش ہیں ۔

صدر بش کا کہنا ہے کہ وہ ان مسائل سے آگاہ ہیں پیر کے روز انہوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ مسائل کا شکار مالیاتی ادروں کو قرضے فراہم کر کے معیشت پر اس کے اثر کو کم کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہنا تھا کہ مالیاتی اداروں کو جس طرح سنبھالا دیا گیا ہے، وہ  فوری طور پر تو یہ سرمایہ کاروں اور ان اداروں میں کام کرنے والوں کے لیے پریشان کن ہو گا، مگر مجھے یقین ہے کہ ہمارے مالیاتی اداروں میں اتنی لچک اور صلاحیت ہے کہ وہ اس صورت حال سے عہدہ برآہ ہوسکتے ہیں۔

ٹامس کُولی کہتے ہیں انہیں لگتا ہے کہ ہاوسنگ کے بحران کے باعث چند اور مالیاتی ادارے بھی یا تو بِک جائیں گے یا کسی کے ساتھ مل جائیں گے۔ان کا کہناتھا کہ اصل چیلنج مالیاتی نظام پراعتماد بحال کرنا ہے تاکہ گھروں اور دوسرے قرضوں کے نظام کو دوبارہ شروع کیا جاسکے۔

ایک ایسے موقع پر جب مالیاتی ادارے مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔ دس بڑے سیکیورٹی کروپس اور  عالمی بینکوں کے گروپ نے رقم ڈال کر 70 ارب ڈالر کا ایک فنڈ قائم کیا ہے جس سے مستقبل میں رقم کی کمی کا شکار ہونے والے ادارے قرض لے سکتے ہیں۔

 

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا دورہ بھارت

  مزید خبریں
لاہور میں عالمی پرفارمنگ آرٹس میلے کے قریب بم دھماکے
القاعدہ عالمی مالیاتی بحران سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں
اوباما سے مشرق وسطیٰ کی توقعات
ایلوس پریسلی مرنے کے 30 سال بعد بھی رائلٹی میں پہلے نمبر پر
آسٹریلیا  میں  امام  خواتین کے حقوق  کونظر انداز کر رہے ہیں: رپورٹ
کرکٹ کے معیار میں زوال آیا ہے: باسط علی
امراؤجان ادا کے خالق مرزا محمد ہادی رسوا، ہر فن مولا شخصیت
میڈونا اور رچی میں طلاق
گیس کے نرخوں میں  اضافے کی منظوری
2011ءتک روز گار کے 25لاکھ نئے مواقع: اوباما کا منصوبہ
ایران میں اسرائیل کے جاسوس کو پھانسی کی سزا
سماٹرا کے قریب سمندر کی تہہ میں طاقتور زلزلہ
زمبابوے پر مگابے راج ختم ہونا چاہیے : بُش
چین کی جانب سے امریکی رپورٹ کی مذمّت
جرمنی میں حزب اللہ کے ٹیلی ویژن پر پابندی
پاکستان کے سرحدی علاقے بدستور چیلنج ہیں: نیٹو اجلاس
کوئٹہ میں شیعہ عالم ہلاک
آزاد منڈیاں اقتصادی ترقی کے عظیم محرکات ہیں: بُش
لیبیا میں 36 سال بعد پہلے امریکی سفیر کی تعیناتی
جلا وطن تبتّی چین کے ساتھ مفاہمت کے خواہاں
عرا قی پارلیمنٹ  میں امریکی سیکیورٹی سمجھوتے پر رائے شماری
نیند کا مقصد کیا ہے؟
افغان مارکیٹ میں بم کا دھماکا
صومالی بحری قزاقوں نے یونان کے جہاز کو چھوڑدیا
امریکی شہریوں کو پاکستان کا سفر نہ کرنے کی تلقین
ق مکمل طور پر متحد ہے: چودھری شجاعت
اسلحے کو جدید بناؤ: چلٹن
شمالی وزیرستان میزائل حملہ، راشد رؤف ہلاک
”پاکستان جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہیں کرے گا“
اگلی دو دہائیوں میں امریکی رسوخ کم ہو جائے گا: انٹیلی جنس رپورٹ
کرکٹ ٹیم پاکستان بھیجنا دانش مندی نہیں ہو گی: بھارت
اونی ہاتھی کا ڈی این اے پڑھ لیا گیا
’تارے زمین پر‘ کی کہانی معموں کی کتاب سے چرائی گئی ہے؟