گزشتہ چند دہائیوں کے املاک کے سب سے بڑے بحران نے پیر کے روز دو بڑے امریکی مالیاتی اداروں کو نگل لیا جس سے امریکی اسٹاک مارکیٹ ایک دم گر گئی ۔ لیہمن برادرزنے ، جو امریکہ کا چوتھا سب سے بڑا مالیاتی ادارہ تھا ، پیر کے روز اپنے دیوالیے کا اعلان کردیا اور بروکیج کی دنیا میں اہم ترین کمپنی میرل لینچ اپنے اثاثے فروخت کرنے پر مجبور ہوگئی۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ماضی کے بدترین معاشی بحران کے بعد مالیاتی اداروں کو لگنے والا سب سے بڑا جھٹکا ہے۔
وال سٹریٹ پر ڈو جانز کا انڈکس پیر کے روز ایک دم ا 500 پوانٹس نیچھے آگیا۔ ستمبر 2001 کے بعد ایک دن میں اتنی کمی پہلی مرتبہ ہوئی ہے۔ دنیا بھر کی مارکیٹس میں بروکرز نے اس جھٹکے کو برداشت کرنے کی کوشش تو کی مگر لیہمن برادرز کا دیوالیہ اور بروکیج فرم میرل لینچ کو بنک آف امریکہ کی طرف سے خریدے جانے کی خبر نے سٹاکس کو کافی نقصان پہنچایا۔معاشی تجزیہ کار ہُو جانسن کہتے ہیں کہ اس کا اثر بہت دور تک جا سکتا ہے۔
چند اندازوں کے مطابق ہاوسنگ کراسس کے آغاز سے اب تک نقصانات 500 ارب ڈالرز سے زیادہ ہیں سے زیادہ ہیں۔ کچھ ماہر معاشیات کو ڈر ہے کہ ان دو بڑے مالیاتی اداروں کا دیوالیہ ہونا کہیں مارکیٹ ڈوبنے کا کا آغاز نہ بن جائے۔ نیو یارک یونورسٹی کے ڈین اور ماہر معاشیات ٹامس کولی کہتے ہیں کہ کچھ اور مالیاتی ادارے بھی مشکل میں پھنس سکتے ہیں۔ ان کاکہنا ہے کہ AIG کو دیکھ لیں جو کہ انشورنس جائنٹ ہے اورانشورنس ایک منافع بخش بزنس ہے۔ مگر اس کو بھی مشکلات کا سامنا ہے اور کچھ بینکوں کے حالات بھی مخدوش ہیں ۔
صدر بش کا کہنا ہے کہ وہ ان مسائل سے آگاہ ہیں پیر کے روز انہوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ مسائل کا شکار مالیاتی ادروں کو قرضے فراہم کر کے معیشت پر اس کے اثر کو کم کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہنا تھا کہ مالیاتی اداروں کو جس طرح سنبھالا دیا گیا ہے، وہ فوری طور پر تو یہ سرمایہ کاروں اور ان اداروں میں کام کرنے والوں کے لیے پریشان کن ہو گا، مگر مجھے یقین ہے کہ ہمارے مالیاتی اداروں میں اتنی لچک اور صلاحیت ہے کہ وہ اس صورت حال سے عہدہ برآہ ہوسکتے ہیں۔
ٹامس کُولی کہتے ہیں انہیں لگتا ہے کہ ہاوسنگ کے بحران کے باعث چند اور مالیاتی ادارے بھی یا تو بِک جائیں گے یا کسی کے ساتھ مل جائیں گے۔ان کا کہناتھا کہ اصل چیلنج مالیاتی نظام پراعتماد بحال کرنا ہے تاکہ گھروں اور دوسرے قرضوں کے نظام کو دوبارہ شروع کیا جاسکے۔
ایک ایسے موقع پر جب مالیاتی ادارے مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔ دس بڑے سیکیورٹی کروپس اور عالمی بینکوں کے گروپ نے رقم ڈال کر 70 ارب ڈالر کا ایک فنڈ قائم کیا ہے جس سے مستقبل میں رقم کی کمی کا شکار ہونے والے ادارے قرض لے سکتے ہیں۔