عراق کی سرزمین قدیم ثقافتی اور تا ریخی ورثےسے مالا مال ہے۔ 2003 کے بعد بدامنی کے دوران عراقی عجائب گھروں اور آثار قدیمہ سے بڑی تعداد میں قیمتی نوادارات کو چرا لیاتھا۔ حال ہی میں امریکی انتظامیہ نے کچھ نودارات اسمگلروں سے برآمد کر کے عراق کے حوالے کی ہیں۔
2003 میں عراق پر امریکی حملے کے دوران اوراس کے بعدلوٹ مار کرنے والوں نے جہاں سرکاری دفتروں کو لوٹا وہاں انہوں نے عراقی عجائب گھروں سے نوادرات بھی چرا ئیں ۔ ان عجائب گھروں میں1991 کی خلیج کی جنگ کے بعد بھی نوادارات کی توڑ پھوڑ کے واقعات ہوئے تھے اور ابھی تک کسی کو یہ معلوم نہیں ہے کہ عراق کے آثار قدیمہ کے مقامات سے کتنی نوادرات چرائی جاچکی ہیں مگر حال ہی عراق نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنی گمشدہ ثقافت کی کچھ قدیم اشیا بازیاب کرا لی ہیں ۔
واشنگٹن میں عراقی سفارت خانے میں ایک تقریب میں سفیر سمیر صمدائی نے ایک ہزار سے زیادہ نادر اشیاء اپنی ملکیت میں لیں ۔ ان میں سے بہت سی چار ہزار سال سے بھی زیادہ عرصہ قدیم تھیں ۔جولی مائیرز ، یو ایس امیگریشن اور کسٹمز اینفورسمنٹ کی سربراہ ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ امریکیوں کے لیے کے یہ باعث فخر ہے کہ انہوں نے ایک ہزار سے زیادہ نادر اشیاء واپس کی ہیں ۔
سفارت خانے میں ایک میز پر کچھ چیزوں کی نمائش کی گئی تھی جن میں سرامک کے کچھ ٹکڑے اور مجسمے شامل تھے ۔ تانبے کا ایک مجسمہ جنوبی عراق کے ایک مندر سے آیا تھا جس کا تعلق اس بادشادہ سے تھا جو 24 ویں صدی قبل مسیح میں وہاں حکمران تھا ۔ایک مجسمے پر موجود تحریر نے میسا چوسٹس کالج آف آرٹس کے ماہر آثار قدیمہ ، جون رسل کو اپنی جانب متوجہ کیا ۔
رسل کا کہنا تھا کہ یہ مندر محبت اور جنگ کی دیوی انانا کا تھا ۔ اس تحریر میں کہا گیا ہے کہ یہ مجسمہ اس بادشاہ کا ہے جسے اپنی دائمی زندگی کی دعا کرنی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس مجسمے کے دونوں ہاتھ دعائیہ انداز میں بندھے ہیں ۔ یہ انتہائی نادر ہے۔ یہ ایک بالکل منفرد نمونہ ہے ۔
نوادرات کو اُن اسمگلروں سے قبضے میں لیا گیا تھا جنہوں نے امریکی کسٹمزکو اپنے اصل ملک کا نام غلط بتایا تھا۔ اگر ان کو راستے ہی میں نہ پکڑا جاتا تو ان میں سے بہت سی نوادرات فروخت کی جاچکی ہوتیں۔
ان اشیاء کو اپنی تحویل میں لینے سے قبل سفیر صمدائی نے امریکی عہدے داروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے لیے ایک بہت خوشی کا موقع ہے ۔ ہم اپنے اجداد کے خزانوں کے کچھ حصوں کو پھر سے اپنی تحویل میں لے رہے ہیں ۔ اور یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جو صرف عراق کے لیے ہی اہم ہے۔یہ در اصل انسانیت کے لیے تہذیب کے آغاز کا ایک ریکارڈ ہے ۔
ان نوادرات کو بحری ذریعے سے بغداد پہنچایا جائے گا اور انہیں نوادرات کے عجائب گھر کے حوالے کر دیا جائے گا۔