امریکی ریاست ٹیکساس کے دارلحکومت آسٹن کو عموماً ایک قدامت پسند دریا میں ایک آزاد خیال جزیرہ قرار دیا جاتا ہے۔
یہاں کے لوگوں میں ڈیموکریٹک پارٹی کو ووٹ دینے کا رجحان پایا جاتا ہے جبکہ باقی ریاست عمومی طور پر ری پبلیکنز کی حامی ہے۔
آسٹن میں براک اوباما کی حمایت بہت واضح ہے۔ بل بشپ کے مطابق جو،ہم خیال امریکہ کی گروہ بندی کی کتاب کے مصنف ہیں کہتے ہیں کہ اس ریاست میں رہنے کے لیے لوگ کس جگہ کا انتخاب کرتے ہیں۔
بشپ کہتے ہیں کہ جو لوگ شہروں میں رہتے ہیں ان میں ڈیموکریٹس کو ووٹ دینے کا رحجان ہے۔ لیکن دیہی اور دور دراز علاقوں کے رہنے والے ری پبلیکن پارٹی کو ہی ووٹ دیتے ہیں۔ اس تقسیم کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مخالف نظریات رکھنے والوں میں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے۔
اس رجحان کو بعض ایسے خبررساں اداروں کی جانب داری نے تقویت پہنچائی ہے جن کی کوریج اور تبصروں کا زیادہ تر حصہ ان کے نظریاتی جھکاؤ پر مبنی ہوتا ہے۔ بشپ کہتے ہیں کہ گذشتہ چند برسوں سے انتخابی اعدادو شمار ان کے نظریے کی تصدیق کرتے ہیں۔
بشپ ملک میں بھاری اکثریت والی ان کاؤنٹیز کی تعداد میں ڈرامائی اضافہ دیکھتے ہیں جوکسی امیدوار کے لیے کم وبیش 20 فی صد تک حمایت کا مارجن فراہم کرتی ہیں۔ 1976 میں ایسی کاؤنٹیز کی تعداد 27 فی صد تھیں جبکہ 2004 میں یہ تعداد 50 فی صد تک پہنچ گئی تھی۔