ہری کین آئیک جسے ماہرین نے ایک ،خوفناک بلا، قرار دیا ہے ، وہ اس سال ایٹلانٹک میں آنے والا تیسرا بڑا سمندری طوفان تھا۔ ریاست فلوریڈا کی سرکاری یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف وسکانسن کے سائنس دانوں نے رسالے نیچر میں لکھا ہے کہ یہ طوفان زیادہ شدید رہا۔ ان کا یہ جائزہ پچھلے پندرہ سال کے دوران آنے والے 200 طوفانوں کی سٹیلائٹ کے ذریعے لی گئی تصاویر اور دوسرے اعداد وشمار پر مبنی تھا۔ اس رپورٹ کے مصنف جارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے جوڈتھ کری نے سمندری طوفان کی شدت میں اضافے کی وجہ گلوبل وارمنگ کو قرار دیا جس کے باعث سمندر کا درجہ حرارت بڑھ چکاہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ 25 برسوں میں ہمیں بہت سے غیر معمولی واقعات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ بہت سے ایسے ماہرین بھی موجود ہیں جواس نظریے کو قبول کرنے کےلیے تیار نہیں ہیں کہ سمندری طوفانوں میں شدت کی وجہ گلوبل وارمنگ ہے۔ لیکن اس سے ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا ہے۔ یونیورسٹی آف میری لینڈ کے پروفیسر جیفری ہیلورسن کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ طوفانوں میں شدت کی وجہ گلوبل وارمنگ ہے۔ ہری کین کا آغاز کیسے ہوتا ہے ، پروفیسر جیفری کہتے ہیں کہ سمندر کا گرم پانی ہری کین کے لیے ایندھن کے طورپر کام کرتا ہے۔ پانی گرم ہونے سے بخارات بلند ہوتے ہیں جو بلندی پر جاکر ٹھنڈے پڑجاتے ہیں اور ان سے خارج ہونے والی حرارت طوفان کی طرف چلی جاتی ہے۔ اس طرح یہ انرجی کا سمندر سے فضاء کی جانب سفر ہے۔ پانی جتنا گرم ہوگا ، اتنے ہی زیادہ بخارات بنیں گے۔ اس طرح یہ بخارات ایندھن کا کام کرتے ہیں۔ بخارات زیادہ ہوں گے تو انجن بھی تیز چلے گا۔ آپ اس کی مثال اس طرح لے سکتے ہیں کہ اعلیٰ معیار کے پٹرول سے انجن زیادہ بہتر چلتا ہے۔ کرس لینڈسی کا تعلق ہری کین سینٹر سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میرے خیال میں ہری کین کا گلوبل وارمنگ سے تعلق بہت ہی معمولی ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ سمندری طوفان کے زیادہ شدید ہونے کاتعلق آب و ہوا میں ہونے والی تبدیلی اور موسمیاتی چکر ہیں۔