بس فینول ایک کیماوی مرکب ہے جو پلاسٹک کی بوتلیں اورروز مرہ استعمال کی پلاسٹک کی بہت سی دوسری اشیاء بنانےکے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان لیبارٹریوں کی مطابق جہاں جانوروں پر تجربات کیے جاتے ہیں ، بس فیونول اے یا بی پی اے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ اب انسانوں پر کیے جانے والے ایک مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ اس کیمیاوی مرکب کے استعمال سے دل اور جگر کے امراض اور خون میں شکر کی مقدار بڑھنے کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
بس فینول اے آپ کو روزمرہ زندگی میں ہر جگہ دکھائی دیتا ہے۔ یہ ایک کیمیاوی مرکب ہے جسے پلاسٹک بہت سی چیزوں میں استعمال کیا جاتا ہے جن میں پانی ،سوڈے اور بچوں کے دودھ پینے کی بوتلیں بھی شامل ہیں۔
پلاسٹک کی بوتلیں اور اشیاء استعمال کرنے والے لوگوں پر کیے جانےوالے مطالعے میں شامل 93 فی صد امریکیوں میں بی پی اے کی بڑی مقدار پائی گئی۔ اگرچہ امریکن کیمسٹری کونسل کا کہنا ہے کہ بی پی اے نقصان دہ نہیں ہوتا لیکن ایک نئے مطالعاتی جائزے سے ظاہر ہوا ہے کہ ممکن ہے کہ یہ نظریہ درست نہ ہو۔ اس مطالعاتی جائزے کے نگران ڈاکٹر ڈیوڈ ملٹ زر تھے۔
ان کا کہناتھاکہ اس جائزے میں شامل ایک چوتھائی امریکیوں میں، جن میں بی پی اے کی مقدار بہت زیادہ مقدار تھی، شوگر یا دل کی بیماری کا امکان دگنے سے بھی زیادتھا۔
برطانیہ کے پینی سولا میڈیکل اسکول کے ڈاکٹر میلٹ زر اور ان کے ساتھیوں نے بیماریوں پر کنٹرول کے امریکی مراکز سی ڈی سی سے حاصل ہونے والے اعدادو شمار کا تجزیہ کیا۔ سی ڈی سی نے 1400 سے زیادہ بالغ افراد پر سروے کیا تھا۔ اس مطالعے سے یہ نتیجہ سامنے آیا کہ جن افراد کے یورین میں بی پی اے کی سطح تھی ، ان میں کچھ خاص بیماریوں کے پیدا ہونے کا خطرہ بھی موجود تھا۔
یونیورسٹی آف ایکزی ٹر برطانیہ کی پروفیسر تمارا کیلو وے کہتی ہیں۔ ہم جو تحقیق کررہے ہیں اس میں ان اعدادوشمار کا جائزہ لیا جارہا ہے جس میں یہ کیمیاوی مرکب ایک طویل عرصے تک، بہت کم مقدار میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
پروفیسر گیلووے کہتی ہیں کہ اس مطالیاتی جائزے کے محقیق کو یہ نہیں معلوم ہوا کہ بی پی اے سے ان بیماریوں کے خطرے میں اضافہ کیوں دکھائی دیتاہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ماہرین کا خیال ہے کہ بس فینول اے ایک ہارمون کی طرح کام کرتا ہے۔ یہ ہارمونز کی عمل میں رکاوٹ ڈالتا ہے خاص طور پر ایسٹروجن میں ، اور ممکن ہے کہ اس کا کچھ اثر انسولین کے اس طریقہ کار پر بھی ہوتا ہے جس کا تعلق جسم میں چربی کی تقسیم کے عمل سے ہے۔
محقیقن یہ بات زور دے کر کہتے ہیں کہ یہ صرف ایک مطالعاتی جائزہ ہے۔ اگرچہ نتائج سے ان شواہد کی تائید ہوتی ہے کہ بی پی اے کم ترین سطح پر بھی نشہ آور ہوسکتا ہے۔ محقیقن کا کہنا ہے کہ اس کی تصدیق کی لیے مزید ریسرچ کی ضرورت ہے۔
یہ ریسرچ جرنل آف امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن میں شائع ہوئی ہے۔ یہ جائزہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہےجب خوراک اور ادویات سے متعلق امریکی انتظامیہ اس کیمیاوی مرکب کے حوالے سے ایک سماعت کررہی ہے۔
خوراک کے ادارے کی ایک سینیئر سائنس دان نے سماعت کے دوران کہا کہ یہ کیمیاوی مرکب محفوظ ہے۔ لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ جانوروں پر کیے جانے والے مطالعاتی جائزوں کے نتائج کو مسترد نہیں کیا جاسکتا اور یہ کہ مزید ریسرچ کی ضرورت ہے۔
ادارے نے بس فینول کے بارے میں مزید ریسرچ کے لیے ایک بیرونی پینل مقرر کردیا ہے۔