کچھ تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ جان مک کین اور براک اوباما کے درمیان ہونے والے صدارتی انتخابات میں 13 کروڑ سے زیادہ ووٹ پڑنے کی توقع ہے جو ایک ریکارڈ ہوگا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ نوجوان ووٹروں کی وجہ سے ہوگا۔ دونوں سیاسی جماعتیں ان ووٹرں تک پہنچنے کی کوشش کررہی ہیں جن کی عمریں 30 سال سے کم ہیں۔
ملک بھر کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بڑا جوش و خروش پایا جارہا ہے۔ یونیورسٹی آف ورجینیا میں نئے تعلیمی سال کےآغاز پر 21 سالہ جیسی وائٹ اسٹوڈنٹس ووٹروں کا اندراج کررہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ میں داخلے کے لیے آنے والے فرسٹ ایئر کے اسٹوڈنٹس میں بڑا سیاسی جوش و خروش دیکھ رہی ہوں۔
حالیہ عشروں میں نوجوان امریکی بڑے پیمانے پر لاتعلقی کا اظہار کرتے رہے ہیں اور امریکی آبادی میں ان کے ووٹوں کی شرح 17 فی صد سے کم رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نوجوان ووٹروں کو صدارتی امیدوار اور ان کی سیاسی جماعتیں نظر انداز کرتی رہی ہیں۔ اب ووٹ دینے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ 2000 میں ایک کروڑ 80 لاکھ ووٹروں کی عمریں 30 سال سے کم تھیں۔ اس کے چار سال بعد دو کروڑ نوجوانوں نے ووٹنگ میں حصہ لیا۔
مک کین اور اوباما 18 سے 30 سال کی عمروں کے 5 کروڑ امریکیوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے سخت محنت کررہے ہیں۔ وہ ان کے پاس کالجوں میں جارہے ہیں۔ انٹرنیٹ کے ذریعے رابطہ کررہے ہیں۔ ہاروڈ انسٹی ٹیوٹ آن پالیٹکس کے رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزےسے ظاہر ہوا ہے کہ نوجوان ووٹروں میں اوباما کی حمایت 55 فی صد جبکہ مک کین کی 32 فی صد ہے۔
سیاسی تجزیہ کار لیری سیباٹو نومبر کےا نتخابات میں بڑی تعداد میں نوجوان ووٹروں کی توقع کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میرا خیال ہے کہ اس بار ایک قابل ذکر تعداد میں نوجوان ووٹ ڈالنے آئیں گے۔ 1970 میں جب 18 سال کی عمر کے نوجوانوں کو ووٹ دینے کا حق ملا تھا ،اپنی تعداد کے تناسب سے ووٹ دینے والوں کی تعداد خاصی کم رہی ہے خاص طورپر ابتدائی برسوں میں۔
ملک بھر کی مختلف کمیونیٹز میں سرگرم کارکن نوجوانوں ووٹروں کو متحرک کرنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کررہے ہیں جن میں موسیقی بھی شامل ہے اور اس مقصد کے لیے وہ کنسرٹ منعقد کرارہے ہیں جن میں اپنے امیدوار کی حمایت میں گیت بھی شامل ہوتے ہیں۔
واشنگٹن ڈی سی میں ٹی آئی نامی افریقن امریکن میوزک گروپ ان نوجوانوں تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں جو کالج نہیں جاتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان اہم ووٹروں کو امیدوار اکثر نظر انداز کردیتے ہیں۔ میوزک گروپ کے ایک رکن کا کہنا تھا کہ ہمارے ووٹ نہ دینے کا براہ راست مطلب یہ ہےکہ امریکی قانون اور سیاست میں ہماری نمائندگی نہیں ہوگی۔
پہلی بار ایسا ہورہا ہے کہ 18 سالہ لی ڈین ول اور ان کےساتھیوں کو توقع ہے کہ ان کے ووٹ سے تبدیلی آئے گی۔ وہ کہتی ہیں کہ میں اپنی اور دوسرے امریکیوں کی زندگیوں میں تبدیلی لانے کی کوشش کررہی ہوں اورمجھے یقین ہے کہ ایسا میرے ووٹ ڈالنے سے ہوگا۔
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ 2008 کی انتخابی مہم میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی وجہ معاشی مسائل اورتبدیلی کے وعدے ہیں۔ گوف سکلی اوباما کے حامی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں ان کے بہت سے ساتھی سیاست کی پروا ہ نہیں کرتے تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ میرے علاقے میں ہائی سکول میں پڑھنے والے نوجوان اب سیاست میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں ،جبکہ پہلے ایسا نہیں تھا۔ میں سوچتا ہوں کہ یہ سوچ کہاں سے آئی ہے۔ ذاتی طورپر میرا خیال ہے کہ اوباما نے اس سلسلے میں بہت کچھ کیا ہے۔ وہ نوجوان ووٹروں کو باہر لائے ہیں۔
بیس سالہ آئن ایک ری پبلیکن ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب نوجوان بہت پرجوش نظر آتے ہیں مگر انہیں شبہ ہے کہ وہ ووٹ دینے بھی جائیں گے۔
وہ کہتے ہیں کہ نوجوان ووٹر ممکن ہے کہ اوباما یا مک کین کو ایک صحیح امیدوار سمجھتے ہوں ، مگر ہوسکتا ہے کہ وہ ووٹ دینے نہ جائیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ 18 سے25 سال کے نوجوانوں کا عام مسئلہ ہے۔ ان کی ایک رائے تو ہوتی ہے لیکن وہ ووٹ دینے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر 2008 کے الیکشن میں نوجوان ووٹر سامنے آتے ہیں تو اس سے مستقبل کی سیاست میں مزید نوجوانوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔