Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

امریکہ جنوبی ایشیاء میں طویل مدت تک رہنا چاہتا ہے


September 22, 2008
اس رپورٹ کی ویڈیو - ڈاؤن لوڈ کیجیئے (Real) video clip
اس رپورٹ کی ویڈیو - Watch (Real) video clip

Face-covered militants who they say are Talibans, pose with RPG and AK47 weapons, in Zabul province, southern of Kabul
طالبان
ایک مشہورامریکی  تھنک ٹینک  سے منسلک ایشیائی امور کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ ری پبلیکن پارٹی کے صدارتی امیدوار جان مک کین جیتنے کی صورت میں جنوبی ایشیاء میں جمہوری نظاموں کے استحکام پر توجہ دیں گے۔ 

امریکہ میں صدارتی انتخابی مہم کے دوران دونوں بڑی سیاسی جماعتیں جہاں ملک کے اندرونی مسائل سے نمٹنے کے لیے اپنے منشور اور لائحہ عمل عوام کے سامنے پیش کررہی ہیں وہیں وہ آنے والے دنوں میں بیرونی دنیا سے اپنے تعلقات کے حوالے سے اپنی سوچ اور ایجنڈوں پر بھی بات چیت کررہی ہیں۔  نومبر کے انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہونے والی نئی امریکی انتظامیہ کے لیے جنوبی ایشیائی ممالک سے تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہوں گے۔  معروف امریکی تھنک ٹینک کارنیگی انڈومنٹ کی ایک اسکالر ایشلی ٹیلیز کا کہنا ہے کہ ری پبلیکن پارٹی کے حکومت سنبھالنے کی صورت  میں امریکہ ایشائی  خطے میں ایک لمبے عرصے تک موجود رہے گا۔

وہ کہتے ہیں کہ بنیادی تبدیلی یہ آئے گی کہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں اس اتحاد کا ادارک ہوگا۔  ہم اس کے ساتھ رہیں گے اور اسے اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔  دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ہمیں تقسیم نہیں بلکہ متحد کرنا چاہیے۔  ہم مختلف طریقوں سے اس بات پر زور دیں گے۔

ایشلی کا کہنا تھا کہ اگر جان مک کین صدر منتخب ہوتے ہیں تو وہ پاکستان میں سویلین حکومت اور فوج کےساتھ مل کرکام کریں گے اور وہاں جمہوریت کا استحکام ان کی پالیسی کا ایک اہم ستون ہوگا۔  انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کو مالی امداد دیتا رہے گا تاہم اس امداد کا ایک بڑا حصہ تعلیم اور توانائی کے شعبوں میں بہتری کے لیے صرف کیا جائے گا۔  پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ترقیاتی منصوبے اور وہاں سیاسی اصلاحات کے لیے کام کرنا بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہوگا۔  انہوں نے کہا کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ امریکہ خطے میں طویل مدت کے لیے موجود رہے گا۔

ایشلی نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم خطے کو چھوڑ کرچلے جاتے ہیں تو پھر اسی طرح کے حالات پیدا ہوجائیں گے جیسے سویت یونین کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد پیدا ہوئے تھے۔  ہم نہیں چاہتے کہ تاریخ اپنے آپ کو دوہرائے۔  ہمارے خیال میں ریاستوں کے ساتھ تعمیری اشتراک طویل المدت مفادات کے لیے انتہائی اہم ہے۔

پاکستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ایشلی نے کہا کہ جان مک کین کا خیال ہے کہ ڈاکٹر قدیر کا باب ختم نہیں ہوا اور وہ چاہیں گے کہ اس معاملے کی تہہ تک پہنچا جائے۔


 

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا دورہ بھارت

  مزید خبریں
لاہور میں عالمی پرفارمنگ آرٹس میلے کے قریب بم دھماکے
القاعدہ عالمی مالیاتی بحران سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں
اوباما سے مشرق وسطیٰ کی توقعات
ایلوس پریسلی مرنے کے 30 سال بعد بھی رائلٹی میں پہلے نمبر پر
آسٹریلیا  میں  امام  خواتین کے حقوق  کونظر انداز کر رہے ہیں: رپورٹ
کرکٹ کے معیار میں زوال آیا ہے: باسط علی
امراؤجان ادا کے خالق مرزا محمد ہادی رسوا، ہر فن مولا شخصیت
میڈونا اور رچی میں طلاق
گیس کے نرخوں میں  اضافے کی منظوری
2011ءتک روز گار کے 25لاکھ نئے مواقع: اوباما کا منصوبہ
ایران میں اسرائیل کے جاسوس کو پھانسی کی سزا
سماٹرا کے قریب سمندر کی تہہ میں طاقتور زلزلہ
زمبابوے پر مگابے راج ختم ہونا چاہیے : بُش
چین کی جانب سے امریکی رپورٹ کی مذمّت
جرمنی میں حزب اللہ کے ٹیلی ویژن پر پابندی
پاکستان کے سرحدی علاقے بدستور چیلنج ہیں: نیٹو اجلاس
کوئٹہ میں شیعہ عالم ہلاک
آزاد منڈیاں اقتصادی ترقی کے عظیم محرکات ہیں: بُش
لیبیا میں 36 سال بعد پہلے امریکی سفیر کی تعیناتی
جلا وطن تبتّی چین کے ساتھ مفاہمت کے خواہاں
عرا قی پارلیمنٹ  میں امریکی سیکیورٹی سمجھوتے پر رائے شماری
نیند کا مقصد کیا ہے؟
افغان مارکیٹ میں بم کا دھماکا
صومالی بحری قزاقوں نے یونان کے جہاز کو چھوڑدیا
امریکی شہریوں کو پاکستان کا سفر نہ کرنے کی تلقین
ق مکمل طور پر متحد ہے: چودھری شجاعت
اسلحے کو جدید بناؤ: چلٹن
شمالی وزیرستان میزائل حملہ، راشد رؤف ہلاک
”پاکستان جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہیں کرے گا“
اگلی دو دہائیوں میں امریکی رسوخ کم ہو جائے گا: انٹیلی جنس رپورٹ
کرکٹ ٹیم پاکستان بھیجنا دانش مندی نہیں ہو گی: بھارت
اونی ہاتھی کا ڈی این اے پڑھ لیا گیا
’تارے زمین پر‘ کی کہانی معموں کی کتاب سے چرائی گئی ہے؟