ایک مشہورامریکی تھنک ٹینک سے منسلک ایشیائی امور کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ ری پبلیکن پارٹی کے صدارتی امیدوار جان مک کین جیتنے کی صورت میں جنوبی ایشیاء میں جمہوری نظاموں کے استحکام پر توجہ دیں گے۔
امریکہ میں صدارتی انتخابی مہم کے دوران دونوں بڑی سیاسی جماعتیں جہاں ملک کے اندرونی مسائل سے نمٹنے کے لیے اپنے منشور اور لائحہ عمل عوام کے سامنے پیش کررہی ہیں وہیں وہ آنے والے دنوں میں بیرونی دنیا سے اپنے تعلقات کے حوالے سے اپنی سوچ اور ایجنڈوں پر بھی بات چیت کررہی ہیں۔ نومبر کے انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہونے والی نئی امریکی انتظامیہ کے لیے جنوبی ایشیائی ممالک سے تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہوں گے۔ معروف امریکی تھنک ٹینک کارنیگی انڈومنٹ کی ایک اسکالر ایشلی ٹیلیز کا کہنا ہے کہ ری پبلیکن پارٹی کے حکومت سنبھالنے کی صورت میں امریکہ ایشائی خطے میں ایک لمبے عرصے تک موجود رہے گا۔
وہ کہتے ہیں کہ بنیادی تبدیلی یہ آئے گی کہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں اس اتحاد کا ادارک ہوگا۔ ہم اس کے ساتھ رہیں گے اور اسے اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ہمیں تقسیم نہیں بلکہ متحد کرنا چاہیے۔ ہم مختلف طریقوں سے اس بات پر زور دیں گے۔
ایشلی کا کہنا تھا کہ اگر جان مک کین صدر منتخب ہوتے ہیں تو وہ پاکستان میں سویلین حکومت اور فوج کےساتھ مل کرکام کریں گے اور وہاں جمہوریت کا استحکام ان کی پالیسی کا ایک اہم ستون ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کو مالی امداد دیتا رہے گا تاہم اس امداد کا ایک بڑا حصہ تعلیم اور توانائی کے شعبوں میں بہتری کے لیے صرف کیا جائے گا۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ترقیاتی منصوبے اور وہاں سیاسی اصلاحات کے لیے کام کرنا بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ امریکہ خطے میں طویل مدت کے لیے موجود رہے گا۔
ایشلی نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم خطے کو چھوڑ کرچلے جاتے ہیں تو پھر اسی طرح کے حالات پیدا ہوجائیں گے جیسے سویت یونین کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد پیدا ہوئے تھے۔ ہم نہیں چاہتے کہ تاریخ اپنے آپ کو دوہرائے۔ ہمارے خیال میں ریاستوں کے ساتھ تعمیری اشتراک طویل المدت مفادات کے لیے انتہائی اہم ہے۔
پاکستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ایشلی نے کہا کہ جان مک کین کا خیال ہے کہ ڈاکٹر قدیر کا باب ختم نہیں ہوا اور وہ چاہیں گے کہ اس معاملے کی تہہ تک پہنچا جائے۔