بالی وڈ کے منجھے ہوئے اداکارعامر خان کی فلم ’تارے زمیں پر‘ کو فلم فیڈریشن آف انڈیا نےبھارت کی جانب سے غیر ملکی زبان کی فلموں کے زمرے میں آسکر کے لیے نامزد کیا ہے۔ بطور ہدایت کار اپنی اِس پہلی فلم میں عامر خان نے ڈس لیکسیا سے متاثر آٹھ سالہ بچے کوتعلیمی میدان میں درپیش مشکلات کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ فلمی پردے پر پیش کیا۔ گذشتہ سال ریلیز ہوئی اِس سپر ہٹ فلم میں عامر خان نے آرٹ ٹیچر کا کردار ادا کیا ہے لیکن فلم کا اصل ہیرو اِس کا مضبوط اور جاندار اسکرپٹ ہے جسے امول گپتے نےلکھا ہے۔
یہ پہلی بار نہیں جب فلم انڈسٹری میں مسٹر پرفیکٹ کے نام سے مشہورعامر خان کی کوئی فلم آسکرز کے لیے بھیجی جا رہی ہے۔ 2002ء میں عامر خان کی فلم ’لگان ‘کو آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ ہدایت کار آسوتوش گواریکر کی فلم ’لگان‘ جس کے پروڈیوسر بھی عامر خان تھے غیر ملکی زمرے کی فلموں میں پہلی پانچ فلموں کی دوڑ میں شامل ہونے میں کامیاب ہوئی تھی۔
اس سال 81 ویں آسکر ایوارڈ میں شمولیت کے لیے مقابلہ انتہائی سخت تھا۔ فلم فیڈریشن آف انڈیا کو نو فلموں میں سے کسی ایک بہترین فلم کو بھارت کی نمائندگی کے لیے چننا تھا۔ جودھا اکبر، راک آن، ممبئی میری جان،اے وینسڈے، بلیک اینڈ وہائٹ‘ کے علاوہ مراٹھی زبان کی دو اور تیلگو زبان کی ایک فلم کو مات دے کر ’تارے زمیں پر‘ آسکر کی دوڑ میں شامل ہوئی ہے۔
فلم ناقدین اور سنیمابین دونوں ہی پُرامید ہیں کہ اِس بار عامر کی فلم میں آسکر جیسے بین ا لاقوامی ایوارڈ کو جیتنے کے لیے ضروری تمام مواد موجود ہے۔ بھارت میں تارے زمیں پر فلم کواپنی منفرد کہانی، لاجواب ہدایت کاری، لافانی اداکاری اور مسحورکن موسیقی کے لیے فلم فیئر ایوارڈ سمیت کئی دیگر بڑے ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ عامر نے ’تارے زمیں پر‘ ملنے کسی بھی ایوارڈ کو قبول نہیں کیا۔ یاد رہے کہ فلم رنگیلا کے بعد سے عامر آج تک بالی وڈ کے ہرایوارڈ پروگرام کا بائیکاٹ کرتے آرہے ہیں۔ عامر کو بھارت میں ایوارڈ کے لیے ہونے والے انتخاب کے طریقہ ٴکار پر اعتراض ہے۔ عامر لتا منگیشکر کے بہت بڑے مداح ہیں اور اسی لئے پہلی بار اپنے سارے قانون بالائے طاق رکھ کر اس سال اپریل میں بھارتی سینما کی خدمات کے صلے میں انھیں دیا گیا لتا منگیشکر ایوارڈ عامر نے خود ذاتی طور پر اپنی لتا دیدی کے ہاتھوں قبول کیا۔
فلم انڈسٹری کے کچھ لوگوں کو شکایت ہے کہ عامر خان آسکر ایوارڈ کے لیے فلموں کی تشہیر کے لیے ہمیشہ سرگرم رہتے ہیں۔