امریکہ میں بچوں کی پرورش ایک مہنگا کام ہے۔ امریکی محکمہ زراعت کے اندازے کے مطابق ایک بچے کی کالج گریجویشن تک پرورش پر ایک متوسط آمدنی کے خاندان کا دو لاکھ ڈالرز سے زیادہ کا خرچ آتا ہے
ایک بچے کی پیدائش سے بڑھ کر والدین کے لیے خوشی کی کوئی اور بات نہیں ہوتی مگر کچھ ہی چیزیں والدین پر اس سے زیادہ معاشی بو جھ کا باعث بنتی ہیں۔ امریکی محکمہ زراعت کا اندازہ ہے کہ ایک بچے کی اٹھارہ سال تک پرورش پر ایک متوسط خاندان کا بیس لاکھ چالیس ہزار تک کا خرچ آتا ہے۔
یوکرین سے آکر امریکہ آباد ہونے والی اوگلا ریزہک ایک مالیاتی ماہر ہیں۔ وہ خاندانوں کو سب سے پہلے کسی غیر متوقع صورت حال کے لیے منصوبہ بندی کا مشورہ دیتے ہوئے ،والدین میں سے کسی ایک کی موت کی صورت میں مالی سیکیورٹی کے لیے لائف انشورنس خریدنے یا اپ گریڈ کرنے کا کہتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ نجانے لوگ یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ میرے تجربے میں کئی کیسز ایسے ہیں جب لوگوں کو ایسا نہ کرنے پر پچھتاوا ہوا۔
ہیلتھ کئیر ریسرچ کی ایجنسی کے اندازے کے مطابق ایک حاملہ خاتو ن کی دیکھ بھال اور اسپتال کی فیسوں پر اوسطاً سات ہزار ڈالرز کا خرچ آتا ہے۔ بہت سے مالیاتی ماہر ان اخراجات کی ادائیگی کے لیے ایک ہیلتھ بجٹ بنانے کی تجویز بھی دیتے ہیں۔ کئی نئے والدین اس بات پر حیران ہیں آجکل بچوں کو کس قدر مہنگی چیزوں کی ضرورت پیش آتی ہے جیسے کار کا خصوصی سیٹ ، پنگھوڑا ، بچہ گاڑی اور کپڑے وغیرہ۔ اخراجات میں بچت کے لیے بہت سے والدین استعمال شدہ چیزیں مل کر استعمال کرنے کے لیے نیٹ ورک بنا لیتے ہیں۔
بک کہتی ہیں کہ میری بہنوں کے بچے میرے بچوں سے بڑے ہیں۔ انہوں نے ہمیں ان کے کچھ کھلونے دیئے پھر یہاں علاقے میں ممی سیل لگتی ہے جو بڑی فائدہ مند ہوتی ہے۔
بک اور برینڈن دونوں ہی اپنے پہلے بچے کی پیدائش سے پہلے کام کرتے تھے۔ بعد میں دونوں میں سے ایک کو گھر میں رہ کر بچے کی نگہداشت یا پھر اس کے لیے کسی ڈے کئیر کا انتظام کرنے کا فیصلہ کرنا تھا۔ آمدنی کے مختلف لیولز کے مدنظر ڈے کئیر کے اخراجات مختلف ہوسکتے ہیں۔ بچوں کی دیکھ بھال کی ایک قومی تنظیم اور ریفرل ایجنسیز کے اندازوں کے مطابق ڈے کئیر پر سالانہ چودہ ہزار ڈالرز تک خرچ آسکتا ہے۔ ملازمہ رکھنا اس سے بھی مہنگا پڑتا ہے۔
بک اوربریڈن کہتے ہیں کہ ہم بہت خوش قسمت ہیں۔ ہماری خاصی فیملی یہاں پر ہے۔ میری والدہ ، میرے بھائی ، بہنیں۔ تو ہمیں ان سے خاصی مدد ملتی ہے۔
لیکن تمام معاشی خبریں ہی منفی نہیں۔ ریزک کے خیال میں امریکی حکومت والدین کو ٹیکسوں میں کئی طرح کی چھوٹ دیتی ہے جیسے بچے کی نگہداشت کے لیے ٹیکس کی چھوٹ اور سترہ سال سے کم عمر ہر بچے کے لیے چائلڈ ٹیکس کریڈٹ۔ ریزک کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت ٹیکس واپس کرکے والدین کی مدد کرتی ہے۔ عموماً یہ رقم چھ ہزار ڈالرز فی بچہ سالانہ ہوتی ہے۔
خاندان کی پرورش کو زندگی کے لطف انگیز ترین تجربات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ کئی مالیاتی تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ مناسب منصوبہ بندی کے بغیر آپ کی یہ خوشی نئے آنے والے بچے کے لیے آگے چل کر معاشی چیلینجز کا باعث بھی بن سکتی ہے۔