یونی فیم کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق خواتین کی اقتصادی بہتری اور سیاست، صحت اور معیشت کےحوالے سے خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیےحکام اور عہدے داروں کی پالیسیوں اور ان پر عمل درامد کے طریقوں کو ذمہ دار ٹھہرانا چاہیے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بن کی مون اس رپورٹ کی اشاعت کے بارے میں کہتے ہیں کہ عالمی یوم جمہوریت کے موقع پر اس رپورٹ کے تعارف کو ایک نیک شگون سمجھنا چاہیے۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ زچہ و بچہ کے شعبے کو بے تحاشہ مشکلات درپیش ہیں اور یہیں سب سے کم ترقی واقع ہوئی ہے۔ زچہ و بچہ کے شعبے کو بے تحاشہ مسائل کا سامنا ہے۔ لیکن ان کا حل بھی صاف ظاہر ہے۔ ان مسائل کا مقابلہ کرنے کے لیے ترقی یافتہ ممالک کی طرح ترقی پزیر ممالک میں بھی حاملہ خواتین کی صحت پر مزید توجہ دینی چاہیے۔
یونی فیم کی این مری گوتز نے یہ رپورٹ تحریر کی ہے، اور ان کا کہنا ہے کہ اگر یہی حالات رہے تو ممکن ہے کہ اقوام متحدہ نے 2015 کے لیے جو اہداف مقرر کیے ہیں، وہ پورے نہ ہو پائیں۔ ان اہداف میں غربت اور وبائی امراض کا مقابلہ کرنا بھی شامل ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ یہ تمام مقاصد ایک ہی نظریے پر مبنی ہیں۔ یعنی افلاس اور بھوک کا خاتمہ کرنے، اقتصادی بہتری عمل میں لانے اور نومولود بچوں اور حاملہ خواتین کی شرح اموات میں کمی لانے کے لیے خواتین کو خود مختار بنانا بہت ضروری ہے۔ کیونکہ خواتین عموما اپنی کمائی اپنے خاندان اور اپنی کمیونٹی پر صرف کرتی ہیں۔
حکام اور عہدے داروں کو ذمہ دار ٹھہرانے کے فوائد کے موضوع پر اقوام متحدہ کی اس سماعت میں بھارت کے تین سرگرم کارکنوں نے سامعین کو اپنے تجربات سے آگاہ کیا۔ راجستھان میں ان کا گروپ ملک بھر میں ،رائیٹ ٹو انفارمیشن لا ء، منظور کرانے میں کامیاب رہا۔ انہوں نے کٹھ پتلیوں کی مدد سے اپنے دیہاتوں میں ہونے والی میٹنگز کی مثال دی۔
یونی فیم کی رپورٹ کے مطابق لڑکیوں کی تعلیم کے شعبے میں ترقی واقع ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ اس رپورٹ میں خواتین کے خلاف تشدد کا بھی جائزہ لیا گیا ہے، اور لایبیریا میں ہنگاموں کی روک تھام کے لیے بھیجے جانے والے آل ویمن پولیس یونٹس جیسے مزید یونٹس قایم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔