دنیا بھر میں توانائی کی بڑھتی ہوئی قمیتوں کے پیش نظر لوگ متبادل سستے ذرائع ڈھونڈ رہے ہیں۔ ایک بھارتی کمپنی نے ایک سستے متبادل ذریعے سے بجلی پیدا کر کے ہزاروں دیہاتیوں کے گھروں کو روشن کردیا ہے۔
سلکو شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے والی بنگلور کی ایک پرائیویٹ کمپنی ہے۔ وہ جنوبی ریاست کرناٹک میں چھوٹے کاروباروں اور کم آمدنی والے گھرانوں کو بجلی فراہم کررہی ہے۔ کمپنی کے تیار کردہ شمسی توانائی کے سستے یونٹ ان گھروں اور امداد باہمی کے اداروں کو بیچے جاتے ہیں جو بجلی کے قومی گرڈ سسٹم سے منسلک نہیں ہیں۔ اس سے دور افتادہ علاقوں میں روشنی اورتوانائی پہنچ رہی ہے۔
سلکو کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر ہریش ہانڈے کا کہنا ہے کہ لوگ ہمارے پاس آکرکہتے ہیں کہ میری بیٹی اپنی تعلیم اس لیے مکمل کرنے کے قابل ہوئی کیونکہ ہم نے اپنے گھر میں سولر سسٹم لگایا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہماری آمدنی بڑھ گئی ہے۔ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہماری بیٹی موم بتیوں اور مٹی کے تیل کے لیمپ کی روشنی میں نہیں بلکہ شمسی توانائی سے جلنے والے بلب کی روشنی میں پیداہوئی۔
کمپنی نے سیوا بینک کے ساتھ اشتراک کیا ہے۔ سیوا سے مراد سلیف ایمپلائیڈ وویمن ایسوسی ایشن ہے۔ یہ ایک چھوٹے قرضوں کی تنظیم ہے جس کی تین لاکھ ارکان ہیں۔ اس کے ایک پراجیکٹ کے تحت خواتین کو شمسی توانائی سے چلنے والی سلائی مشینوں کے لیے آسان قرضے دیے جاتے ہیں۔ جسے بہت پسند کیا گیا ہے۔
سیوا کی ایک رکن کہتی ہیں کہ اس کے تین فائدے ہیں۔ پہلا یہ کہ اب ہمارے پاس 27 ڈیزئن بنانے والی نئی قسم کی سلائی مشینیں ہیں۔ دوسرا ہم اس جگہ بھی کام کرسکتی ہیں جہاں بجلی نہیں ہے۔ تیسرا یہ کہ کیونکہ یہ شمسی توانائی پر چلتی ہے ، ہمیں بجلی کا بل نہیں دینا پڑتا۔
ہریش ہانڈے یہ کوشش کررہے ہیں کہ اقوام متحدہ کا ترقیاتی پروگرام اسی طرح کے پراجیکٹس دنیا کے ترقی پذیر ملکوں میں بھی قائم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایشڈن ایوارڈ سے سلکو کی بہت حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 2007 کا اعلیٰ کارکردگی کا ایوارڈ جیتنے سے ہماری بڑی ہمت افزائی ہوئی ہے کیونکہ یہ اس بات کی یادہانی ہے کہ ہم جو کچھ کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ درست ہے اور یہ کہ ہم صحیح راستے پر ہیں۔
اور صحیح راستہ ہے ان لوگوں تک متبادل توانائی پہنچانا جنہیں اس کی ضرورت ہے۔