ہر لیپ سال میں 4 نومبر امریکیوں کے لیے ایک اہم دن ہوتا مگر اس مرتبہ اس دن کی اہمیت پہلے کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ کیونکہ اس مرتبہ امریکہ کے صدارتی انتخابات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب عوامی رائے عامہ کے مطابق موجودہ حکومت امریکی تاریخ کی نامقبول ترین حکومت ہے۔ ایسے میں امریکی عوام کی نظریں پہلی صدارتی مباحثے پر لگی ہوئی ہیں عوام نئے آنے والے صدر سے بہت سی امیدیں وابستہ رکھے ہوئے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ نئے صدر کو بہت سے چیلنجز کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔
ملکی سرحدوں سے باہر دو جنگیں ،عالمی سطح پر کمزور ہوتے سفارتی تعلقات اور گرتی ہوئی معیشت یہ وہ بڑے مسائل ہیں جو فروری میں وائٹ ہاوس پہنچنے والے امریکی صدر کا استقبال کریں گے۔
اس وقت امریکہ کو بین الاقوامی سطح جن چیلنجز کا سامنا ہے ان میں دہشت گردی کے خلاف افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں جاری جنگ اور عراق سر فہرست ہیں۔ عراق میں حالات پہلے کی نسبت قدرے بہتر ہو چکے ہیں مگر اب بھی امریکیوں کی بڑی تعداد عراق سے جلد از جلد فوجوں کی واپسی کو ہی حتمی اقدام سمجھتی ہےاور اب تو عراقی حکومت بھی امریکہ سے اپنی فوجوں کو نکالنے اور کنٹرول عراقی سیکورٹی اہلکاروں کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ یہاں اس بات کو مدِنظر رکھنا ضروری ہے کہ کیا امریکی افواج کی تعداد میں کمی یا ان کے انخلا ءکے بعد عراق کے سیکورٹی ادارے حالات کو سنمبھال پائیں گے؟
افغانستان جہاں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز ہوا۔ وہاں بھی حالات اطمنان بخش نہیں ہیں اور یہ جنگ افغانی سرحدوں سے نکل کر پاکستان کے سرحدی اور قبائلی علاقوں میں داخل ہو چکی ہے اور اب طالبان افغانستان سے زیادہ پاکستان میں کاروائیاں کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے امریکہ کے لیے ایک اور چیلنج اپنے سب سے بڑے اتحادی ملک میں استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے اس کا ساتھ دینا ہے۔ پاکستان کی نئی جمہوری حکومت جسے دہشت گردی کے علاوہ سخت معاشی مشکلات کا سامنہ ہے نے اقتدار سنمبھالتے ہی ملک کے اندر شدت پسند عناصر کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا مگر امریکی ماہرین اور حکومتی عہدے دار ابھی بھی اس سےمطمئن نہیں ہیں بلکہ گزشتہ ایک مہینے میں امریکہ کے بغیر پائلٹ تیاروں اور زمینی افواج نے پاکستانی سرحدوں میں داخل ہو کر کئی حملے بھی کیے ہیں ۔دونوں صدارتی امیدوار یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ افغانستان میں فوجوں کی تعداد میں اضافہ کریں گے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اصل محاذ افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقے ہیں۔
خطے میں امریکہ کے لیے ایک اور بڑا امتحان ایران کا ایٹمی پروگرام ہے جسے روکنے کے لیے امریکہ مختلف حربے استمال کر رہا ہے جن میں معاشی پابندیاں بھی ہیں مگربظاہر یہ کامیاب ثابت نہیں ہوئے اور اس سلسلے میں ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ واشنگٹن اور تہران کے تعلقات میں فی الحال شدید کشیدگی پائی جاتی ہے ۔ نئے امریکی صدر کو یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا اس مسئلے کا حل مزید عالمی دباو ہے یا سفارتی کاری؟
امریکہ کی طرف سے یورپ میں میزائل ڈیفنس سسٹم کی تنصیب پر روس اور امریکہ کے تعلقات میں ایک بار بھر سے کھچاؤ شروع ہو گیا تھااور روس نے یہ کہا کہ وہ ان تنصیبات کو تباہ کر سکتا ہے۔روس کے حوالے سے امریکہ کی پریشانی میں اس وقت اضافہ ہوا جب روسی افواج نے امریکہ کے اتحادی جارجیا پر حملہ کیا اور امریکہ کے سخت لہجے کو بالکل خاطر میں نہ لایا۔ جس کے بعد امریکہ میں یہ سوچ ابھر رہی ہے کہ کیا روس دوبارہ ایک عالمی طاقت بننے جا رہا ہے؟
اندرونی سطح پر اس وقت کا سب سے بڑا چیلینج کرتی ہوئی ملکی معیشت کو بچانا ہے اور امریکی عوام کے لیے یہ مسئلہ باقی تمام مشکلات سے بڑھ کر ہے۔ لاکھوں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں اور مورٹگیج میں ہونے والے نقصان کا تخمینہ 500 ارب ڈالرز سے زیادہ ہے ۔ ملک کے چار بڑے مالیاتی ادارے دیوالیہ ہو چکے ہیں اور کئی دوسرے اس سطح پر پہنچنے کو ہیں۔ چند دن پہلے تک جان مکین کا کہتےرہے ہیں کہ امریکی معیشت کی بنیاد مضبوط ہے جبکہ براک اوباما یہ کہہ کر ان پر تنقید کرتے رہے کہ جان مکین یہ نہیں جانتے کہ معیشت اس وقت کتنی مشکلات میں ہے ۔
امریکی عوام کی نظریں آنے والی صدارتی مباحثےپر لگی ہوئی ہیں اور وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کونسا امید وار ایسا معاشی پلان لے کر آئے گا جس سے ملکی معیشت بہتر ہو سکے یاد رہے کہ دونوں امیدواروں نے معیشت کو مضبوط بنانے کی بات تو کی ہے مگرابھی تک اپنے معاشی پلان کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔
ناقدین کے مطابق امریکی صدر کو دنیا میں امریکہ کی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی اور 5 سابق امریکی وزرائے خارجہ نے حال ہی میں کہا ہے کہ گونتاناموبے کو بند کرنا اس سلسلے میں کارآمد ثابت ہوگا۔