گذشتہ دنوں پاکستان سے پانچ ممتاز صحافیوں کو واشنگٹن ڈی سی مدعو کیا گیا جس کا مقصد امریکی عوام میں پاکستانی صحافت اور پاکستانی صحافیوں کے بارے میں شعور اجاگر کرنا تھا۔ اس کانفرنس کا انعقاد ووڈرو ولسن سنٹر فار اسکالرز کی جانب سے کیا گیا تھا۔
ووڈرو ولسن سنٹر فار سکالرز کی جانب سے ایک کانفرنس کا اہتمام کیا گیا جس میں پاکستان سے مدعو کیے گئے پانچ ممتاز صحافیوں ظفر عباس، مسعود انصاری، مظہر عباس، اعجاز حیدر اور عاصمہ شیرازی نے شرکت کی۔ کانفرنس کا بنیادی مقصد امریکی عوام میں پاکستانی صحافت اور صحافتی اقدار کے بارے میں شعور اجاگر کرنا تھا۔
پاکستان کے سینئیر صحافیوں نے پاکستان میں صحافت، اسے درپیش چلینچز اور صحافیوں کے حوالے سے مختلف موضوعات پر اظہارِ خیال کیا۔اے آر وائی ون ورلڈ کے ڈپٹی نیوز کنٹرولر مظہر عباس نے صحافتی ذمہ داری کی اہمیت اور ضرورت پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹی وی چیلنز میں کوئی ایڈوائزر نہیں ہے۔ کیبل چینلز کو نوٹسز نہیں جاتے۔ فریڈم آف پریس کو پوری طرح قانون میں تحفظ دینا چاہیے۔ اور کسی بھی طریقے سے میڈیا پر پابندی کو قانونی تحفظ حاصل ہونا چاہیے ۔
ڈان نیوز کے ظفر عباس کا کہناتھا کہ پاکستان میں صحافت اور صحافیوں دونوں نے ہی برا دور دیکھا ہے مگر اب حالات بہتر ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج ہمارے پاس پندرہ کے قریب نیوز چینلز ہیں جو چوبیس گھنٹے نیوز اور کرنٹ افئیرز کے پروگرام پیش کرتے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک بڑی تعداد ہے اور یہ سب ہم نے گذشتہ پانچ برسوں میں حاصل کیا ہے۔
ہم پاکستان میں ایک مرکز شکایات بھی قائم کر رہے ہیں جس کا مقصد عوام کی ہم تک رسائی اور میڈیا سے وابستہ شکایات کا ازالہ کرنا ہے۔
انگریزی معاصر دی ہیرلڈ سے وابستہ مسعود انصاری کے مطابق پاکستان میں صحافت کو ماضی میں مشکلات درپیش رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ پاکستان میں مارشل لاء نافذ رہا ہے جو عوام کے ساتھ ساتھ صحافت پر بھی اثر انداز ہوا۔
لاہور میں ڈیلی ٹائمز کے ایڈیٹر اعجاز حیدر کا کہنا تھا کہ پاکستانی میڈیا ہر طرح سے آزاد ہے جبکہ بیشتر دفعہ ہم تلخ ترین باتیں بھی کر جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بہت سے صحافتی معاملات پر ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہیے اس کے لیے ہمیں ایک کوڈ آف کنڈیکٹ وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ہم پاکستان میں صحافت کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔
اے آر وائی ون ورلڈ کی عاصمہ شیرازی نے پاکستان میں موجودہ صحافت کو اطمینان بخش قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ میں بہت پر امید ہوں کہ پاکستان کے اندر اب جو جرنلزم شروع ہوا ہے گو کہ ہم خود پر بھی تنقید کرتے ہیں اگر اسی طرح کا جرنلزم پاکستان کے اندر رہا تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم بہت آگے جائیں۔
ووڈرو ولسن کے بوب نے اس کانفرنس کو مثبت اور اسے امریکیوں کو پاکستانی صحافت سے روشناس کرانے کے لیے ایک اچھا قدم قرار دیا۔ ان کا کہناتھا کہ ولسن سنٹر کا ایک مقصد ہمارے اور پاکستانیوں کے درمیان چیزوں کو بہتر بنانا ہے اور اس لحاظ سے یہ ایک بہت کامیاب کانفرنس تھی۔
امریکہ اور پاکستان کے درمیان اس قسم کی کانفرنس دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے خیالات و جذبات سے آگاہ کرنے میں معاون ہونے کے ساتھ ساتھ تعلقات کو بھی بہتر کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔