ابھی میڈیا میں بچوں کے لیے خشک دودھ تیار کرنے والی ایک چینی کمپنی کا ذکر کم نہیں ہوا تھا جس کے آلودہ دودھ پینے سے ہزاروں بچے گردوں کی ایک خطرناک مرض میں مبتلا ہوگئے اور چار بچے لقمہ اجل بن گئے اوراب ایک اور دوا ساز کمپنی رین بیکسی کا معاملہ ابھر کر سامنے آگیا ہے۔ امریکہ نے کوالٹی کنٹرول کے معیاروں پر پورا نہ اترنے کے نتیجے میں اس دوا ساز کمپنی کی 30 سے زیادہ ادویات پر پابندی عائد کردی ہے۔ جبکہ کمپنی نے اپنی تیار کردہ دواؤں کے محفوظ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکہ میں جن دواؤں کی درآمد پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں رین بیکسی کی تیار کردہ وہ جنیرک دوائیں شامل ہیں جو برانڈ ناموں کی ادویات کی سستی نقل ہیں۔ یہ دوائیں ہائی کولیسٹرول، شوگر اور دوسری بیماریوں کے علاج میں استعمال ہوتی ہیں۔ خوراک اور ادویات سے متعلق امریکی انتظامیہ ایف ڈی اےنے ان پابندیوں کا جواز پیش کرتے ہوئے کمپنی کے دو پلانٹس میں دوسری وجوہات کے ساتھ ساتھ جراثیموں سے پاک کرنے کے ناکافی انتظام کا بھی حوالہ دیا ہے۔
رین بیکسی کے واقعہ سے یہ نشان دہی ہوتی ہے کہ ترقی پذیر ملکوں میں ادویات کس طرح ناقص ماحول میں بنائی جارہی ہیں۔ اس سال کے شروع میں بیکسٹر انٹرنیشنل کو گردوں کے ڈائلیسز میں استعمال ہونے والی دوا ہیپارین کی تیاری عارضی طور پر بندکرنا پڑی تھی ۔ اس دوا کے استعمال سے 81 مریض ہلاک ہوگئے تھے۔ بیکسٹر کا کہناہے کہ اسے چین میں اپنے ایک پلانٹ میں دوا میں آلودگی کا پتہ چلا ہے۔
رین بیکسی کے خلاف کوالٹی کنٹرول تو بہت سے الزامات میں سے صرف ایک ہے۔ ایف ڈی اے نے کہا ہے کہ اس کمپنی نے افریقہ میں مریضوں کو ایچ آئی وی کی ایک جعلی اور آلودہ دوا فروخت کی تھی ۔ان ادویات کی قیمت ایڈز کے بچاؤ کے لیے صدر کے ہنگامی پروگرام کے تحت امریکہ نے ادا کی تھی۔دوسرے ملک اب رین بیکسی کے طریقہ کار کا جائزہ لے رہے ہیں۔