Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

بروقت طبی امداد سے دل کے مریض کو بچایا جاسکتا ہے


September 25, 2008
اس رپورٹ کی ویڈیو - ڈاؤن لوڈ کیجیئے (Real) video clip
اس رپورٹ کی ویڈیو - Watch (Real) video clip

heart

امریکن ہارٹ ایسو سی ایشن کے مطابق امریکہ میں روزانہ 900افراد حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ایسے زیادہ تر  کیسزمیں مریض کی جان بچانا اس لئے مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ کیسز طبی امداد مہیا کرنےو الے مراکز سے دور ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر گراہم نکول سیئیٹل کی واشنگٹن یونیورسٹی کے ساتھ منسلک ہیں۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ امریکہ اور کینیڈا کے دس علاقوں میں حرکت قلب بند ہونے کے بیس ہزار کیسز پر تحقیق کی ہے جس کے نتائج امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کے جرنل میں شائع ہوئے

اس تحقیق کے مطابق ایک مریض کے زندہ بچنے کے امکانات کا انحصار اس علاقے  پر بھی ہے جہاں دل کا دورہ پڑا۔

ڈاکٹر گراہم نکول کہتے ہیں کہ حرکت قلب بند ہونے کے واقعات ایک دوسرے سے کتنے مختلف ہیں اور کس علاقے میں ہوئے ہیں ،مریض کو طبی مدد پہنچنے سے اس کا گہرا تعلق ہے۔  

طبی امداد فراہم کرنے والے مقامی مراکز کی کمزوریاں نہ صرف دل کے مریض کے خطرات میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ مختلف علاقوں میں ہنگامی طبی مدد کے ادارے کی صلاحیت بھی ایک جیسی نہیں ہوتی

ڈاکٹر نکول کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں  میں ہنگامی طبی امداد میں مدد دینے کے لئے مقامی آبادی کو تربیت دینے کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ بعض مقامات پر طبی مراکز کی مقامی استعداد میں اضافے سے کافی مدد مل سکتی ہے

 دل کی دھڑکن بند ہونے کے تین سے پانچ منٹ کے اندر زندگی بچانے کے اقدامات اور درکار طبی مدد مہیا کی جائے تو  مریض کی زندگی بچنے کے امکانات کافی بڑھ جاتے ہیں۔
 
ڈاکٹر نکول اور ان کے ساتھی ڈاکٹرز کو اپنی تحقیق سے پتہ چلا کہ صرف 25فیصد مریضوں کو موقعے پر موجود لوگوں کی طرف سے سی پی آر دیا گیا۔ ہوسکتا ہے اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ مریض  دل کے دورے کے وقت گھر پر اکیلاتھا  یا اس کے پاس موجود لوگوں کو مناسب طبی مدد کا علم نہ ہو۔
 

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
لاہور میں عالمی پرفارمنگ آرٹس میلے کے قریب بم دھماکے

  مزید خبریں
القاعدہ عالمی مالیاتی بحران سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں
اوباما سے مشرق وسطیٰ کی توقعات
ایلوس پریسلی مرنے کے 30 سال بعد بھی رائلٹی میں پہلے نمبر پر
آسٹریلیا  میں  امام  خواتین کے حقوق  کونظر انداز کر رہے ہیں: رپورٹ
کرکٹ کے معیار میں زوال آیا ہے: باسط علی
امراؤجان ادا کے خالق مرزا محمد ہادی رسوا، ہر فن مولا شخصیت
میڈونا اور رچی میں طلاق
گیس کے نرخوں میں  اضافے کی منظوری
2011ءتک روز گار کے 25لاکھ نئے مواقع: اوباما کا منصوبہ
ایران میں اسرائیل کے جاسوس کو پھانسی کی سزا
سماٹرا کے قریب سمندر کی تہہ میں طاقتور زلزلہ
زمبابوے پر مگابے راج ختم ہونا چاہیے : بُش
چین کی جانب سے امریکی رپورٹ کی مذمّت
جرمنی میں حزب اللہ کے ٹیلی ویژن پر پابندی
پاکستان کے سرحدی علاقے بدستور چیلنج ہیں: نیٹو اجلاس
کوئٹہ میں شیعہ عالم ہلاک
آزاد منڈیاں اقتصادی ترقی کے عظیم محرکات ہیں: بُش
لیبیا میں 36 سال بعد پہلے امریکی سفیر کی تعیناتی
جلا وطن تبتّی چین کے ساتھ مفاہمت کے خواہاں
عرا قی پارلیمنٹ  میں امریکی سیکیورٹی سمجھوتے پر رائے شماری
نیند کا مقصد کیا ہے؟
افغان مارکیٹ میں بم کا دھماکا
صومالی بحری قزاقوں نے یونان کے جہاز کو چھوڑدیا
امریکی شہریوں کو پاکستان کا سفر نہ کرنے کی تلقین
ق مکمل طور پر متحد ہے: چودھری شجاعت
اسلحے کو جدید بناؤ: چلٹن
شمالی وزیرستان میزائل حملہ، راشد رؤف ہلاک
”پاکستان جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہیں کرے گا“
اگلی دو دہائیوں میں امریکی رسوخ کم ہو جائے گا: انٹیلی جنس رپورٹ
کرکٹ ٹیم پاکستان بھیجنا دانش مندی نہیں ہو گی: بھارت
اونی ہاتھی کا ڈی این اے پڑھ لیا گیا
’تارے زمین پر‘ کی کہانی معموں کی کتاب سے چرائی گئی ہے؟