امریکن ہارٹ ایسو سی ایشن کے مطابق امریکہ میں روزانہ 900افراد حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ایسے زیادہ تر کیسزمیں مریض کی جان بچانا اس لئے مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ کیسز طبی امداد مہیا کرنےو الے مراکز سے دور ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر گراہم نکول سیئیٹل کی واشنگٹن یونیورسٹی کے ساتھ منسلک ہیں۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ امریکہ اور کینیڈا کے دس علاقوں میں حرکت قلب بند ہونے کے بیس ہزار کیسز پر تحقیق کی ہے جس کے نتائج امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کے جرنل میں شائع ہوئے
اس تحقیق کے مطابق ایک مریض کے زندہ بچنے کے امکانات کا انحصار اس علاقے پر بھی ہے جہاں دل کا دورہ پڑا۔
ڈاکٹر گراہم نکول کہتے ہیں کہ حرکت قلب بند ہونے کے واقعات ایک دوسرے سے کتنے مختلف ہیں اور کس علاقے میں ہوئے ہیں ،مریض کو طبی مدد پہنچنے سے اس کا گہرا تعلق ہے۔
طبی امداد فراہم کرنے والے مقامی مراکز کی کمزوریاں نہ صرف دل کے مریض کے خطرات میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ مختلف علاقوں میں ہنگامی طبی مدد کے ادارے کی صلاحیت بھی ایک جیسی نہیں ہوتی
ڈاکٹر نکول کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں ہنگامی طبی امداد میں مدد دینے کے لئے مقامی آبادی کو تربیت دینے کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ بعض مقامات پر طبی مراکز کی مقامی استعداد میں اضافے سے کافی مدد مل سکتی ہے
دل کی دھڑکن بند ہونے کے تین سے پانچ منٹ کے اندر زندگی بچانے کے اقدامات اور درکار طبی مدد مہیا کی جائے تو مریض کی زندگی بچنے کے امکانات کافی بڑھ جاتے ہیں۔
ڈاکٹر نکول اور ان کے ساتھی ڈاکٹرز کو اپنی تحقیق سے پتہ چلا کہ صرف 25فیصد مریضوں کو موقعے پر موجود لوگوں کی طرف سے سی پی آر دیا گیا۔ ہوسکتا ہے اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ مریض دل کے دورے کے وقت گھر پر اکیلاتھا یا اس کے پاس موجود لوگوں کو مناسب طبی مدد کا علم نہ ہو۔