امریکی حکومت کے معاشیات سے متعلق اعلیٰ عہدےد اروں نے منگل کے روز کیپٹل ہل پر قانون سازوں سے ملاقات کرکے ان سے سات کھرب ڈالر کے امدادی منصوبے کے بل کی منظوری کی درخواست کی۔ مرکزی بینک کے سربراہ بن برینین کے اور امریکی وزیر خزانہ ہنری پالسن نے کہا کہ مالیاتی بحران سے بچنے کے لیے اس بڑے پیمانےکی ضمانت کی اشدضرورت ہے۔ تاہم وی او اے کےمل ایکریگا نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس جلد بازی سے بنائے گئے منصوبے پر دونوں سیاسی جماعتوں کے ارکان کو از حد تشویش ہے۔
امریکی مرکزی بینک کے سربراہ بن برنین کے نے کہا کہ اگر سات کھرب ڈالر کے امدادی پروگرام کی منظوری نہ دی گئی تو بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوگا، مزید گھر وں کی قرقی ہوگی اور اسٹاک مارکیٹ میں مزید عدم استحکام پیدا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ اگر کریڈٹ مارکیٹ کام نہیں کرے گی تو ملازمتیں ختم ہو جائیں گی ، بے روز گاری بڑھے گی مزید گھر قرق ہوں گے اور جی ڈی پی کی شرح کم ہوجائے گی اور پھر چاہے کیسی ہی پالیساں بنالی جائیں ،معیشت صحتمند طریقے سے بحال نہیں ہو گی۔
سینٹ کی بینکنگ کمیٹی کے سامنے بش انتظامیہ کے اعلیٰ مالیاتی عہدے داروں نے قانون سازوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس امدادی پروگرام پر تیزی سے کام کریں اور اس کی منظوری دیں۔ مگر کچھ سینیٹرز مشکل میں گرفتار مکان مالکان کو مدد کی کسی پیش کش کے بغیر مالیاتی اداروں سے اربوں ڈالر کے ڈوبے ہوئے قرضے خریدنے کے اس منصوبے پر نکتہ چینی کررہے ہیں۔
الباما سے تعلق رکھنے والے ری پبلکن سینیٹر رچرڈ شیل بی کہتے ہیں۔ اگر حکومت ضمانت کا کاروبارکرنا چاہتی ہے تو کیا ہمیں اپنے وسائل وال سٹریٹ کے بینکاروں کی بجائے عام امریکیوں کے وسائل اور ٹیکس دینے والوں پر مرکوز نہیں کرنے چاہیئں۔
کچھ قانون ساز،اس ضمانت میں حصہ لینے والی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدے داروں کی تنخواہوں کی اوپر کی حد پر پابندی سمیت پیشگی شرائط لگائے بغیر اس پروگرام کی منظوری کے حق میں نہیں ہیں۔ مگر صدر بش کے وزیر خزانہ ہنری پالسن ، جنہوں نے اس بل کو ترتیب دیا ہے ،کہتے ہیں کہ غیر متعلقہ شرائط ، سے قوم کی معاشی بحالی میں سوائے تاخیر کے کچھ نہیں ہو گا۔
وہ کہتے ہیں کہ مسائل میں مبتلا اثاثے خریدنے کے اس پروگرام کا واحد مؤثر پہلو یہ ہے کہ اس سے ہم مکان مالکان اور امریکی لوگوں کی مدد کرسکتے ہیں اوراپنی معیشت کر متحرک کرسکتے ہیں۔
ری پبلیکن سینیٹر جم بننگ اس خیال سے اتفاق نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ پالسن کا منصوبہ ایک ایسی ہی کوشش ہے جیسی کہ ہم واشنگٹن ڈی سی میں اکثر کرتے ہیں یعنی کسی مسئلے پر پیسہ پھینکنا۔ اس سے مارٹگیج کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
کمیٹی کے چیئر مین سینیٹر کرس ڈاڈ کا کہنا ہے کہ سب سے بری بات تو یہ ہے کہ مکانات کے ان مسائل کو ، جن سے مالیاتی منڈیوں میں بحران پیدا ہوا ہے، روکا جا سکتا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ خدانے نازل نہیں کیا۔ یہ ہری کین آئیک نہیں تھا۔ یہ بحران ذاتی لالچ اور عوامی ضابطوں کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے پیدا ہوا۔
سینیٹر رابرٹ میننڈیز نے اس پر ووٹ دینے سے پہلے مزید تفصیلات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ سات برسوں سے جاری اقتصادی اور ضابطوں پر عمل درآمد کی پالیسی کے نتیجے میں ہمیں آج یہ دن دیکھنا پڑا ہے اور اب ہمیں یہ کہا جارہا ہے کہ ہمارے پاس فیصلہ کرنے کے لیے سات سے بھی کم دن ہیں اور سوال کرنے کے لیے صرف آٹھ منٹ ہیں۔ لہذا مجھے اس بل پر دستخط نہ کرنے پر معاف کریں۔
کچھ قانون سازوں کا کہناہےکہ وہ اس امدادی منصوبے کی اس وقت تک منظوری نہیں دیں گے جب تک عوام کے پیسوں کو خرچ کرنے کی نگرانی کے لیے اقدامات نہیں کرلیے جاتے۔ صدراتی مہم کی سطح پر یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جس پر دونوں صدارتی امیدواروں کے درمیان بہت کم اتفاق رائے دیکھنے میں آیا۔
سینیٹر جان مک کین کا کہنا ہے کہ ہم ناقص نگرانی کے باعث پیدا ہونے والے مسئلے کو کسی ایسے منصوبے کی مدد سے حل نہیں کر سکتے جس پر قطعاً کوئی نگرانی موجود نہیں ہے۔
سینیٹر براک اوباما کہتے ہیں کہ پہلی بات تو یہ ہےکہ کسی نگرانی اور جواب دہی کی عدم موجودگی ہی نے ہمیں در اصل اس مسئلے میں الجھایا۔
قانون سازوں کی جانب سے شکوک و شبہات کے باوجود ، صدر جاج بش نے نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی راہنماؤں کو بتایا کہ انہیں یقین ہے کہ کوئی دو جماعتی معاہدہ طے پاجائے گا۔