امریکہ کے نظامِ سیاست میں نائب صدر کا کردار انتہائی محدود ہوتا ہے تاوقتکہ کسی وجہ سے صدراپنے فرائض انجام نہ دے پائے اور نائب صدر کو صدارت کا عہدہ سنبھالنا پڑے۔ امریکہ کی تاریخ میں نو بار ایسا ہوا ہے کہ مختلف وجوہات کی بنا پر امریکی صدور اپنی مدت پوری نہیں کرپائے اور نائب صدر کو یہ عہدہ سنبھالنا پڑا۔ یعنی تقریباً ہر چوتھے نائب صدر کو یہ اہم ذمہ داری سنبھالنی پڑی۔
لیکن اس کے باوجود انتخاب میں لوگ ووٹ دیتے وقت نائب صدر کو بہت کم اہمیت دیتے ہیں اور انتخاب کا فیصلہ عوام میں صدارتی امیدوار کی مقبولیت یا غیر مقبولیت پر ہوتا ہے نہ کہ نائب صدارت کے امیدوار پر۔ مگر اس بار صورتحال بہت مختلف نظر آرہی ہے اور دونوں جماعتوں کے نائب صدارت کے لیے امیدوارں کے انتخاب نے انتخابی مہم پر بہت گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے یہ اثرات منفی جبکہ ری پبلیکن کے لیے مثبت ثابت ہوئے ہیں۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار براک اوباما کی جانب سے سینیٹر جوبائڈن کے انتخاب کے نتیجے میں بہت سے ووٹرز ان سے ناراض ہوگئے کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ ہیلری کلنٹن کو نائب صدارت کا امیدوار ہوناچاہیے۔ یہ لوگ امریکی ووٹرز کا انتہائی اہم حصہ ہیں یعنی ادھیڑ عمر کی سفید فام خواتین اور مزدور جنہیں بلیو کالر ووٹرز بھی کہا جاتا ہے۔
یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے صدارتی انتخاب کے ابتدائی مرحلے میں سینیٹر اوباما کی بجائے سینیٹر ہیلری کلنٹن کو ڈیموکریٹک پارٹی کا امیدوار نامزد کروانے کے لیے ووٹ دیئے تھے اور جب ہیلری صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں براک اوباما سے پیچھے رہ گئیں تو ان ووٹرز کی خواہش تھی کہ اوباما انھیں نائب صدارت کے لیے چن لیں۔ لیکن اوباما نے جو بائڈن کا انتخاب کیا جس کی وجہ سے ان میں سے بہت سے ووٹرز ناراض ہوگئے اور ڈینور میں ہونے والے ڈیموکرٹیک پارٹی کے کنوینشن میں خود ہیلری کلنٹن کی جانب سے اپیل کے باوجود یہ بات حتمی طور پر نہیں کہی جاسکتی تھی کہ ہیلری کے حامی عام انتخاب میں اوباماکو ووٹ دیں گے یا نہیں۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار براک اوباما کے ریپبلیکن حریف جان میکین نے ڈیموکریٹک پارٹی کے ووٹرز میں پائی جانے والی اس بددلی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نائب صدارت کے لیے ایک خاتون سارہ پیلن کا انتخاب کیا۔ امریکہ کی تاریخ میں نائب صدارت کے لیے یہ دوسری خاتون امیدوار ہیں اور ایسا پہلی بار ہوا کہ ری پبلیکن پارٹی کے ٹکٹ پر کوئی خاتون نائب صدارت کی امیدوار ہیں۔
امریکی ریاست الاسکا کی گورنر سارہ پیلن کے منظرنامے پر نمودار ہوتے ہی انتخابی مہم کا نقشہ بدل گیا۔ سارہ پیلن کے انتخاب سے قبل ووٹرز کا جوش وخروش براک اوباما کی مہم کا خاصا تھا جبکہ جان میکین کی مہم تھکاوٹ کا شکار نظر آتی تھی۔ لیکن سارہ پیلن کے ٹکٹ پر آنے کے نتیجے میں ووٹرز کا جوش وخروش جان میکین کی مہم میں اوباما کی مہم کے مقابلے میں زیادہ نظر آرہا ہے۔ اس کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ جان مکین ری پبلیکن پارٹی کے روائتی قدامت پسند حلقوں میں مقبول نہیں تھے لیکن سارہ پیلن ان حلقوں میں بہت مقبول ہیں۔ جبکہ دوسری اور زیادہ اہم وجہ یہ ہے کہ سارہ پیلن کے انتخاب کے نتیجے میں جان میکین کو اپنے حریف اوباما کے مقابلے میں اب سفید فام خواتین ووٹرز کی زیادہ حمایت حاصل ہے۔
ایک سروے کے مطابق گذشتہ ماہ اس گروپ میں اوباما کو میکین کے مقابلے میں آٹھ پوائنٹس کی برتری حاصل تھی لیکن اس کے بعد کے رائے عامہ کے جائزے میں میکین کو اوباما پر12 پوائنٹس کی برتری حاصل ہوئی۔ اب ایک تازہ ترین سروے میں اوباما کو پھر سبقت حاصل ہوگئی ہے ۔گذشتہ سروے میں اس حمایت کے باعث ری پبلیکن پارٹی کے ووٹرز کو اب پہلی مرتبہ یہ محسوس ہورہا ہے کہ نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں ان کی جماعت کا امیدوار صدر منتخب ہوسکتا ہے اور اسی وجہ سے وہ اب مہم میں زیادہ جوش و خروش سے حصہ لے رہے ہیں۔
جبکہ جو بائڈن کے انتخاب کے نتیجے میں اوباما کو خارجہ امور میں ایک تجربہ کار مشیر کی خدمات تو ضرورحاصل ہوگئی ہیں لیکن ایسے ووٹرز جن کی انھیں وائٹ ہاوس تک پہنچنے کے لیے ضرورت تھی اس وقت میکین کے کیمپ میں نظر آرہے ہیں۔
انتخابی مہم میں آنے والے یہ تبدیلیاں یقیناً اہم ہیں لیکن زیادہ اہم یہ ہے کہ یہ تبدیلیاں محض وقتی ہیں یا ان کا اثر 4 نومبر یعنی عام انتخاب کی تاریخ تک قائم رہتا ہے۔ صدر بش کی غیر مقبولیت اس انتخاب میں براک اوباما کے لیے اپنے حریف جان میکین کے مقابلے کے لیے سب سے مؤثر ہتھیار ثابت ہوئی ہے اور اگر وہ اپنے اس پیغام کو کہ جان میکین کو منتخب کرنے کا مطلب صدر بش کی پالیسیوں آئندہ چار سال کے لیے بھی قبول کرنا ہے ، امریکی عوام تک مؤثر انداز میں پہنچانے میں کامیاب رہے توانتخاب کا نتیجہ ان کے حق میں ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر جان میکین اور سارہ پیلن عوام کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہے کہ وہ اپنی ہی جماعت کی گذشتہ آٹھ برسوں کی پالیسوں کو نہیں آگے نہیں بڑھائیں گے بلکہ ان میں براک اوباما اور جو بائڈن کے مقابلے میں زیادہ مؤثر انداز میں تبدیلیاں لائیں گے تو پھر وائٹ ہاوس میں ایک مرتبہ پھر ری پبلکن صدر آسکتا ہے۔
دونوں جماعتوں کے امیدواروں کی جانب سے ووٹرز کو قائل کرنے کی کوششیں پورے ملک میں یکساں نہیں ہوتیں کیونکہ زیادہ تر ریاستیں عام طور پر صدارتی اور نائب صدارتی امیدوار سے قطع نظر پارٹی کی بنیاد ووٹ دیتی ہیں۔ اسی لیے دونوں جماعتوں کے امیدواروں کی زیادہ توجہ ان ریاستوں کے ووٹرز پر ہوتی ہے جو پارٹی وابستگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ امیدواروں کے دلائل سے متاثر ہو کرووٹ دیتے ہیں۔ موجودہ انتخاب میں یہ کردار کون سی ریاستیں ادا کررہی ہیں اور ان میں کس امیدوار کو زیادہ مقبولیت حاصل ہے یہ اگلے مضمون میں۔