امریکی قانون سازوں نے کہا ہے کہ وہ مالیاتی بحران کی شکار صنعت کو بچانے کے ایک منصوبے کے ایک عارضی معاہدے پر متفق ہوگئے ہیں۔یہ اتفاق رائے امریکی کانگریس اور وزیر خزانہ ہنری پالسن کے درمیان کئی زور تک مذاکرات کے بعد ہوا۔
ایوان نمائندگان کے اسپیکر ،ڈیموکریٹ ننسی پلوسی کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کو حتمی شکل دینے سے قبل تحریر میں لانا ضروری ہے۔ سینٹ کے ڈیموکریٹ راہنما ہیری ریڈ نے کہا ہے کہ انہیں امیدہے کہ اس امدادی بل کا اعلان اتوار کی رات تک کردیا جائے گا۔ اس بل پر پیر کے روز تک ووٹنگ ہوسکتی ہے۔
توقع ہے کہ اس امدادی منصوبے سے فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں کے ایکزیکٹوز کی مراعات میں حددو کا تعین شامل ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت سے یہ تقاضا کیا جائے گا کہ وہ کوشش کرے کہ مکان مالکان اپنے گھروں سے محروم نہ ہونے پائیں۔اس سلسلے میں پیش کی جانےوالی تجویز میں کہا گیا ہے کہ حکومت مدد لینے والی کمپنیوں کے حصص خریدے گی تاکہ جب ان کے حالات بہتر ہوں تو ٹیکس دہندگان اس سے منافع حاصل کرسکیں ۔
ری پبلیکن پارٹی کے صدارتی امیدوار جان مک کین نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ اس منصوبے کی حمایت کریں گے۔ان کے حریف ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار براک اوباما نے بھی کسی حد تک ان اقدامات کی حمایت کی ہے مگر وہ یہ بات یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ اس بحران سے سبق حاصل کیا جائے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان ٹونی فراٹو نے کہا ہے کہ صدر جارج بش اس منصوبے پر ہونے والی پیش رفت پر خوش ہیں اور انہوں نے امریکی مالیاتی منڈیوں کے استحکام اور امریکی معیشت کے تحفظ کے لیے د و جماعتی کوشش کی تعریف کی ہے۔