امریکہ میں انٹرنیٹ کی آمد کے کچھ عرصے ہی بعد بلاگز نے اپنے لیے جگہ بنانی شروع کردی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے بلاگز اپنے خیالات کے اظہار کا ایک مؤثر ذریعہ بن گئے۔ پرنٹنگ پریس کی ایجاد خبروں اور معلومات کی دنیا میں ایک انقلاب لے کرآیا اور اب انٹرنیٹ اور بلاگز ان کی تیزتر فراہمی کے ایک ذریعے کے طورپر سامنے آئے ہیں۔
ون کٹ بلاگر کے جم نیویل اور نیوز ویک کے ایک سابق ایڈیٹر آرنڈ ڈی بوچگریوو کا کہنا ہے کہ بلاگز نے صحافت کا انداز اور رخ تبدیل کردیا ہے۔
نیویل کا کہنا ہے کہ بلاگنگ کرنے کے لیے کوئی قیمت ادا نہیں کرنی پڑتی اور دنیا بھر میں ہر جگہ اس تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس کے ذریعے ہر طرح کی اطلاعات کی باآسانی ترسیل کی جاسکتی ہے۔ ہر وہ شخص جس کے پاس انٹرنیٹ پر جانے کے لیے ایک موڈم موجود ہے، اپنا ایک بلاگ شروع کرسکتا ہے۔ بلاگ کے ذریعے ہر شخص خبروں اور معلومات کی فراہمی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
مگر ایک کامیاب بلاگ کے لیے ضروری ہے کہ آپ نے لکھنے کے لیے جس موضوع کو چنا ہے ، اس میں آپ کی مہارت کا ہونا ضروری ہے۔ آپ کو اس موضوع پر عبور حاصل ہونا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کا انداز ایسا ہونا چاہیے جو پڑھنے والوں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لے۔
آرنڈ ڈی بوچگریوو، جو ان دنوں سٹرٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسڈیز سے وابستہ ہیں،کہتے ہیں کہ بلاگرز کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کسی ماہر کی نگرانی کے بغیر بھی کوئی بھی تجربہ کرسکتے ہیں، کوئی نیا انداز ایجاد کرسکتے ہیں ۔ وہ جرنلزم کے قواعد کی پابندی بھی نہیں کرتے ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں تک ، جنہیں کچھ علم نہیں تھا، معلومات پہنچانے میں بلاگز نے بعض موقعوں پر ایک منفی کردار ادا کیا ہے۔
حالیہ برسوں میں بلاگنگ نے سیاسی کو بھی بہت متاثر کیا ہے اور ما ہرین 21 صدی کی سیاست کو بلاگنگ کے حوالے سے دیکھ رہے ہیں۔ میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ری پبلیکن پارٹی کے نائب صدارت کے لیے سارہ پیلن کا انتخاب میں بلاگز نے بھی ایک کردار ادا کیا۔