امریکی سینیٹ کی جانب سے معیشت کو بحران سے نکالنے کے ہنگامی منصوبے کی منظوری کے بعد اب ایک بار پھراس ریسکیو منصوبے کامستقبل امریکی ایوان نمائندگان طے کر رہے ہیں جو موجودہ ہفتے کے آغاز میں اس منصوبے کو مسترد کر چکے ہیں۔ امریکہ کے معاشی بحران نے جہاں دنیا بھر کی شئیرمارکیٹس کو ہلا کر رکھ دیا ہے وہاں اس کے اثرات عام آدمی تک بھی پہنچنا شروع ہو گئے ہیں کیونکہ امریکہ کے چار بینک دیوالیہ ہونے کا اعلان کر چکے ہیں اور دیگر بینکوں نے صورتحال واضح ہونے تک عام صارفین کو چھوٹے قرضے دینے سے ہاتھ کھینچناشروع کر دیا ہے۔
امریکی معیشت کو بحران سے نکالنے کے لئے بنائے گئے امدادی منصوبے کی منظوری کا مشن کامیابی سے ہمکنارہوگا یا نہیں مگر امریکہ کےآئندہ صدر کے عہدے کے دونوں امیدوار وں نے اس منصوبے کو ناگزیر قرار دیا ہے۔صدر بش امریکی تاجروں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں تاکہ سینیٹ کی جانب سے پاس ہو جانے والے بل کو امریکہ کے کاروباری طبقے کی حمایت بھی حاصل ہو جائے۔
معیشت کو بحران سے نکالنے کے خواہش مندتو سب ہیں مگر موجودہہ ہفتے کے آغاز میں ایوان نمائندگان میں 700 ارب ڈالر کے منصوبے کو مسترد کئے جانے کی وجہ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی عوام کا دباؤ تھا جو موجودہ مالی بحران کی اثرات محسوس کررہے ہیں۔
اٹھاسی سالہ آرچی سمپسن اور ان کی بیگم روبرٹاواشنگٹن ڈی سی میں ریٹائرمنٹ کے دن گزار رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ بیل آوٹ منصوبہ ضروری تو ہے مگر وہ اس سے زیادہ خوش نہیں ہیں۔
دوسری جنگ عظیم کے دوران فائٹر پائلٹ کے طور پر خدمات انجام دینے والے آرچی سمپسن ایک سٹاک بروکر کے طور پر کام کرتے رہے ہیں اور اب اپنی بیگم کے ساتھ امریکی فوج کی ماہانہ پینشن پر زندہ ہیں۔انہوں نے اپنی پس انداز کی ہوئی رقم سٹاک کے کاروبار میں لگائی تھی مگر اس کے شئیرز کی قیمت حالیہ بحران کے دوران چالیس فیصد کم ہو چکی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ لالچ وہ چیز ہے جس سے مجھے سب سے زیادہ پریشانی ہو رہی ہے۔زیادہ پیسہ تو سب کمانا چاہتے ہیں مگر اپنا کام پورا نہیں کرنا چاہتے۔اور نہ ہی کوئی انہیں پوچھنے والا ہے
ان کی بیگم روبرٹا بیل آوٹ منصوبے کے حق میں نہیں ہیں ،انہوں نے 1930کے گریٹ ڈپریشن کا زمانہ دیکھ رکھا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ان کے والدین نے انہیں محنت کر کے کمانے اور ہر چیز کی قیمت ادا کرنے کا سبق دیا تھا جو ساری زندگی ان کے ساتھ رہا۔
وہ کہتی ہیں کہ میرے خیال میں بینک لوگوں کو بغیر داون پیمنٹ کے قرضے دے رہے تھے مگر آج کے زمانے میں بھی ایسا ہو سکتا ہے میری سمجھ سے باہر ہے۔
مگر سب لوگ اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے۔لی مٹ چم واشنگٹن کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ ہیں اور کئی سال سے سٹاک کے کاروبار میں رقم لگا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت بینکوں کے بے قیمت ہو جانے والے اثاثے خرید کر حالات بہتر ہونے پر ان سے فائدہ اٹھا سکتی ہے اور حکومت کے مزید قرضہ لینے سے اگر امریکہ میں افراط زر بڑھ گیا تو بھی وہ فائدے میں ہی رہیں گی۔
وہ کہتی ہیں کہ ایک طالبعلم کے طور پرچونکہ میراسٹوڈنٹ لون مقررہے۔اس لئے امریکہ میں افراط زر بڑھنے سے میرے سٹوڈنٹ لون کی قیمت کم ہو جائے گی۔تو مجھے تو ڈالر کی قیمت کم ہونے سے فائدہ ہی ہوگا۔
ادھر امریکہ میں چھوٹے کاروبار کرنےو الوں کے لئے بینکوں سے قرضہ لینااب آسان کام نہیں رہا۔بہت سے لوگ کاروبار کے لئے بینک کے قرض سے مایوس ہو کر اپنے کریڈٹ کارڈز استعمال کررہے ہیں۔
لنڈا ہیک مین کہتی ہیں کہ مجھے دکان سے چیزیں خریدنے کے لئے کریڈٹ کارڈ استعمال کرنا پڑ رہا ہے جس کا بل میں ہر مہینے ادا کر تی ہوں اور اگر بل ادا نہ کروں تو میں اپنے سٹور کے لئے کوئی سامان نہیں خرید سکتی۔
امریکہ کے وہ لوگ جو پہلے بینک سے چند دنوں میں دس لاکھ ڈالر سے زیادہ کا قرضہ منظور کرا لیتے تھے۔اب ایسا نہیں کر پارہے
امریکی بینک موجودہ بحران سے اتنے پریشان ہیں کہ قابل اعتبار کلائنٹس کو بھی نئے قرضے دینے سے ہچکچا رہے ہیں اور جو بینک قرضہ دینے کی پوزیشن میں ہیں انہیں یہ یقین نہیں کہ صارفین ان کی پراڈکٹس خریدنے کے قابل ہیں بھی یا نہیں۔
امریکی محکمہ معاشیات کے مطابق نجی شعبے میں کام کرنے والی امریکہ کی نصف افرادی قوت چھوٹے کاروبار وں کے ساتھ منسلک ہے۔۔اور اگر امریکی معیشت کی صورتحال درست نہ ہوئی تو چھوٹے کاروباری ادارے ملازمین کی چھانٹی کرنا شروع کر دیں گے۔جس سے بے روزگاری بڑھے گی اور امریکی معیشت کو ابھی ایک طویل سست روی کا سامنا کرنا پڑے گا۔واشنگٹن کے بروکنگز انسٹی ٰ ٹیوشن کے ساتھ وابستہ ایلس ریولین سمجھتی ہیں کہ صورتحال اتنی سادہ نہیں جتنی نظر آرہی ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ابھی تو معیشت کی صورتحال بہت غیر یقینی ہے مگر یہ طے ہے کہ اگر ہم کریڈٹس کی صورتحال بہتر نہیں کرتے تو ہمیں اس سے زیادہ سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔
معیشت کو بحران سے نکالنے کے لئے پیش کئے گئے تبدیل شدہ منصوبے میں کھاتے داروں کی بچت پر حکومت کی ضمانت ایک لاکھ ڈالر سے بڑھا کر ڈھائی لاکھ ڈالر تک کر دی گئی ہے۔اور بش انتطامیہ کو امید ہے کہ دونوں صدارتی امیدواروں کی حمایت یافتہ اس منصوبے کو اس مرتبہ ایوان نمائندگان سے منظوری کی سند مل ہی جائے گی۔